21 ستمبر 2018
تازہ ترین

بھارتی سماج میں یک رنگی کے آثار نہیں! بھارتی سماج میں یک رنگی کے آثار نہیں!

ایک سو 30 کروڑ پر مشتمل بھارتی آبادی جس میں بے شمار ذاتیں، نظریات اور ثقافتیں موجود ہیں۔ اسے جب ایک سرسری نگاہ سے دیکھا اور دکھایا جاتا ہے تو دو قومیں اور دومذاہب میں تقسیم شدہ باور کرانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے۔ وہیں جس وقت یہ تقسیم اور بانٹنے کا عمل جاری ہوتا ہے اس وقت تمام نظریات اور انفرادیت پر مبنی قوموں کو نظرانداز کرنے کا عمل بھی شعور طور پر جاری ہوتا ہے۔ وجہ؟ صرف یہ کہ جو لوگ آغاز ہی سے پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی سے اتفاق رکھتے آئے ہیں، یا یہ کہیے کہ وہ اس پالیسی میں معاون رہے ہیں، ان کے لیے آج بھی یہ پالیسی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک سو 30 کروڑ کی آبادی والا ملک جس میں مختلف قبائل، معاشرتیں اور مذاہب موجود ہیں، انہیں صرف دو رنگوں کے سوا کوئی اور رنگ نظر نہیں آتا۔ لہٰذا وہ اس قدر عظیم آبادی کو صرف دو رنگوں میں رنگنے اور تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔ اس تنوع کی ایک شکل یہ ہے کہ بھارت کی 20فیصد آبادی شیڈول کاسٹ ہے جو قریباً26کروڑ کے لگ بھگ شمار ہوتی ہے۔ 9فیصد آبادی شیڈول ٹرائب ہیں، یہ بھی تعداد کے لحاظ سے 11.7کروڑ ہیں۔ 41فیصد بیک ورڈ کلاس میں شمار کیے جاتے ہیں اور یہ آبادی 53.3کروڑ ہے۔ اور 30 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پہچان درج شدہ طبقات سے الگ رکھی ہے اور یہ آبادی 39 کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ اسی میں 17فیصدمسلمان اور 2.3فیصد عیسائی بھی ہیں جو بالترتیب 22کروڑ اور 3.09 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ہیں۔ جس آبادی کا یہاں تذکرہ کیا گیا ہے، اگرچہ وہ ایک ہی ملک کے شہری ہیں اس کے باوجود ان کے معاشی، معاشرتی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ انہیں کامن پالیسی اور پروگرام کے تحت برابری کے مواقع میسر نہ ہوئے اور نہ ہی آئندہ ہونے کے امکانات ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان کے وہ مختلف نوع مسائل ہیں جو ایک کو دوسرے سے الگ کرتے ہیں۔ اور درحقیقت یہی ان کی شناخت بھی ہے۔
ایک اور طریقہ ہے جس کی بنا پر آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ بھارت کی ایک سو 30 کروڑ پر مشتمل آبادی اگرچہ اِس کی اکثریت بت پرستی کی قائل ہے اور اسی کے تحت وہ اپنی مذہبی رسوم ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود ان 
میں بے شمار دیوی دیوتائوں کی عبادت کا نظریہ موجود ہے۔ ان میںچند مشہور دیوی دیوتا شیوا، برہما، وشنو اور شکتی دیوی ہیں، مزید گنیش، لکشمی، شیشا، دُرگا، کالی، پاروتی، سرسوتی، گائیتری، وغیرہ مشہور ہیں۔ ہندوئوں کی مذہبی تاریخ کے حوالے سے اورموجودہ زمانے میں جاری عمل سے یہ بات مشہور ہے کہ ان کے دیوی دیوتائوں کی تعداد 3 سو 30 ملین ہے۔ ہر وہ چیز جو کسی بھی طرح سے انسان کو بظاہر فائدہ پہنچانے والی ہے یا وہ جو بظاہر نقصان پہنچاتی ہے، اسے دیوی یا دیوتا مان لیا جاتا ہے۔ اس کی تعریف کی جاتی ہے، اس کے آگے سجدہ کیا جاتا ہے، اس پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور اس سے عقیدت وابستہ کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے بھگوان یا اس کی شکل میں بھگوان موجود ہونا تصورکیا جاتاہے اور پھر اس کی عبادت کی جانے لگتی ہے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ عام ہو جاتا ہے۔ برخلاف اس کے سِکھ اور جین مذہب سے تعلق رکھنے والے نیز گوتم بدھ سے عقیدت رکھنے والے خود کو سناتن دھرم سے الگ مانتے ہیں اور اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ وہیں اِن تمام مذاہب اور معاشرتی رسم و رواج پر عمل کرنے والوں کے علاوہ ایک سو 30 کروڑ کی آبادی میں خاصی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو مورتی پوجا کے قائل نہیں۔ ایک اللہ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی مخصوص شناخت کے ساتھ اس ملک کا حصہ ہیں۔ نیز وہ لوگ بھی اسی آبادی کا حصہ ہیں جو ایک اللہ کے بجائے خدائی میں تین کا تصور رکھتے ہیں اور ان کی تعداد بھی کچھ کم نہیں، قریباً تین کروڑ سے کچھ زائد آبادی ان افراد کی بھی یہاں موجود ہے۔ 
بھارتی آبادی کی اس تقسیم میں دیکھا جائے تو ہر شہری اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے تعمیر و ترقی میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ آبادی کے اس متنوع تناظر میں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کو کسی پالیسی اور پروگرام سے آگے نہیں بڑھایا جاسکتا، کیونکہ یہاں بھی مختلف شناخت رکھنے والے افراد کے مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس لیے ایسے لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ایک ہی رنگ میں پورا ملک رنگ جائے، وہ غلط ہیں۔اس سے نہ ملک کے اور نہ ہی اہل ملک کے مسائل حل ہونگے اور نہ ہی کوئی بھی طبقہ یا گروہ ایک مخصوص رنگ میں رنگنے کے لیے خود کو تیار پاتا ہے۔
بھارت کی ایک سو 30 کروڑ کی آبادی کی تقسیم کا ایک اور زاویہ ہے اس لحاظ سے بھی اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اس میں ہمارے سامنے ملک میں موجود مختلف سیاسی پارٹیوں کا قیام واستحکام کا عمل سامنے آتا ہے۔ اگرچہ ہر سیاسی پارٹی اپنے دستور میں یہی درج کرتی ہے کہ وہ ملک اور اہل ملک کے مسائل کو حل کرنے، ان کی پریشانیوں کو دور کرنے، ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے باوجود ظاہر ہے کہ فی زمانہ سیاسی پارٹیاں ملک کی آبادی کو مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کرنے کا ذریعہ بنی ہیں اور آج بھی یہ کھیل جاری ہے۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو فی الوقت بھارت میں بڑی پارٹیوں میں شمار ہونے والی سیاسی پارٹی، انڈین نیشنل کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی، بہوجن سماج پارٹی،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جَنتا دَل، عام آدمی پارٹی، آل انڈیا ترنمول کانگریس، AIADMK، AIUDF، DMK، JKNPP، JKPDP، جنتا دَل سیکولر، جنتادَل یونائٹیڈ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ نیز ان کے علاوہ بھی ایک طویل فہرست اُن پارٹیوں کی موجود ہے جو وقتاً فوقتاً ریاستوں میں اور ملکی سطح کے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور کچھ نہ کچھ فیصد ووٹ بھی حاصل کرتی ہیں۔ یہ تمام سیاسی پارٹیاں جن 
کا تذکرہ کیا گیا وہ صرف سیاسی پارٹی ہی نہیں بلکہ ان میں سے بیشتر سیاسی پارٹیاں نظریاتی ہیں، جس کی بنا پر وہ خود کو دوسرے سے الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان پارٹیوں سے وابستہ افراد بلالحاظ مذہب و ملت، ان سیاسی پارٹیوں کے نظریات سے بھی وابستہ ہیں اور اپنی مخصوص شناخت کے ساتھ عوام کے سامنے آتے ہیں، وہیں اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ایک سو تیس کروڑ کی آبادی والا ملک اِن سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ بھی تقسیم ہوتا رہا ہے۔ ساتھ ہی ہر ایک پارٹی، دوسرے کو زیر کرنے کے لیے مختلف جائز و ناجائز طریقہ بھی اختیار کرتی آئی ہیں تاکہ وہ اقتدار سے لطف اندوز ہوسکیں۔ لیکن شہریوں کی یہ تقسیم حد درجہ ہلاکت خیزاُس وقت ہوجاتی ہے جب اِس تقسیم کا حصہ بننے کے نتیجہ میں وابستہ افراد کو اقتدار کی کرسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، وہ ہر لمحہ یہی غور و فکر اور تگ و دو کرتے نظرآتے ہیں کہ کس طرح دوسرے کی کرسی کو جلد از جلد ہتھیا لیا جائے اور کس طرح وہ دوسرے کو اقتدار سے دور کردیں۔
درج بالا گفتگو کے نتیجہ میں یہ بات خوب اچھی طرح سے واضح ہوجانی چاہیے کہ ایک سو تیس کروڑ کی آبادی کسی بھی لحاظ سے متحد نہیں، سوائے اس کے کہ انسانی بنیادوں پر اسے ایک سمجھا جائے۔وہیں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ جو لوگ بے شمار منصوبوں پر ایک ساتھ عمل کرتے ہوئے بھارتی آبادی کو صرف ایک رنگ میں رنگنے اوراس کے لیے انہیں تقسیم کرنے کے منصوبوں پر کاربند ہیں، انہیں جلد کامیابی حاصل ہونے والی نہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اگر تمام ہی لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ جائیں اور انسانی بنیادوں پر مسائل کے حل کے لیے نہ کھڑے ہوں تو ان کی کامیابی کے دروازے بظاہر کھلے نظر آتے ہیں۔لیکن بھارتی سماج کے خمیر میں جس کا ہر ایک حصہ دوسرے سے جدا ہے، اِس کے آثار نظر نہیں آتے۔ ہاں اگر بزور قوت ایک رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجہ میں ملک کی سالمیت کو خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ملک کی بقا، سالمیت اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ان تمام آئینی طریقوں کو مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے آزمانے کی خاطر اٹھ کھڑا ہوا جائے جو اس میں ممدومعاون ہوں!