بھارت طالبان سے مذاکرات کا خواہاں کیوں؟ بھارت طالبان سے مذاکرات کا خواہاں کیوں؟

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھی افغانستان میں امریکا اور اس کی اتحادی قوتوں کو شکست دینے والے طالبان سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں ایران سے مدد طلب کی ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے بعد طالبان اقتدار میں آسکتے ہیں، اس لیے نئی صورت حال میں اسلام آباد کو افغانستان میں قدم جمانے سے روکنا ہوگا۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ افغانستان سے ممکنہ امریکی انخلاء کے بعد بھی مداخلت جاری رکھنے کے لیے بھارت سرکار بے چین ہے، یہی وجہ ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے واسطے ایران سے مدد طلب کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ افغانستان میں طالبان کا کردار چاہتے ہیں، لیکن ان کی بالادستی انہیں قبول نہیں۔ ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا افغانستان میں طالبان پر اثررسوخ ہے اور وہ اسے بھارت کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ اس کے لیے حال ہی میں طالبان سے مذاکرات کی مثال بھی دی گئی ہے۔ 
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے افغانستان سے فوجی انخلا کے اعلان پر بھارت کے اوسان خطا ہیں اور اسے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغانستان میں کی گئی سرمایہ کاری ڈوبتی دکھائی دے رہی ہے۔ یقیناً اس کی پہلی کوشش یہی ہے کہ نیٹو فورسز اس خطے میں رہیں اور اسے دہشت گردی کی آگ بھڑکائے رکھنے میں آسانی رہے۔ اس کے لیے کٹھ پتلی افغان حکومت سے بھی بھارتی حکام مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانیاں کروائی جارہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ بھارتی پالیسی ساز ادارے یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کل کو اگر امریکا اور نیٹو فورسز افغانستان سے نکلتے ہیں تو پھر ان کے مفادات کا تحفظ کیسے ممکن ہوسکے گا؟ اس مقصد کی خاطر انہوں نے افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے ایران سے مدد طلب کی ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہی وہ واحد ملک ہے، جس کا مفاد اس حد تک تو مشترک ہے کہ وہ طالبان کے افغانستان میں دوبارہ برسراقتدار آنے کے حق میں نہیں۔ 
اگرچہ طالبان سے مذاکرات کرنے میں کامیاب ہونا اور امریکی انخلاء کے بعد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف تخریب کاری و دہشت گردی جاری رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں رہے گا، تاہم اس سلسلے میں بھارتی پالیسی ساز ادارے اور حکومت ہاتھ پائوں ضرور مار رہے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی طرف سے نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فائونڈیشن کے زیراہتمام منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار انڈین پالیسی میں واضح تبدیلی کا عکاس ہے اور وہ خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں طالبان کے ساتھ میز پر بیٹھنے کو اپنی مجبوری سمجھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھارت کسی طور طالبان سے مذاکرات کے حق میں نہیں تھا اور افغان طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لیے نیٹو فورسز کو بھارت سرکار کی مکمل مددوحمایت حاصل رہی ہے، کیونکہ یہی وہ نیٹو فورسز تھیں، جن کی سرپرستی میں بھارت نے افغانستان میں اپنے پائوں جمائے اور قونصل خانے کھول کر انہیں تخریب کاروں کی آماجگاہ بنادیا۔ اسی طرح یہی وہ قونصل خانے تھے جہاں سے دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر پاکستان بھیجا جاتا رہا اور پھر سانحۂ اے پی ایس پشاور، جی ایچ کیو، مہران ایئربیس اور دیگر مقامات پر دہشت گردی کی بڑی وارداتیں کی گئیں۔ 
کون نہیں جانتا کہ کس طرح بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بار بار افغانستان کے دورے کرکے پاکستان میں دھماکے کرنے والے دہشت گرد گروہوں سے ملاقاتیں کرتے اور انہیں ہر ممکن وسائل فراہم کرتے رہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارت نے بے پناہ وسائل خرچ کیے اور کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ملک میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی، تاہم اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور بھارت سرکار کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے خواب بکھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بھارت اچھی طرح سمجھتا ہے کہ پاکستان اللہ کے فضل سے ایٹمی قوت ہے اور اب اسے روایتی جنگ کے ذریعے شکست دینا آسان کام نہیں، اس لیے شروع دن سے اس کی کوشش رہی ہے کہ وطن عزیز کو تخریب کاری و دہشت گردی کے ذریعے اندرونی طور پر عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ کنٹرول لائن پر آئے دن کی جارحیت بھی بھارت سرکار کی اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ ابھی دو دن قبل ہی کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے ایک خاتون کو شہید اور اس کے خاوند کو زخمی کردیا گیا۔ اس دوران پاک فوج کی طرف سے بھی بھرپور جوابی فائرنگ کی گئی، جس سے دشمن کی گنیں خاموش ہوگئیں۔ بھارت آئے دن کنٹرول لائن پر جارحیت کا ارتکاب خود کرتا ہے، لیکن جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف کیا جاتا ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں زبردست انداز میں جاری تحریک آزادی سے متعلق بھی بھارت بین الاقوامی سطح پر یہی ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے کہ پاکستان ہی حریت پسند کشمیریوں کی سرپرستی کررہا ہے، لیکن اس کا یہ بیانیہ دنیا اب تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی، ایمنسٹی انٹرنیشنل، او آئی سی اور دیگر ادارے اپنی رپورٹوں میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں جس طرح نہتے کشمیریوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنارہی ہے، کھلے عام کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیار استعمال کرکے معصوم بچوں، بچیوں اور نوجوانوں کی بینائی چھینی جارہی ہے، ایسی مثال دنیا کے کسی اور خطے میں دکھائی نہیں دیتی۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اس قدر عروج پر ہے کہ اب یشونت سنہا جیسے انتہاپسند بھارتی لیڈر بھی اعتراف پر مجبور ہوچکے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا اور محض بندوق کے زور پر نہتے کشمیریوں کو غلام بناکر رکھنا ممکن نہیں۔ دیگر انصاف پسند بھارتی طبقے بھی کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ بھارتی حکومت اور عسکری اداروں کو واضح خطرہ دکھائی دے رہا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد ایک طرف جہاں افغانستان میں اس کے مفادات کو نقصان پہنچے گا اور وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی جاری نہیں رکھ سکے گا،اسی طرح کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھی مزید تیز ہو گی۔ اسے اپنی بھاری بھر کم فوج وہاں بٹھائے رکھنا ممکن نہ ہو گا۔ یہی وہ حالات ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے بھارت افغان طالبان سے مذاکرات اور کسی نہ کسی حد تک افغانستان میں اپنی مداخلت برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کی یہ خواہش اب پوری نہیں ہو گی۔ وہ وقت ان شاء اللہ قریب ہے جب امریکی فوج افغانستان سے نکلے گی اور کشمیرمیں بھی آزادی کا پرچم لہرائے گا۔ بھارت زیادہ دیر تک اپنی دہشت گردانہ پالیسیاں جاری رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔