17 نومبر 2018

بھارتی آبی جارحیت اورکشمیر! بھارتی آبی جارحیت اورکشمیر!

پاک بھارت آبی تنازع پر مذاکرات میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے پکل ڈل اور لوئر کلنائی کے منصوبوں پراعتراض بدستور برقرار رکھا ہے۔ اس سلسلے میں انڈس واٹرکمشنرز کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے جب کہ بھارتی وفد کی قیادت پی کے سیکسینا نے کی۔ مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستانی حکام نے دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے پکل ڈل اور لوئر کلنائی پن بجلی کے منصوبوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پکل ڈل پن بجلی گھر کی جھیل بھرنے اور وہاں سے پانی چھوڑنے کا پیٹرن بھی واضح کیا جائے۔ 2013سے اب تک ان منصوبوں پر مذاکرات کے سات راؤنڈ ہوچکے ہیں۔
قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرا ر دیا تھا۔ آج بھارتی فوج جس طرح وہاں پاکستانی پانیوں پر قبضہ کرکے ڈیم بنارہی ہے اور جموں کشمیر کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے، اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اس وقت کہی گئی بات کس قدر درست ہے؟ اس خوبصورت خطے کا فطری الحاق بھی پاکستان سے بنتا ہے۔ اگر کشمیری قوم پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتی ہے تو وہاںسے بہنے والے سارے دریائوں کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہے مگر افسوس پچھلے 71 برس سے بھارت نے آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور ناصرف کشمیریوں پر بدترین مظالم کے ذریعے ان کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں بلکہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی دریائوں پر غیر قانونی ڈیم تعمیر کرکے وطن عزیز کو دفاعی لحاظ سے بھی سخت نقصانات سے دوچار کیاجارہا ہے۔ 
بھارت سرکار کشمیر کے ریاستی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔ زمین اور پانی کشمیر کا استعمال ہورہا ہے، صورتحال یہ ہے کہ یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی اور پانی استعمال میںلاتے ہوئے بھارت اپنے ریگستان آباد اور شہر روشن کررہا ہے مگرکشمیری عوام بجلی سے محروم ہیں۔ بھارت کی ڈیم تعمیر کرنے والی سب سے بڑی کمپنی این ایچ پی سی کے زیر انتظام کشمیر میں کئی بڑے منصوبہ جاتے ہیں جس کے عوض کشمیرکو صرف بارہ فیصد بجلی ملتی ہے اور ریاستی حکومت کو 2 ہزار 5سو کروڑ کی بجلی خرید کر خرچ کرنا پڑتی ہے جبکہ صارفین سے بجلی فیس کی صورت محض 576 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے، بقیہ رقم خسارے میں جاتی ہے۔ موسم سرما میں کشمیر کو قریباً ساڑھے 14سو میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے مگرریاستی حکومت صرف 7سو میگاواٹ مہیا کرسکتی ہے۔ کشمیر میں قائم تین بڑے بجلی گھروں سے شمالی بھارت کو بجلی فراہم کی جاتی ہے اور جن کی زمین اور پانی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، وہ گھپ اندھیرے میں ڈوبے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں کشمیریوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے بھی کیے مگر بھارت سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
 ریاست جموںکشمیر کو دفعہ 370 اور 35اے کے تحت خصوصی حیثیت حاصل ہے اور ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر یہاں کی اراضی کو استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، تاہم این ایچ پی سی نے مقبوضہ کشمیر میں قائم کردہ تمام پن بجلی منصوبوں کو اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے اور اس کی رائیلٹی کشمیرکو دی جاتی ہے اور نہ معاہدوں کی مدت پوری ہونے کے باوجود یہ پروجیکٹ ریاستی حکومت کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ 
حریت جماعتوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے اکثر و بیشتر احتجاج کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ریاستی اسمبلی میںبھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھرپور آواز اٹھائی جاتی رہی، جس پر کٹھ پتلی حکومت نے این ایچ پی سی کو سلال ہائیڈروپروجیکٹ کے ضمن میں معاہدے سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا کہاتو مذکورہ کمپنی نے صاف انکارکرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں بہت پرانی ہوچکی ہیں، ان کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں۔ این ایچ پی سی نے اپنے جوابی خط میں لکھا کہ بھارت ایک طاقت ور ملک ہے اور اس کا حق بنتا ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کی اراضی پر کچھ بھی تعمیر کرسکتا ہے اور اس سلسلے میں اس ملک کو کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ 
این ایچ پی سی بھارت میں بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے، لیکن وہ مرکزی حکومت کی ایک ذیلی کارپوریشن ہے جسے محض تجارتی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ وہ کوئی ایسا حکومتی ادارہ نہیں جو عوامی نمائندگی کا دعویدار ہو۔ اس کے برعکس ریاستی اسمبلی اور اس کے اراکین کی جانب سے بے بسی کا اظہار کرنا ان کی بے چارگی ظاہر کرتا ہے۔کشمیری جماعتیں اورسول سوسائٹی این ایچ پی سی کو کافی عرصہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی سے مشابہت دیتے آئے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ این ایچ پی سی نے سلال، اوڑی (اول)اور ڈول ہستی پروجیکٹوں کی تعمیر پر خرچ کی گئی رقوم کئی گنامنافع سمیت وصول کرلی ہیں لہٰذا معاہدوں کے اعتبار سے یہ پروجیکٹ ریاستی ملکیت ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ریاست کے حوالے نہیں کیے جارہے۔
دیکھا جائے تو این ایچ پی سی ایک ایسی استحصالی کارپوریشن ہے جوجموں کشمیر کے اقتصادی وسائل پر سانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھی ہے۔ ایک طرف جموں کشمیر میں ریاستی وسائل کی یوں لوٹ مار جاری ہے تو دوسری جانب بھارت سرکار پاکستانی دریائوں پر ہی نہیں ندی نالوں پر بھی ڈیم بنارہی ہے تاکہ پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کو مکمل روکا جاسکے۔ اسی مذموم منصوبہ بندی سے متعلق مودی نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی جانب جانے والے پانی کی ایک ایک بوند روکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی سرکار اپنی ان گھنائونی سازشوں پر تیزی سے عمل درآمد کررہی ہے۔ انڈیا بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ متنازع ڈیموں کی تعمیر کے ذریعہ ایسی صورتحال پیدا کردے کہ جب چاہے پانی روک کر پاکستان کی فصلیں برباد کرسکے اور جب چاہے پانی چھوڑ کر سیلاب سے تباہی پھیلادے۔ 
سابق پاکستانی حکومتوں نے اس سلسلے میںمجرمانہ غفلت سے کام لیا اور انڈیا کو ڈیموں کی تعمیر کے لیے کھلی چھوٹ دیے رکھی۔ پاکستان اور بھارتی حکام کے درمیان پکل ڈل اور لوئر کلنائی پن بجلی کے منصوبوں پر حال ہی میں مذاکرات ہوئے اور پاکستان نے ان منصوبوں پر اعتراضات بھی اٹھائے لیکن بھارت کا شروع دن سے وتیرہ رہا ہے کہ وہ مذاکرات میں الجھائے اور دوسری جانب متنازع منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری رکھتا ہے۔ اب تک اس حوالے سے جتنے بھی مذاکرات ہوئے ہیں، کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ ضروری ہے کہ نومنتخب حکومت سابق حکومتوں کی طرح ڈنگ ٹپائو پالیسی اختیار کرنے کے بجائے اس انتہائی حساس معاملے پر مضبوط حکمت عملی ترتیب دے، تاکہ بھارتی آبی دہشت گردی کو فی الفور روکا جاسکے وگرنہ آئندہ دنوں میں پاکستان کو معاشی و دفاعی لحاظ سے مزید نقصانات اٹھانے پڑسکتے ہیں، جس کی قوم متحمل نہیں ہوسکتی۔