14 نومبر 2018
تازہ ترین

برمی فوج کے جنگی جرائم برمی فوج کے جنگی جرائم

میانمار میں نسل کشی کی خوفناک کہانیاں جیسے جیسے آشکار ہو رہی ہے، یہ سوچ کر سر پٹخنے کو جی کرتا ہے کہ کیوں میںسخت خطرہ مول لیکر اس وقت کی مقدس رہنما آنگ سان سوچی سے ملنے گیا تھا۔یہ حرکت 1996ء میں رنگون (موجودہ ینگون) میں سرزد ہوئی جب سان سوچی کو فوجی حکمرانی کے خلاف جمہوری مزاحمت کے طور پر دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ مغربی میڈیا سوچی کا اسی طرح شیدائی تھا، جیسے وہ تیسری دنیا کے ہر اس سیاسی رہنما کا رہا ہے جس نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی ہو۔یہاں تک کہ جمہوری جدوجہد کیلئے سان سوچی کو سویڈن نے نوبل انعام بھی دیا۔
رنگون کے نواح میں سان سوچی کی رہائش گاہ تک پہنچنے کیلئے میں نے کرائے پر گاڑ ی لی جسے الیگزینڈر نام کے ڈرائیور نے چلایا۔ راستے میں ہم کئی پولیس چیک پوسٹوں سے گزرے،ہمیں کسی بھی چیک پوسٹ پر گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ کسی نہ کسی طرح معروف خاتون کی رہائش گاہ تک ہم پہنچ گئے؛ وہ ایک دبلی پتلی مگر پُرکشش شخصیت کی حامل تھیں۔ دیگر ساتھی صحافیوں کی طرح مجھے بھی ان کیساتھ ہمدردی تھی۔ انکے برعکس میں اس بات پر حیران تھا کہ وہ آج تک اقتدار میں کیوں نہیں آ سکیں؛ میری نظر میں ساڑھے چار کروڑ کی آبادی والے شورش زدہ برما کو متحد رکھ سکتی تھیں، جو کئی نسل گروپوں اور مذاہب پر مبنی ملک بلکہ ایک طرح سے ایشیا کا یوگوسلاویہ ہے۔ میری سوچ کے برعکس انہوں نے آج یہ ثابت کیا ہے کہ اس بھاری ذمہ داری کیلئے وہ موزوں نہ تھیں۔
تنگ نظر جنرل نی وین کی کئی سال کی آمریت نے برما کو دیوالیہ اور انتہائی غریب ملک بنا دیا تھا،حالانکہ یہ کبھی خوشحال ملک تھا۔ جنرل وین اپنے لوگوں کو دہشت زدہ رکھنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتے تھے، جس میں سوشلزم کے علاوہ کالا جادو بھی شامل تھا۔ علیحدگی پسند شان، کیرن، وا، اور چینیو ں کو کچلنے کیلئے انہوں نے فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا؛ راخائن ریاست کے روہنگیا مسلمانوں پر بھی دائرہ حیات تنگ کیے رکھا۔ جنرل نی وین کو ساتھی جنرلوں نے بزور اقتدار سے ہٹا دیا، مگر ملک کی چار فیصد روہنگیا آبادی کو کچلنے کا سلسلہ جاری رہا، جو نسلی طور پر بنگالیوں کے زیادہ قریب ہے۔ دراصل ،برما کئی عشروں سے راخائن کے مسلمانوں کو کچلنے اور بے دخل کرنے کی پالیسی پر گامزن تھا، بیرونی دنیا نے برمی جنرلوں کے ان بہیمانہ اقدامات پر کبھی توجہ نہیں دی تھی۔برما میں بدھ مت کے پیروکارآبادی کا 87 فیصد ہیں، اس کی بااثر مذہبی اشرافیہ برما کو مسلمانوں سے پاک ریاست دیکھنا چاہتی ہے۔مغربی طاقتوں نے برما پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں؛ جس کی وجہ سے وہ عالمی تنہائی کا شکار تھا۔ بالآخر ، برما کی جنتا نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے سان سوچی کو ملک کا ڈی فیکٹو حکمران بنا دیا، جسے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی حمایت حاصل تھی۔ کرنل قذافی کی ہلاکت سے قبل یہ ہیلری کلنٹن کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
برما کے مغربی ناقدین خاموش ہو گئے، سخت مغربی معاشی بائیکاٹ ختم کر دیا گیا۔ غیر ملکی سرمایہ ملک میں آنے لگا؛ نوبل انعام یافتہ سان سوچی کے خطابات کو عالمی پذیرائی ملنے لگی۔ مگر اقتدار پر ابھی تک فوج کا قبضہ تھا؛ ہر چیز پر برما کے تندخو اور بدمزاج جرنیل قابض تھے، جس میں ٹمبر اور زمرد کی نفع بخش تجارت بھی شامل تھی۔ سان سوچی کی واحد ذمہ داری جمہوریت پر خطابات دینا تھا، وہ مکمل سمجھوتا کر چکی تھیں۔دریں اثنا ، برمی فوج نے راخائن کے روہنگیا مسلمانوں پر چڑھائی کر دی۔ طویل منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اس فوج کشی میں روہنگیا آبادی کے گاؤں جلا دیے گئے، برمی فوج نے ان کی خواتین کیساتھ اجتماعی زیادتیاں کیں؛ ہزاروں روہنگیا قتل کر دیے؛ سات لاکھ دس ہزار سے زائد کو ہمسایہ ملک میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا جہاں وہ انتہائی زبوں حالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے مبصرین برمی فوجی کے اس ایکشن کو ’’نسل کشی‘‘ کی واضح مثال قرار دے چکے ہیں۔
روہنگیا مسلمان اپنی نسل کشی شروع ہونے سے قبل بھی دنیا کے مصائب زدہ ترین لوگ تھے۔ اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں کے سوا کسی نے کبھی ان کی مدد نہیں کی۔ آنگ سان سوچی ان کے تحفظ حتیٰ کہ ان کی نسل کشی روکنے کیلئے کچھ نہیں کر سکیں۔ وہ یہ تسلیم تک نہیں کر سکتیں کہ ملک کی وہ بے اختیار سربراہ ہیں، جسے جنرل چلا رہے ہیں۔ بظاہر درویش نظر آنے والی اس خاتون نے ثابت کیا کہ وہ کٹھ پتلی کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ برما میں سب سے زیادہ سٹریٹجک مفادات چین کے ہیں، کیونکہ اس کے مغربی علاقوں کی بحرہند تک رسائی کیلئے یہ ملک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ برما فوج کی چین طویل عرصہ سے سرپرستی کر رہا ہے۔ وہ سلامتی کونسل میں برما کیخلاف کارروائی کی کوشش کی ناکام بنا سکتا ہے، ویسے ہی جس طرح اسرائیل کے جنگ جرائم کی امریکا ایک عرصہ سے پردہ پوشی کر رہا ہے۔
سعودی عرب جو روہنگیا مسلمانوں کی مدد کر سکتا تھا، وہ خود یمن میں مصروف ہے، اس کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوٹس لے ۔ قرآن پاک تمام مسلمانوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مشکل کے شکار اپنے ہم مذہب بھائیوں کی مدد کریں؛مگر امیر ترین سعودی مصائب زدہ روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی اپیلیں نظرانداز کر تے آ رہے ہیں؛ جیسے ماضی میں انہوں نے بوسنیا ئی مسلمانوں کی مدد کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہ دی تھی۔ چین جس طرح ایغور مسلمانوں کو کچلنے میں مصروف ہے، اپنے اتحادی برما کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے۔ رنگون کے جنرل جانتے ہیں کہ مزید جنگی جرائم کی انہیں کھلی چھٹی حاصل ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ہف پوسٹ)