25 مئی 2019
تازہ ترین

بلاول نواز ملاقات۔ تیمارداری یا کچھ اور…؟ بلاول نواز ملاقات۔ تیمارداری یا کچھ اور…؟

پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف آج کل انتہائی مشکل حالات کا شکار ہیں، ایک طرف وہ کئی پیچیدہ بیماریوں کی لپیٹ میں ہیں تو دوسری جانب وہ اپنی بیماری کا علاج کرانے کے لیے آزاد نہیں۔ ان کے مخالفین کے مطابق اپنے دور اقتدار میں انہوں نے جو گانٹھیں ہاتھوں سے باندھی تھیں، وہ اب دانتوں سے بھی نہیں کُھل رہیں، اسے شاید قسمت کا ستم کہا جاسکتا ہے کہ انسان ایک وقت میں کتنا بے بس ہوجاتا ہے، جب وہ طاقت میں ہوتا ہے تو اس بارے سوچتا بھی نہیں۔ حالانکہ یہ ایک فطری امر ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ 
العزیزیہ مل کیس میں نیب عدالت سے سزا پانے والے نواز شریف ایک ماہ سے زائد عرصے سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں، جہاں ان کی حالت مزید خراب ہوچکی ہے، تاہم ان کی ’بگڑتی طبیعت‘ کی وجہ سے ان کے ذاتی معالج اور خاندان جیل سے رہائی کا خواہش مند ہے۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کے مطابق ’نواز شریف ایک ہی وقت میں کئی طبی پیچیدگیوں کا شکار ہیں اور انہیں ہسپتال میں علاج کی فوری ضرورت ہے۔ نواز شریف ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے ساتھ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ اس کے ساتھ انہیں گردے کی سٹیج تھری کی بیماری کی تشخیص بھی کی گئی ہے۔ سٹیج 3 کرانک کڈنی ڈیزیز یعنی سی کے ڈی کا مطلب ہوتا ہے کہ اس مرض میں مبتلا شخص کے گردوں کو معتدل نوعیت کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ ڈاکٹر عدنان خان کا کہنا تھا ’نواز شریف کو گردے کی بیماری حالیہ تشخیص ہے۔‘ سٹیج 3 سی کے ڈی میں انسان کے گردے میں نصب فلٹرز یعنی گلومیرولائے سے فی منٹ گزرنے والی خون کی مقدار میں کمی آتی ہے، یعنی خون صاف کرنے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔
ایک طرف قید دوسری جانب شدید بیماری اور تیسرا انہیں علاج کی آزادانہ سہولت میسر نہیں، جس پر میڈیا میں بھی اب تواتر سے آنے لگا ہے کہ انہیں علاج کی آزادانہ سہولت فراہم کی جائے، اسی حوالے سے خالصتاً انسانی ہمدردی کی بناء پر گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی، جس پر طرح طرح کی چہ میگوئیوں کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے افواہ ساز فیکٹریوں کی کئی پروڈکٹ مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں۔ 
کئی سیاسی حلقے اور تجزیہ کار جہاں بلاول بھٹو کی فہم و فراست اور مدبرانہ سیاسی کردار کی تعریف کررہے ہیں تو وہیں سابق وزیراعظم سے ملاقات کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔ ان تجزیہ نگاروں اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں بڑھتے روابط عمران خان کی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ بلاول نے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ایک گھنٹے پر محیط ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے نواز شریف کی عیادت کے ساتھ، ان سے ملک کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کے سابق سربراہ نواز شریف کافی بیمار لگ رہے تھے۔ بلاول کے بقول، دل کے مریض کا علاج اسے ذہنی دباؤ میں رکھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ افسوس ناک امر ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو جیل میں اس طرح رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول قیدی کو علاج کی سہولتیں دینا حکومت کی ذمے داری ہے۔ پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ نواز شریف کو ان کی مرضی کے مطابق علاج کی سہولت فراہم کرے، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اور کسی کی بے عزتی نہیں ہونی چاہیے۔ 
صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں بلاول کا کہنا تھا کہ اگرچہ نواز شریف سے ملاقات خالصتاً ان کی تیمارداری کے حوالے سے تھی، لیکن اس میں میثاق جمہوریت پر بھی بات ہوئی۔ چیئرمین پی پی پی نے بتایا کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کو مضبوط بنایا جائے گا۔  انہوں نے بتایاکہ نواز شریف اپنے اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی ناکامی ہے کہ دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت پر پوری طرح عمل نہیں کیا، تاہم پیپلز پارٹی یہ سوچ رکھتی ہے کہ اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
کیا کوئی نیا میثاق جمہوریت ہونے جارہا ہے؟ اس ضمن میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نواز بلاول ملاقات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ مرکز میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی دو بڑی جماعتوں میں فاصلے کم ہونے شروع ہوگئے ہیں اور رابطے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر آئندہ دنوں میں ان بڑھتے رابطوں کے نتیجے میں یہ دونوں جماعتیں مشترکہ اہداف، لائحہ عمل اور اقدامات پر متفق ہوگئیں، تو پھر عمران حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے جو صرف چھ سات نشستوں کے سہارے کھڑی ہے جبکہ پنجاب پر بھی اس کی گرفت انتہائی کمزور ہے، جس سے فائدہ اٹھانے والے اندرون خانہ اکٹھے ہورہے ہیں۔
یہ درست کہ ملکی حالات کسی بڑی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہوسکتے، لیکن اپوزیشن کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کو محاذآرائی کی جانب دھکیلا بھی تو حکومتی اراکین نے خود ہی ہے، اس لیے اگر یہ اتحاد  ہونے جارہا ہے تو اس میں حکومتی اراکین کی دشنام طرازی کا بھی ہاتھ ہے۔ یہ خیال اب تقویت پکڑتا جارہا ہے کہ حکومت پر آئندہ دنوں میں نیب قوانین کے ساتھ باسٹھ تریسٹھ میں تبدیلی، نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت دینے کے حوالے سے دباؤ بڑھ سکتا ہے، اس وقت سینیٹ میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ اکثریت میں ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں بھی یہ دو جماعتیں عددی اکثریت رکھتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی ان کے بغیر قانون سازی آسان نہیں۔ اگرچہ ابھی یہ جماعتیں کسی احتجاجی تحریک پر یکسو نہیں، اگر حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو بات آگے بڑھ سکتی ہے اور قوی امکان ہے کہ کچھ عرصے بعد یہ جماعتیں دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کردیں، جس پر دبی دبی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ 
سیاست میں حرف آخر کچھ نہیں ہوتا، وقت اور حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں،  بظاہر سڑکوں پر تو کسی احتجاجی تحریک کے آثار نظر نہیں آرہے، لیکن (ن) لیگ ایک ایسے وقت (جب حکومت اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہے اور پی ٹی آئی میں کئی گروپ بن چکے) کو سامنے رکھتے ہوئے بڑے موثر طریقے سے دباؤ بڑھارہی ہے۔ نواز شریف کی بیماری کو ایک قومی مسئلہ بناکر سامنے لایا جارہا ہے، جس میں حکومت کو غفلت کا مرتکب قرار دیا جارہا ہے، یہ بیانیہ آئندہ دنوں میں مزید تقویت پکڑے گا جس کا فائدہ (ن) لیگ کو ہوگا جبکہ حکومت دفاعی پوزیشن میں چلی جائے گی۔  ایسے میں حکومت کو دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف کی بیماری پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اور انہیں علاج معالجے کی تمام بہترین سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور ایک اور سیاسی موت ہماری انتقامی سیاسی تاریخ  کا حصہ بن جائے۔