19 جنوری 2019
تازہ ترین

بدلتے حالات میں قرآن سے راہنمائی حاصل کیجیے! بدلتے حالات میں قرآن سے راہنمائی حاصل کیجیے!

انسان کا یہ فطری رویہ ہے کہ جب وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو مختلف قسم کی سعی و جہد میں ناکامی کے بعد تھک ہار کر خدا کی طرف پلٹتا ہے، اس سے مدد و نصرت کا خواہاں ہوتا ہے، لیکن عموماً وہ یہ بھول جاتا ہے کہ خدا کی مدد اور نصرت اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب پریشانی میں مبتلا انسان احکامات الٰہی پر عمل درآمد کرے۔ برخلاف اس کے یہ ممکن نہیں کہ وہ پریشانی سے نجات کے لیے اپنی پسند کے لحاظ سے طریقہ کار طے کرے، خدا سے کھلے یا چھپے بغاوت کا رویہ اختیار کرے، اس کی ہدایات کو نظرانداز کرے اور وہ کامیاب ہوجائے۔ انسانی تاریخ میں ایسا کسی دور میں ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ 
دوسری جانب اگر یہ معاملہ فرد واحد کے بجائے کسی قوم و ملت کا ہو تو پھر اس کو بھی اجتماعی سطح پر وہی رویہ اختیار کرنا ہوگا، جو کسی فرد واحد پر لازم آتا ہے، لیکن دشواری اُس وقت ہوتی ہے جب خدائی ہدایات کو بھی اپنی سمجھ، پسند اور ترجیحات کے ساتھ توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے۔ یہ مرحلہ بڑا دشوار گزار اور کنفیوژن سے بھرا ہوتا ہے اور عموماً اسی میں اچھے خاصے سوچنے سمجھنے والے دل و دماغ اور صلاحیتیں نامناسب طریقے اختیار کربیٹھتے ہیں۔ یہاں یہ کوشش کی گئی ہے کہ بدلتے حالات میں قرآن سے راہنمائی حاصل کی جائے؟ اور ممکن ہو تو اُس کی روشنی میں اپنے شب و روز کی سرگرمیوں میں تبدیلی لائی جائے۔ اس موقع پر یہ وضاحت بھی کرتے چلیں کہ جو باتیں ہم نے اخذ کی ہیں وہ حتمی نہیں ہیں۔ آپ بھی غور و فکر اور اصلاح کا عمل جاری رکھیں اور ہماری بھی راہنمائی فرمائیں۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کے مقاصد بیان کیے ہیں، ساتھ ہی ابلیس اور آدم ؑ کا قصہ بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان گفتگو کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ ابلیس کی جانب سے اس بات کا خدشہ کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے گا اور زمین میں فساد برپا کرے گا، یہ بات بھی خصوصیت کے ساتھ بیان ہوئی ہے، ساتھ ہی اللہ کی جانب سے اطمینان کا اظہار موجود ہے اور ان لوگوں کو بشارت دی گئی ہے جو ابلیس کے خدشات کو ضائع کرنے والے اور اللہ کے اطمینان پر پورے اترنے والے ہیں۔ ان باتوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ سے لے کر محمدﷺ تک ہدایات فراہم کرنے کے لیے جو نبیوں کا سلسلہ جاری رکھا، اس کو بھی بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ نبیوں کی آمد اور مقاصد رسول، ان کی ذمے داریاں، ان کے ذریعے انجام دیے جانے والے اہم ترین کام، یہ سب درج ہے۔ اور آخر میں اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ قرآن اور اس کی ہدایات، قیامت تک اپنی صحیح شکل میں موجود رہیںگی، اس کی ذمے داری اللہ تعالیٰ خود اپنے ذمے لے رہا ہے۔ لہٰذا انسانوں کو اس سلسلے میں کسی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ قیامت تک قرآن اپنی صحیح شکل میں موجود رہے گا، اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ایک گروہ ہر زمانے میں ایسا ضرور موجود رہے گا جو قرآن پر عمل کرنے والا ہوگا اورلوگوں کے درمیان بشیر و نذیر کی ذمے داری انجام دینے والا ہوگا۔ لہٰذا ہر مسلمان کے لیے زماں و مکاں کی قیود سے بالاتر لازم ہے کہ وہ اُس گروہ سے اپنے تعلق کو استوار رکھے۔ یعنی وہ اس گروہ میں شامل ہوجائے جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمے داری انجام دینے والا ہو۔ 
موجودہ حالات میں قرآن و حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کی سب سے پہلی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اُس گروہ سے اپنا تعلق استوار کریں جو امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا فریضہ انجام دینے والا ہے۔ برخلاف اس کے مسائل کے حل میں وہ جو اقدام بھی کریں گے، یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس میں حتمی کامیابی اُن کے حصے میں کسی قیمت نہیں آئے گی۔ مجھے اور آپ کو بھی اس نازک موقع پر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری وابستگی کن لوگوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو بے شمار صلاحیتیں ہمیں دی ہیں، ان کو ہم کہاں، کن لوگوں کے درمیان اور کن مقاصد کے حصول میں استعمال کررہے ہیں؟
واقعہ یہ ہے کہ ہماری وابستگی عموماً ان لوگوں کے ساتھ ہے جو فساد برپا کرنے والے ہیں اور ہماری صلاحیتیں بھی وہیں صرف ہورہی ہیں جب کہ وقت اور صلاحیتیں اللہ کی امانت ہے، اسے صحیح جگہ اور صحیح مقصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے اور ہم ان حالات میں کیوں مبتلا ہیں؟ اس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں دیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے، مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمنِ حق ہوتا ہے۔ جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل ِ انسانی کو تباہ کرے۔۔۔ حالانکہ اللہ جسے وہ گواہ بنارہا تھا فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اس کو گناہ پر جمادیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاو ٔاور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں، اگر ان کو پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش دکھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے (البقرہ:209-204)۔ 
آج اور ہر زمانے میں یہ بدترین دشمن حق مسلمانوں کے اندرون و بیرون خانہ دونوں جگہ موجود رہے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ خود شاہد ہے۔ سوال یہ ہے کہ اُنہیں کیسے پہچانا جائے؟ اس کی سادہ سی پہچان یہ ہے کہ یہ جھوٹ، بے ایمانی اور بدعہدی پر کاربند ہوتے ہیں، خدا کی راہ میں سستی اور کاہلی کا اظہارکرتے ہیں اور صبرواستقامت اور نماز ان کی زندگیوں کے شب و روز کے اعمال کا حصہ نہیں ہوتے۔ دوسری جانب وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے اور اُسی کو ہر پریشانی میں پکارنے والے ہیں، ان سے کہا گیا ہے کہ کسی استثنیٰ کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ۔ تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے، تمہارے معاملات اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابعِ اسلام ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصّوں میں تقسیم کرکے بعض حصّوں میں اِسلام کی پَیروی کرو اور بعض حصّوں کو اس کی پَیروی سے مستثنیٰ کرلو۔ اور آخر میں کہا گیا کہ جان رکھو اللہ زبردست طاقت رکھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے مجرموں کو سزا کس طرح دے۔۔۔