18 ستمبر 2018
تازہ ترین

بنجر معیشت میں ایک کروڑ نوکریاں بنجر معیشت میں ایک کروڑ نوکریاں

ہم کو یہ اعتراف کرنے میں کوئی امر مانع نہیں۔ ہم سیاستدان ہیں نہ دانشور، اکانومسٹ یا ماہر معیشت ہونا دور کی بات ہے ہم تو صرف ایک کالمسٹ ہیں، ہم کو بس پیالی میں طوفان اٹھانا آتا ہے۔ یہ طوفان اٹھتے ہیں تو ہمارے لیے روٹی روزگار کے وسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہم خوش ہیں کہ سب کے پسندیدہ اور محبوب وزیراعظم نے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے کے بعد اپنا ’’ایفائے عہد‘‘ شروع کر دیا ہے، یعنی وہ جو انتخابی مہم کے دوران دعوے اور نعرے لگائے تھے ان پر عملدرآمد کے امکانات تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ٹاسک فورس اور کمیٹیوں نے اپنا کام شروع کر کے ترجیحات کے ساتھ تجاویز مرتب کر کے حسن کارکردگی کی طرف پیش رفت کر دی ہے۔ یہی متحرک اور فعال لیڈر شپ کی نشانی ہے یقیناً اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے۔
اس دوران میں اگر ہیلی کاپٹر کی اڑانوں کا تذکرہ ہوا ہے، اسے بھی پیالی کے طوفانوں میں اڑانے کی کوششیں ہوئی ہیں یا پھر نئے وزیراعلیٰ کے پاس بیٹھ کر خاتون اول کو شادی کیلئے اپنا گھر پیش کرنے والی خاص دوست اور اس کے شوہر نے سابق شوہر سے زیادتی کرنے والے پولیس افسر کی سرزنش ہوئی ہے، اسے افسر بکار خاص بنا دیا گیا ہے۔ پھر نئے پاکستان کی نئی ٹیم کے سب سے زیادہ تجربہ کار وزیر نے پروٹوکول کے ساتھ تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے موٹر سائیکلوں کے مالکان سے برہمی کا اظہار کیا ہے، انہیں چھوٹی موٹی دھمکیاں بھی دی ہیں تو ان باتوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ شروع شروع میں ایسی غلطیاں ناتجربہ کاری کی بنا پر ہو جاتی ہیں۔ ہمیں بس یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ نئے صادق اور امین پاکستان کی تخلیق کا آغاز ہو گیا ہے، ویسے بھی پندرہ دنوں میں بھلا اور کیا ہو سکتا تھا۔ بہرحال ہم تو خوش ہیں کہ اس غریب، بے بس اور لاچار پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے، بیروزگاری اور غربت کے خاتمہ اور وسائل روزگار پیدا کرنے پر عملی پیش رفت ہو گئی ہے، لہٰذا اس ملک کی چالیس فیصد سے زائد نوجوان آبادی یعنی 9کروڑ سے زائد بیس سے پینتیس سال کے نوجوانوں کیلئے، جس میں سے ساٹھ فیصد بیروزگار ہیں ان میں سے، ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی کیلئے حکمت عملی، منصوبہ بندی اور تجاویز مرتب کرنے کو کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ وہ نوے دنوں میں اپنی سفارشات تیار کر کے سب کے پسندیدہ اور محبوب وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
اس کمیٹی کی تجاویز و سفارشات پر عملدرآمد کیسے ہو گا؟؟ یا ان تجاویز پرروایتی انداز میں ایک اور عملدرآمد کمیٹی بنے گی؟؟ یہ سوچنا اور اس پر پریشان ہونا ہم ایسے بے اختیار اور لاچار لوگوں کا کام نہیں۔ ہم کو بس اپنے ذہن کو مثبت رکھنا چاہیے۔ ایک اچھے امید پرست کی طرح خیر کی توقع رکھنی چاہیے۔
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ایک ایسے ملک میں جہاں بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے بند ہو چکے ہیں، پاکستانی سرمایہ کار بھی اپنی دولت اور وسائل، مہارت اور صنعت بیرون ملک لے جا چکے ہیں، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے سنگین ماحول نے انہیں دیس نکالا لینے پر مجبور کر دیا تھا تو بیرون ملک سے سرمایہ کاری کیسے آئے گی اور صنعتی ترقی کے امکانات کیسے پیدا ہوں گے؟؟؟ محض سی پیک پر نگاہیں  مرکوز کر کے تو خواہشیں پوری نہیں ہو سکتیں۔ کچھ الزامات کے باوجود یہ صحیح ہے کہ طالبان اور دیگر تشدد پسند تنظیموں کا بہت حد تک خاتمہ ہو چکا ہے لیکن پھر بھی انتہا پسندی اور اس کی سرپرستی کے اشارے اور سائے بھی موجود ہیں۔ لہٰذا اگر اس تناظر میں زمین کے کسی پراسرار گوشے سے یہ سوال ابھر آتا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں؟؟ کہاں سے اور کیسے؟؟ تو اس پر اگر کوئی حیرت ہوتی ہے تو یہ فطری ہے۔
ویسے بھی سرکاری شعبہ تو پہلے ہی ’’افرادی قوت‘‘ کے شدید دباؤ میں ہے۔ کوئی ادارہ کوئی محکمہ ایسا نہیں ہے جہاں ضرورت سے زیادہ سیاسی اور غیر سیاسی بھرتیاں نہیں ہو چکیں۔ وہ خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں، اس بوجھ سے ان اداروں کی اپنی کمریں دوہری ہو چکی ہیں۔ ان کا اپنے پاؤں پر سیدھا کھڑا ہونا مشکل ہے، انہیں پرائیویٹ شعبے کے حوالے کرنے کی تجویز اور دباؤ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق
 دو سو سے زائد ایسے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ادارے ہیں جنہیں پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، لیکن عوام کے خوف سے ان پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو رہا۔ ویسے بھی ان کے ملازمین کو فارغ کرنے کیلئے پیسے چاہئیں یا پھر انہیں دیگر اداروں میں ایڈجسٹ کرنا لازم ہو گا۔ یہ ادارے پورس کے ہاتھی بنے ہوئے ہیں، نہ انہیں سنبھالا جا سکتا ہے نہ ان سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ یہ معیشت اور معاشرت دونوں کیلئے تباہ کن بنے ہوئے ہیں۔
تو صاحبو! ایسے میں ایک کروڑ نوکریاں کیسے اور کہاں سے پیدا ہوں گی۔ یہ کوئی خود رو جھاڑیاں تو نہیں جو اس بنجر اور تھور معیشت سے باہر نکل آئیں گی اور انہیں قابل استعمال بنایا جائے گا۔ یہ الگ بات کہ ان خود رو جھاڑیوں کو بھی استعمال کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہو گی۔ اس کیلئے ہم نے دعویٰ تو یہ بھی کیا تھا حکومتی ادارے اور محکمے چلانے کو 342 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کو صرف ایک سال میں آٹھ سو ارب تک پہنچائیں گے یعنی ٹیکس آمدنی میں دو گنا اضافہ ہو گا؟؟ مگر کیسے؟؟ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہو گا یا پھر ٹیکس نظام کی اصلاح کے بعد اس پر صادق اور امین افراد تعینات ہوں گے؟؟ وہ سرکاری وسائل کا بھی بہترین استعمال کریں گے اور عوام کے خون پسینے کی کمائی کا تصرف بھی پوری دیانت سے کریں گے۔ اس طرف جب توجہ مبذول ہوتی ہے تو اپنی سادگی اور خوش فہمی پر ترس آتا ہے۔
بقیہ: پس حرف