23 ستمبر 2018
تازہ ترین

بددیانت معاشرہ اور ایمان دار حکمران! بددیانت معاشرہ اور ایمان دار حکمران!

ہمارا معاشرہ 99 فیصد بددیانت ہوچکا ہے۔ میں ہر ادارے میں سپلائی کا کام کرچکا ہوں اور تمام اداروں سے کوئی نہ کوئی کام پڑتا رہتا ہے۔ کہیں کوئی ایمان دار نظر نہیں آتا۔ پتا نہیں ہمارے معاشرے کو کیا ہوگیا ہے۔ ہر آدمی اپنی طاقت کے مطابق بددیانتی کرتا ہے۔ بائیس کروڑ لوگ ایمان دار حکمران مانگ رہے ہیں، جو حکمران پہلے حکومت کرکے چلے گئے ہیں، ان کی بددیانتیاں تلاش کررہے ہیں اور جو یہ کام سرانجام دے رہے ہیں، انہیں کس نے ایمان داری کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ ہم سب کو اپنا احتساب کرنا پڑے گا۔ اس کام کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ ہمارا معاشرہ غیر محفوط ہوچکا ہے۔ بے شک دنیا میں بھی بہت بددیانت ملک ہیں مگر ہم تو مسلمان ہیں۔ ہم تو اﷲ تعالیٰ کی اعلیٰ مخلوق ہیں، ہم تو مثالی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ہم تو اس نبیؐکے پیروکار ہیں جس کے لئے دنیا بنائی گئی۔ ہم کیوں اتنے بددیانت ہیں؟ کیا ہم سے دوسری قومیں کسی عمل میں بہتر ہیں؟ نہیں، دراصل ہم دولت کے لیے ہر برا عمل کرنے کو تیار ہیں۔ ہمیں صرف دولت درکار ہے اور بس ایمان جاتا ہے تو جائے۔ یہ ہمارا ایمان ہے اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے صرف دولت ہی ضروری ہے۔ چلو ٹھیک ہے، پھر کیوں اعلیٰ قوم ہونے کے دعوے کرتے ہیں۔ پھر کیوں دوسروں کی چوریاں تلاش کرتے ہیں، اپنے گریبان میں کیوں نہیں دیکھتے۔ پاکستان میں ہر ادارے میں 25 سے  30فیصد کمیشن ہے، ہر سپلائی میں ایسا ہی ہوتا ہے، بغیر رشوت کے یہاں کوئی کام نہیں ہوتا۔ اﷲ کی لعنت ہے اس پر جس نے رشوت لی اور دی۔ کوئی کہہ سکتا ہے میں نے کبھی رشوت دی نہ لی، کبھی حرام کھایا نہ کمایا۔ پھر ہم کون ہوتے ہیں۔ دوسروں کی کرپشن تلاش کرنے والے، واپڈا ایکسائز، ریلوے، پی آئی اے، ایل ڈی اے، سی ڈی اے، ایف ڈی اے، سوئی گیس، پانی کے ادارے، تیل کے ادارے، سب کہہ رہے ہیں اب ایماندار شخص حکمران ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے جیسی رعایا ویسا حکمران۔ جب ہم ایمان دار ہوں گے جتنے ایمان دار ہوں گے، اُتنا ہی ایمان دار حکمران مل جائے گا۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ زندگی ردعمل ہے، مکافات عمل ہے، جیسے ہم ہیں ویسے ہی حکمران ہوں گے۔ میں دیانت دار قیادت نہیں مانگ رہا، میں کہتا ہوں اے اﷲ میری نیتوں جیسا حکمران عطا فرما۔
جس کو دیانت کا جنون  ہے وہ میرے ساتھ چلے اور سوئی گیس کا کنکشن لگوادے، بجلی کا ایک میٹر لگوادے، میرے بچے کو میرٹ پر داخلہ دلوادے۔ کسی بے گناہ کو تھانے سے چھڑواکر دکھادے۔ مجھے رمضان میں فروٹ ٹھیک اور رمضان سے پہلے والی قیمت پر دلوادے۔ مجھے پورے وزن والی کوئی چیز دلادے۔ مجھے کچہری میں سچا گواہ ملادے۔ مجھے کسی عدالت سے وقت پر انصاف دلادے۔ مجھے کوئی ایک ایمان دار دکھادے۔ کوئی ایک سچا انسان دکھا دے۔ بلڈنگ میٹریل میں ایمان داری دکھادے۔ مزدور کا مال بھی پاک نہیں ہوتا، وہ بھی ایمان داری سے کام نہیں کرتا۔
جب ہمارا پورا معاشرہ مُردہ ہوچکا ہے تو ایمان دار قیادت کیوں مانگتے ہیں۔ آپ ایمان دار بن جائیں، حلال کمائیں، حلال کھائیں تو دیانت دار قیادت خود بخود سامنے آجائے گی، کیونکہ لیڈر ہم میں سے ہی بنتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے، ایوانوں میں پہلے ایمان دار لوگ تھے، جو اَب ایمان دار مل جائیں گے۔ جب ہم دیانت دار ہوں گے تو پھر سب دیانت دار ہوجائیں گے۔ جو ٹی وی پر تجزیہ نگار کہتے ہیں، سب جھوٹ ہے۔ ہم صرف اور صرف اس دنیا میں دولت کی خاطر زندہ ہیں، اس کے علاوہ ہمارا کوئی دوسرا مقصد نہیں۔ ہم ہزار بار جہنم میں جانے کو تیار ہیں مگر دنیا میں حلال کمانے کو تیار نہیں۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے میں دیانت دار ہوں۔ پاکستانی لوگ اپنے زوال سے اندازہ نہیں کرسکتے کہ ہم کتنے گنہگار ہیں، ہر روز رشوت خوروں سے واسطہ پڑتا ہے، ہر روز بددیانت دُکان داروں سے واسطہ پڑتا ہے، ظالم ڈاکٹروں سے واسطہ پڑتا ہے، ڈاکوئوں سے واسطہ پڑتا ہے، کرپشن کے ماروں سے واسطہ پڑتا ہے، ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو کہتے ہیں اس بار ایمان دار قیادت آنی چاہیے۔ 
دنیا میں جب بھی اچھا عمل شروع کرو تو اپنی ذات سے کرو۔ جب بھی کوئی بری بات تلاش کرو تو خود میں کرو۔ دنیا میں جب بھی دیانت پر عمل کرو تو خود کرو۔ جب بھی برداشت کا آغاز کرو تو خود سے کرو، جب بھی معاف کرنا ہو تو خود کرو۔ دولت صرف اس دارفانی کی ضرورت ہے، آخرت میں حرام کی دولت نجات  کا راستہ روک لے گی۔ یہ اﷲ کی دنیا ہے یہاں اسی کا قانون باقی رہ جائے گا، انسان اپنا قانون ساتھ لے جائے گا۔   
بددیانت لوگ دیانت دار حکمران  مانگتے ہیں
گونگے بہرے معاشرے میں سچا اِک انسان مانگتے ہیں
جہاں لوگ حلال کا اِک لقمہ نہیں کھانا چاہتے
وہاں کھرا سچا اک  مسلمان مانگتے ہیں
یہ دنیا اپنی ذات کا ردعمل ہے، جو ہم کریں گے وہ ہمیں ضرور ملے گا۔ ہم پر وہی حالات غالب ہوں گے جس کے ہم قابل ہیں۔ جو انسان اصلاح نہیں کرسکتا، وہ دوسروں کی اصلاح کیسے کرسکتا ہے۔ خود پر اصلاح غالب کرنا آسان ہے  یا دوسروں پر اور دنیا میں وہی قومیں راج کرتی ہیں جن کا اپنی نیتوں اور اعمال پر راج ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں صرف ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر دوسروں پر تنقید کی جاتی ہو، وہاں پکا دیانت دار حکمران تلاش کرنا ممکن نہیں۔