20 ستمبر 2019
تازہ ترین

بغض رکھنے والے لوگ بغض رکھنے والے لوگ

کرتا جتنا دوسروں پر کرتا ہے۔ پاکستان میں  رعایا میں دو قسم کے لوگ ہوتے جارہے ہیں، ایک بہت امیر دوسرے بہت غریب اور نیچے والا اوپر والے سے جل رہا ہے، دل میں اس کے لیے بغض رکھتا ہے، حالانکہ بغض سے سراسر نقصان ہے، فائدہ محبت میں ہے۔
ہماری عجیب فطرت ہے ہم زیادہ وقت نفرت کی نذر کرتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر جلتے ہیں اور دوسروں سے بغض رکھتے ہیں۔ سیاست میں بغض ہی بغض ہے، پاکستان میں ایسا زیادہ ہے۔ بھارت تک میں ہمارے سے اچھے سیاست دان ہیں۔ ہمارے سیاست دان کمال کے نفرت کرنے والے ہیں۔ میں خود درجن بار میاں صاحب سے ملا۔ اﷲ پاک جس کو عزت دیتا ہے لوگ اس کو ذلت نہیں  دے سکتے۔
جے آئی ٹی رپورٹس کے بعد  نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا، لیکن اس نقصان کا بھی 2018  میں (ن) لیگ کو فائدہ ہوگا۔ یہ قدرتی امر ہے ہم ایک بات جانتے ہیں جس پر ظلم ہوتا ہے پھر فائدہ بھی اسی کا ہوتا ہے، جیسا کہ این اے 120 کے انتخاب میں دوبارہ عوام نے (ن) لیگ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ دوسروں کے لیے بغض رکھتے ہیں، ان کو یہ خبر ہی نہیں کہ ان کی  نفرت دوسروں کو کیا دے رہی ہے۔ کیا خوب کہا ہے علامہ اقبال نے کہ:
تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے
میں خود چاہتا ہوں کہ زیادہ عرصہ ایک ہی سیاسی خاندان اقتدار میں نہ رہے۔ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ اس بار نئے لوگ اقتدار میں آئیں۔ دنیا میں زیادہ عمر پانے و الی چیز اپنی قدر کھو دیتی ہے اور کوئی تبدیلی آنی ضروری ہوتی ہے مگر محبت سے نفرت کے ذریعے نہیں۔ انسانی فطرت یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی دوسروں کو ترقی کرتا ہوا دیکھ نہیں سکتا، جہاں انسانوں کے دلوں میں اور محبت کے خزانے چھپے ہوئے ہیں، وہیں بغض کا بھی بڑا خزانہ ہوتا ہے۔ انسان کا دل سمندر سے بڑا ہوتا ہے۔  
جو لوگ اپنی ذات میں احساسِ کم تری کا شکار ہوتے ہیں وہ دوسروں سے بغض رکھتے  ہیں۔ 
جس قسم کا منظرنامہ دِکھائی دے رہا ہے، میرا خیال ہے کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں (ن) لیگ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہوگی، قریباً  185 نشستیں اس کے پاس ہوں گی، دوسرے نمبر پر عمران خان صاحب ہوں گے، اپوزیشن لیڈر وہی ہوں گے۔ آگے  2023میں دیکھا جائے گا۔
سیاست دانوں کو منشور عوام کو دینا چاہیے کہ میں یہ کروں گا، وہ کروں گا، اپنے ملک کی ترقی کے لیے ان ان باتوں پر عمل کروں گا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کہتے کہتے شروع شروع میں پاکستان کا ہر شہری ٹیکس دے گا۔ کے پی کے میں سب ٹیکس کیوں نہیں دیتے، لہٰذا وہ کہنا چاہیے جو کرسکیں۔ یہ میڈیا کا دور ہے، یہاں پرانی سے پرانی بات نکل آتی ہے۔ دھرنے میں ہزاروں ایسی باتیں کہی گئیں جو قانون کے خلاف تھیں۔ دراصل یہ سارے مسائل بغض سے پیدا ہوتے ہیں۔
تمام اپوزیشن بغض کی آگ میں جل رہی ہے
اقتدار کی ہوس سب کے دلوں میں پل رہی ہے 
کبھی خدا سے بھی کچھ مانگ لیا کرو اے جلنے والو
اب زندگی کی شام بڑی تیزی سے ڈھل رہی ہے 
دلوں میں بغض رکھنے والے ناحق ایک دن مارے جائیں گے۔ دلوں میں محبت رکھو تاکہ رعایا تم سے محبت کرے۔ یہ دنیا ہے یہاں جو دوگے، وہی ملے گا، یہاں ادلے کا بدلہ ہے۔