24 مارچ 2019
تازہ ترین

بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت و اہمیت بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت و اہمیت

یوں تو پاکستان میں علم و ادب کی مجموعی صورتحال ہی خاصی مخدوش نظر آتی ہے لیکن بچوں کے ادب، خاص طور پر بچوں کے سائنسی ادب کے حوالے سے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ملکی و سماجی سطح پر سائنسی طرز فکر کی عدم موجودگی کی وجہ سے بچوں کے ادیبوں کی توجہ مذہبی، اخلاقی اور روایتی قصے کہانیاں لکھنے پر مرکوز رہی۔ یوں تو دنیا کی ادبی تاریخ میں ایسے بے شمار ادیب گزرے ہیں جنہوں نے نامصائب اور مشکل ترین حالات میں صحت مند اور بامقصد ادب کے ذریعے معاشرے میں سماجی و سیاسی انقلاب برپا کیے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک اور معاشرے کے مجموعی حالات و نظریات ادیبوں کی سوچ و فکر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یوں تو پاکستان میں شروع سے ہی سرکاری سرپرستی میں مذہبی بنیاد پرستی کی ترویج کی بالواسطہ و بلاواسطہ کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن ضیا دور میں ہونیوالے اسلامائزیشن کے سطحی عمل نے ملک اور معاشرے کے مقاصد اور معیارات ہی تبدیل کر کے رکھ دیے۔ ضیا دور سے پہلے کا پاکستان کافی حد تک روادار اور ترقی پسند تھا لیکن امریکی سامراج کے عزائم کی تکمیل کیلئے لڑی جانے والی پراکسی وار نے پاکستانی سماج میں فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کی جڑوں کو مضبوط کر کے انتہا پسندی اور عدم برداشت جیسی برائیاں پیدا کیں۔ تعلیمی نصاب میں سائنسی تصورات کے بجائے مذہبی و نظریاتی عناصر کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے سے نئی نسل سائنسی انداز فکر اپنانے میں ناکام رہی۔ سائنس بمقابلہ ادب، سائنس بمقابلہ مذہب اور دنیا بمقابلہ دین کی دوئی (duality) نے معاشرے میں سائنسی طرز فکر کے فروغ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
بچوں کا ادب نئی نسل کی تربیت میںکلیدی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں عملی زندگی کی مناسب رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بھی ہمارا بچوں کا ادب جنوں، پریوں اور شہزادوں کے روایتی قصے کہانیوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔ اس حقیقت میں کوئی کلام نہیں کہ جن اقوام اور معاشروں نے اپنے بچوں کے علم و ادب کی بنیاد وقت کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اور سائنسی بنیادوں پر استوار کی وہ نا صرف منفی رجحانات سے محفوظ رہے بلکہ وہاں انسانی قدروں کے احترام اور تحمل مزاجی جیسے مثبت رجحانات کے فروغ کے علاوہ پُر اعتماد انداز میں ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی روش پنپ رہی ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کے سائنسی ادب کے حوالے سے اس لیے بھی قابل ذکر کام نہیں ہو سکا کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے سائنس کو غیر ضروری سمجھتے ہیں جبکہ سائنس لکھنے والے ادب کو حقیر سمجھتے ہیں۔ بچوں کا معیاری ادب تخلیق نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ بچوں کے ادیبوں کو ادیب سمجھا ہی نہیں گیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک طرف اردو ادب کے فروغ کے لیے بنائے گئے ادارے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہے تو دوسری طرف دقیانوسی اور روایتی سوچ رکھنے والے افراد سائنس اور ٹیکنالوجی کے سرکاری اداروں کے سربراہ رہے جس کی وجہ سے نہ تو ملک میںمعیاری علم و ادب فروغ پا سکا اور نہ ہی معاشرے میں سائنسی طرز فکر پروان چڑھ سکا۔
پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بچوں کے ادیبوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہیں نا صرف اپنی ادبی تخلیقات کو جدید سائنسی تقاضوں اور عملی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا چاہیے بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں کو انتہا پسندی و دہشت گردی اور تعصب وعدم برداشت جیسی مہلک برائیوں کے مضر اثرات سے آگاہی بھی دینی چاہیے۔ اگر ہمارے بچوں کے ادیب آنے والے کئی سال تک بیک وقت یہ دونوں کام احسن انداز میں سرانجام دیتے رہیں تو نا صرف معاشرے میں سائنسی طرز فکر رواج پا سکتا ہے بلکہ پُرامن اور خوشحال پاکستان کے خواب کو عملی تعبیر بھی مل سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سائنسی طرز فکر کے بجائے توہم پرستی اور اندھی تقلید کا رواج ہے۔ بچوں کے ادب کو سائنسی رنگ میں پیش کرنے سے بچوں کے اذہان سائنسی ایجادات و اختراعات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ہمارے کچھ سرکاری و غیر سرکاری ادارے بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت و اہمیت کا ادراک کرنے لگے ہیں۔ ایک طرف اردو سائنس بورڈ بچوں کے سائنسی ادب کے فروغ  کے لیے قابل ذکر خدمات سر انجام دے رہا ہے تو دوسری طرف بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے کوشاں اکادمی ادبیات اطفال اور پاکستان چلڈرن سوسائٹی جیسے ادارے گزشتہ چند سال سے تسلسل کے ساتھ ’’قومی کانفرنس برائے ادب اطفال‘‘ کا انعقاد کر رہے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ چند سال میں بچوں کے ادب سمیت علم و ادب کی ترویج کیلئے مربوط کوششوں کا آغاز ہوا ہے لیکن بچوں کے معیاری ادب، بالخصوص سائنسی ادب کی تخلیق کے حوالے سے بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ حکومتی و نجی اداروں کی سرپرستی میسر نہ آنے کی وجہ سے گزشتہ دو تین دہائیوں میں بچوں کے کئی رسائل و جرائد بند ہو چکے ہیں۔ حکومت کے کرنے کا سب سے اہم کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ قومی اخبارات کی طرح بچوں کے ادبی و سائنسی رسائل کو سرکاری اشتہارات دینا شروع کرے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں میں بھی جدید سہولیات سے آراستہ لائبریریوں کا قیام لازمی قرار دیا جائے۔ لائبریری پیریڈ میں بچوں کو معیاری سائنسی کتابوں کے مطالعے کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ مطالعہ میں دلچسپی رکھنے والے بچوں کو ایک ایک ہفتے کے لیے معیاری ادبی و سائنسی کتابیں گھروں میں پڑھنے کے لیے جاری کی جائیں۔ ایسا کرنے سے گھروں میں بچوں کے کمپیوٹر اور موبائل پر قیمتی وقت ضائع کرنے کی منفی روش میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بچوں کے سائنسی ادب کے فروغ کیلئے حکومتی سرپرستی میں سائنسی ادب کی مشہور و معروف عالمی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی بچوں کا سائنسی ادب تخلیق کرنے پر توجہ دی جائے۔ بچوں کے سائنسی ادب لکھنے والے ادیبوں کو سائنسی ادب کو حتی المقدور حد تک آسان اور دلچسپ پیرائے میں بیان کرنا چاہیے۔ قومی اور صوبائی سطح پر ہونے والی ادبی کانفرنسوں میں بچوں کے ادب پر الگ سے سیشنز رکھے جائیں اور بین الصوبائی اور بین الاقوامی ادبی وفود کے تبادلوں میں بچوں کے ادیبوں کو نمائندگی ملنی چاہیے۔ خصوصی مراعات و ایوارڈز کا اعلان کر کے ادیبوں کو بچوں کا معیاری سائنسی ادب تخلیق کرنے پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ تصور رائج ہو چکا ہے کہ جدید سائنسی ایجادات کی طرح سائنسی ادب کی تخلیق بھی مغرب کی ذمہ داری ہے۔ بچوں کے سائنسی ادب کے فروغ کی راہیں ہموار کرنے کیلئے حکومتی سطح پر ادیبوں کو سائنس اور سائنسی ذہن رکھنے والے افراد کو ادب کے قریب کیا جائے۔ بچوں کے سائنسی ادب کو پروموٹ کرنے کیلئے معاشرتی سطح پر سائنسی بیانیے کو فروغ دینا ناگزیر ہے اور معاشرتی سطح پر سائنسی بیانیے کو قبولیت عامہ بخشنے کیلئے مغرب کی طرز پر معاشرے میں پاپولر سائنس کے تصور کا فروغ اشد ضروری ہے۔