26 ستمبر 2018
تازہ ترین

بھارت: حالات حق میں کبھی تھے ہی نہیں! بھارت: حالات حق میں کبھی تھے ہی نہیں!

کانگریس اور اس کی ہمنوا پارٹیاں عموماً آر ایس ایس اور اس سے وابستہ جماعتوں و تنظیموں پر الزام تراشی کرتی ہیں، وہیں بی جے پی اور اس کی ہمنوا جماعتیں کانگریس کے گزشتہ پچاس سالہ دور اقتدار، اس کی کمیوں، خرابیوں، بے اعتدالیوں اور نفرت پر مبنی سیاست کے دوران منظرعام پر آنے والے مسائل کو خود انہی کے چشمے سے آئینہ دکھاتی ہیں۔ بھارت میں آزادی سے قبل فسادات کا سلسلہ جاری ہوا، جس نے ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کردیا، نیز ان فسادات کے ذریعے جہاں دو قوموں کے درمیان دُوریاں پیدا ہوئیں، وہیں جان و مال اور عزت و آبرو بھی پامال ہوئیں۔ بی جے پی کہتی ہے کہ یہ سب کانگریس کے دور اقتدار میں ہوا تو کانگریس (جو بھارت کی سب سے بڑی و منظم سیاسی جماعت ہے اور جس نے گزشتہ پچاس سال پُرسکون حالات میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی) کہتی ہے یہ سب فرقہ وارانہ اور متشدد لوگوں کے ذریعے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ عوام سمجھ نہیں پاتے کہ مسائل (جن سے آج وہ دوچار ہیں) میں کس سیاسی جماعت کا کتنا حصہ ہے اور کس کو وہ مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اقتدار سے برخاست کریں؟ وہیں دلچسپ معاملہ یہ بھی ہے کہ بھارت کا وہ پڑھا لکھا طبقہ جو گزشتہ پچاس یا ستر سالہ دور اقتدار دیکھ چکا ہے، حالات سے کسی حد تک باخبر ہے، معاملات جو جاری ہیں، ان سے بھی واقفیت رکھتا ہے، کبھی کانگریس کے خلاف بولتا اور لکھتا ہے تو کبھی متشدد سیاسی جماعتوں کے خلاف۔ اس کے باوجود وہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ حالات خراب کرنے میں کس کا کیا کردار ہے؟
واقعہ یہ ہے کہ ہر منظم، بامقصد اور حوصلہ مند فکر و نظریے کے حاملین اپنے افکار و نظریات پر پختہ یقین رکھتے ہیں، ساتھ ہی انہیں اُن پر مکمل اعتماد ہوتا ہے۔ انہیں اس بات کا ذرا خوف نہیں ہوتا کہ ہم اگر کسی شخص یا گروہ سے تعلق استوار کریں گے تو وہ اپنے مخصوص فکر و نظریے، مقصد و نصب العین اور طریقہ کار سے بھٹک جائیں گے۔ نتیجتاً ایسے افراد اور گروہ سے وابستہ ہر شخص خوداعتمادی سے لبریز ہوتا ہے۔ وہ سکڑا ہوا اور الگ تھلگ نہیں رہتا۔ بڑے پیمانے پر اور ہر طرح کے افراد و گروہوں سے تعلقات استوار کرتا ہے۔ اپنے فکر و نظریے کو فروغ دیتا ہے اور مقصد اور نصب العین میں درجہ بہ درجہ ترقی حاصل کرتے ہوئے منزل مقصود سے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔ طریقہ کار کوئی بھی ہو، کامیابی کا اصول یہی ہے کہ بڑے پیمانے پر تعلقات استوار کیے جائیں۔ اس پس منظر میں اگر بھارت میں موجود افکار ونظریات اور ان سے وابستہ جماعتوں کا جائزہ لیا جائے تو دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ راشٹریہ سیوک سنگھ سے وابستہ افراد و گروہوں نے آغاز ہی سے بڑے پیمانے پر تعلقات استوار کیے، اپنے مخصوص فکر و نظریے کے فروغ اور مقصد و نصب العین میں کامیابی کے حصول کے لیے ہر سطح پر اور ہر قسم کے افراد اور گروہوں سے راست یا بلاواسطہ وابستہ ہوئے۔ نیز یہ وابستگی اس حد تک بڑھی کہ مختلف سیاسی جماعتوں، تنظیموں، اداروں اور گروہوں میں اہم ترین عہدوں تک انہیں رسائی حاصل ہوئی۔ آج یہ بات اگر کہی جائے کہ بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں میں آر ایس ایس کی فکر سے وابستہ افراد بڑے پیمانے پر موجود ہیں اور بہت سے مقامات پر اہم ترین عہدوں پر فائز بھی ہیں، تو یہ بات مبالغہ آمیز نہیں کہلائے گی۔ آر ایس ایس کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے جماعتی اسٹرکچر اور رکنیت سازی پر زور نہیں دیا۔ برخلاف اس کے فکر و نظریے کا فروغ ہی سب کچھ ٹھہرا۔ لہٰذا بڑی تعداد میں ایسے افراد جو دیگر جماعتوں اور تنظیموں کے رکن ہیں، اِس کے باوجود وہ آر ایس ایس کی فکر و نظریے سے وابستہ ہیں۔ اور ان تمام مقامات پر جہاں کہیں بھی وہ موجود ہیں، اُس فکر و نظریے کے لیے سرگرم عمل ہیں یا کم از کم اس میں رکاوٹ نہیں ڈالتے۔ اِنہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج کہیں سافٹ ہندتوا، تو کہیں ہارڈ ہندوتوا کا نظریہ موجود ہے۔ ان دونوں ہی مقامات میں ایک چیز جو یکساں ہے وہ ہندتوا ہے جس کے فروغ میں یا اس میں رکاوٹ نہ ڈالنے میں، دونوں ہی مقامات پر بڑی تعداد میں افراد اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ موجود نظر آتے ہیں۔
آر ایس ایس اور اس کی ہمنوا جماعتیں جس منزل کی جانب گامزن ہیں اس میں رکاوٹ پیدا کرنے والی تین بڑی فکری و نظریاتی قوتوں کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے۔ (i)کمیونسٹ فکر اور اس نظریے سے وابستہ افراد۔ (ii)دلت جنہیں منووادی نظام میں شودر کہا جاتا ہے۔ اور نمبر (iii) مسلمان جو درج بالا تمام افکار و نظریات سے مختلف، بالاتر اور اپنی مخصوص شناخت رکھتے ہیں۔ بھارت میں کمیونسٹوں نے آزادی سے قبل ہی جدوجہد جاری کی تھی اور آزادی کے بعد دوریاستیں مغربی بنگال اور کیرلہ میں سیاسی بساط پر اقتدار بھی حاصل کیا۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ دونوں ہی ریاستیں ان کے ہاتھ سے جاتی رہیں اور فی الوقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خصوصاً مغربی بنگال ان کے ہاتھ میں دوبارہ آنے والا نہیں ہے۔ برخلاف اس کے کیرالہ بھی ان کی گرفت سے دُور ہے اور وہاں بھی دھیرے دھیرے ان کے لیے سیاسی زمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔ اس کے باوجود آر ایس ایس کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی مغربی بنگال میں اپنی زمین تلاش کررہی ہے، وہیں الگ گورکھا لینڈ ریاست کی آوازیں بھی بخوبی سنی جاسکتی ہیں۔ اور جو لوگ گورکھا لینڈ ریاست کی جدوجہد میں مصروف ہیں، ان کی پشت پہ فی الوقت کون لوگ مددگار ہیں؟ انہیں بھی بچشم دیکھا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی اچھی طرح دیکھی جاسکتی ہے کہ آئندہ دس بارہ سال میں مغربی بنگال کی سیاسی زمین کن لوگوں کے لیے ہموار ہوتی نظر آرہی ہے؟ کمیونسٹوں کے علاوہ دوسری طاقت ہندو سماج کا دلت طبقہ ہے جو بظاہر منووادی نظریے کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آزاد بھارت میں پہلے کانگریس نے اُن کا دل کھول کے استحصال کیا۔ متذکرہ طبقے کے چند لیڈران کو چھوٹے و بڑے عہدے دے کر ان کی آبادی کے بڑے حصّے کو اپنے لیے کارگر بنایا تو اب یہی کام بی جے پی کررہی ہے۔ اس کے باوجود 1984 میں کانشی رام نے شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائب اور دیگر پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر بہوجن سماج پارٹی تشکیل دی تھی، جسے بعد میں مایاوتی نے اپنے ہاتھ میں لے کر ذاتی پارٹی بنا ڈالا۔ اس خستہ حالی کے باوجود اس سے وابستہ طبقہ بہوجن سماج پارٹی کو اندھیری رات میں ٹمٹماتا ہوا سہارا سمجھتا ہے۔ چونکہ وہ صرف اپنی بنیاد پر اقتدار تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا اِس طبقے سے وابستہ قیادت ذاتی مفاد کی خاطر کبھی کانگریس کا دامن تھامتی ہے تو کبھی بی جے پی کا۔ نتیجتاً اندرون خانہ وہ مزید کمزور ہوجاتے ہیں اور فکری و نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود وہ اُنہی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، جن کے خلاف وہ کبھی متحد ہوئے تھے۔
فکری و نظریاتی اور معاشرتی اعتبار سے تیسری بڑی طاقت مسلمان ہیں، لیکن سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تعلیمی میدان میں آغاز ہی سے انہیں کمزور کیا گیا ہے، لہٰذا وہ اس حالت میں نہیں کہ فی الوقت منظم طاقت بن کے ابھریں۔ نیز یہاں بھی ذاتی مفادات ہر زمانے میں ابھرے ہوئے نظر آئے ہیں، جس کے نتیجے میں کبھی کانگریس پارٹی کو مسیحا سمجھا و سمجھایا گیا تو کبھی دیگر ریاستی جماعتوں کو۔ دوسری جانب مسلمانوں کو مسلکی اور ہندوانہ ذات پات کے نظام نے آج تک اس قدر گھیرے رکھا کہ ان کے درمیان اتحاد کی بنیادیں (جو ہر اعتبار سے مضبوط ترین تھیں) آنکھوں سے اوجھل ہوچکی ہیں۔ اس کی ایک معمولی مثال بھارت کے موجودہ حالات ہیں، جہاں حد درجہ خوف اور مسائل سے وہ دوچار ہیں۔ مسائل سے نمٹنے کے لیے وہ چند کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پس اسی دوران اگر کوئی مسلکی مسئلہ سامنے آجائے یا شادی بیاہ کا معاملہ تو وہ اپنے مخصوص مسلکی اور ذات پات کے نظام میں ذرا دیر کیے بغیر تعصبات میں مبتلا ہوکر وہیں لوٹ چلیں گے، جہاں سے وہ چلے تھے۔ اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ بظاہر چند لوگوں کا کسی کے خلاف اکٹھا ہوجانا دوسروں کی نیند حرام کردے گا، تو یہ خواب خرگوش سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔!
(جاری ہے)