18 ستمبر 2018
تازہ ترین

بصرہ کے ہنگامے بصرہ کے ہنگامے

عراقی صوبے بصرہ کے شہریوں کی مقامی و وفاقی حکومتوںنے جب آواز نہ سنی تو سول سوسائٹی کے کارکن ہاشم احمد کی قیادت میں انہوں نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ دریائے شط العرب کے مغربی کنارے پر عربی کے معروف شاعربدر شاکر سیاب کا تانبے کا مجسمہ نصب ہے؛ جس کی بحالی کو متعلقہ وزارت کئی سالوں سے نظر انداز کر رہی تھی۔ اسی طرح شط العرب کی طرف بہنے والی ندیوں اور دریائوں کی صفائی بھی وعدوں کی باوجود نظر انداز ہو رہی تھی، جس سے زراعت جوکہ بصرہ کی خوشحالی کی بڑی وجہ ہے، بری طرح سے متاثر ہو رہی تھی۔ ہاشم احمد نے احتجاج کرتے ہوئے شاکر السیاب کا مجسمہ نمک سے ڈھک دیا، اسکے ساتھی نے مجسمہ پر ’’نمک کا گیت‘‘ لکھ کر شہریوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اگر آج سیاب زندہ ہوتا تو اس عنوان سے ایک نظم ضرور لکھتا۔
بصرہ محض عراق کو دنیا سے ملانے کا سمندری راستہ نہیں، بلکہ 30لاکھ کی آبادی کا یہ شہر عراق کا معاشی دارالحکومت بھی ہے۔ عراق میں تیل اور گیس کے سب سے زیادہ ذخائر بصرہ میں ہی ہیں، عراق سب سے زیادہ تیل بصرہ سے ہی برآمد کرتا ہے ، جس کا ریاست کے کل بجٹ میں حصہ 95فیصد ہے۔غیر معمولی دولت کی وجہ سے بصرہ کو دنیا کا ترقی یافتہ اور خوشحال ترین شہر ہونا چاہیے تھا، مگر صورتحال اس کے برعکس ہے ۔ اس شہر میں صحت، تعلیم ، بجلی، صاف پانی، ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور صفائی ستھرائی جیسی بنیادی سہولتوں کا سخت فقدان ہے۔ یہاں کے لوگو ں کا شمار عراق کے غریب ترین شہریوں میں ہوتا ہے، 2010ء کے بعد سے اس غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر میں ہنگامے گزشتہ دوماہ سے جاری ہیں، جس کی وجہ رواں سال پانی کے بحران کا سنگین ہونا ہے۔ شط العرب کے پانی کا کھارا پن خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس کی وجہ وہ پینے اور زراعت دونوں کیلئے ہی ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔ سیوریج کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے بصرہ کے پانی میں آلودگی  خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، حالیہ اعدادوشمار کے مطابق بصرہ میں پیٹ کے امراض بہت بڑھ گئے ہیں، گزشتہ ماہ پیٹ کے امراض کی وجہ سے 18ہزار مریض ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔
شط العرب کے بڑھتے کھارے پن کی وجہ سے فرات اور دجلہ کے دریاؤں سے تازہ پانی کا مناسب مقدار میں نہ آنا ہے۔ اس کی وجہ شام اور ترکی کا نئے ڈیم بنانا ہے، جبکہ عراق نے آج تک آبپاشی کا فعال نظام بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی۔صورتحال مزید اس وقت خراب ہوئی جب ایران نے اپنے علاقے کے ان دریائوں پر نئے ڈیم بنا لئے جن کا پانی شط العرب میں گرتا تھا۔ علاوہ ازیں، ایران نے شط العرب میں گندہ پانی بھی چھوڑنا شروع کر دیا جس سے اس کی آلودگی اور کھارے پن کی شرح مزید بڑھ گئی۔
بصرہ کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی طبقے کی کرپشن ہے جوکہ مجموعی طور پر عراق کا بھی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔اس کرپشن میں پیش پیش اسلامی جماعتوں کے رہنما ہیں۔ 2003ء کے بعد سے تیل کی برآمدات سے عراق کے محاصل دس کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئے تھے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس رقم کا ایک چوتھائی بااثر پارٹیوں، ان کے رہنماؤں، اور ان کے عراقی، عرب، ایرانی، ترک اور دیگر پارٹنرز کے اکاؤنٹس میں چلا جاتا ہے۔ان بااثر پارٹیوں نے اپنی وزارتوں اور صوبوں میں ’’اکنامک کمیٹیاں ‘‘ تشکیل دے رکھی ہیں، جنہیں مختلف منصوبوں اور ٹھیکوں میں کمپنیوں سے کمیشن کی وصولی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
بصرہ میں گزشتہ دوسالوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ گورنراور صوبائی کونسل کے سربراہ اور ارکان کے علاوہ اعلیٰ افسران انتظامی اور مالی کرپشن میں ملوث ہیں۔ گرفتاری سے بچنے کیلئے سابق گورنر ایران کے راستے ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ اس نوعیت کے درجنوں واقعات ہر سال ہو رہے ہیں۔ بدترین کرپشن روکنے کیلئے ابھی تک کوئی موثر پالیسی نہیں اپنائی گئی، جس سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں۔ یوں ، جو کچھ عراق میں اس وقت ہو رہا ہے، وہ صرف کرپٹ عناصر کے مفاد میں ہے۔عدالتیں کرپٹ افسروں کی گرفتاری کے احکامات جاری کرتی ہیں جن پر کبھی عمل نہیں ہوتا۔لیکن اگر گرفتاری کر لیا جائے تو ایمنسٹی کے قانون کی وجہ سے انہیں استثنیٰ مل جاتا ہے، جوکہ دو سال قبل جاری ہوا تھا؛ تاہم اکثر و بیشتر ٹھوس شواہد نہ ہونے کی وجہ سے بھی عدالتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے، کیونکہ تفتیشی اداروں کی کرپٹ ملازمین شواہد جمع کرنے میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں۔ 2006ء کے بعد تین منتخب حکومتیں اقتدار میں آ چکی ہیں، ہر حکومت نے انتظامی اور مالیاتی کرپشن سختی سے ختم کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیا مگر چند مچھلیوں کے علاوہ کوئی ٹھوس کارروائی نہ کی گئی، بڑی مچھلیوں اور مگر مچھوں کو چھیڑا ہی نہ گیا۔عراق کی سب سے بڑی بدقسمتی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی تشکیل میں فرقے، زبان ، قومیت اور علاقائیت کا کردار ہے، آئین کے برخلاف پارٹیوں نے فرقوں ، نسلی اور لسانی گروپوں کی بنیاد پر کوٹے مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ خودساختہ نظام بھی کرپٹ عناصر کو صاف بچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 
عراق کو اگر کرپشن سے پاک کرنا ہے تو سب سے پہلے اس کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔اس کے بعد ہی عراق کی سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کی بحالی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ کرپشن سے پاک عراق صرف بصرہ نہیں، ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کو بھی زہریلے اور آلودہ پانی سمیت تمام مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ العربیہ)