13 نومبر 2018

بحری جہاز کے چوہے   بحری جہاز کے چوہے  


مرزا غالب نے عرصہ پہلے کہا تھا:
ناحق ہم پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر نہ تھا…
بچپن میں ہمیں قائداعظمؒ کی زندگی اور جدوجہد سے متعلق مدراس میں بہت کچھ پڑھایا اور لکھایا جاتا تھا۔ شاید ان دنوں ملک و قوم کو بابائے قوم کی ضرورت رہی ہو گی۔ 1971ء میں قائد کا پاکستان دو لخت کروانے کے بعد ہم اس ضرورت سے بے نیاز ہو گئے کیونکہ قائداعظم والا پاکستان تو ٹوٹ ہی چکا تھا۔ اب ہم ’’اپنا پاکستان‘‘ بنانے چلے تھے ذوالفقار علی بھٹو نے اس پاکستان کو بنانے اورسنوارنے کا بیڑہ اٹھایا وہ شاید خود کو قائداعظمؒ جیسا لیڈر ہی سمجھتے تھے یا پھر اس دور میں وہ قائداعظم سے زیادہ مائوزے تنگ کو معتبر جاننے لگے تھے کیونکہ پاکستان میں ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا سیلاب آیا تو اپنے ساتھ اعادی لٹریچر بھی لے آیا۔ مائوزے تنگ کی لال کتاب اور روسی لٹریچر نے نوجوان نسل کو خاصا متاثر کیا پاکستان کے اخبارات اور درودیوار جو کبھی علامہ اقبال اور قائداعظم کے افکار و نظریات سے بھرے ہوتے تھے آہستہ آہستہ اس ’’بے وقت کی راگنی‘‘ سے جان چھڑانے لگے اور جدید دنیا کے سحر میں ایسے گرفتار ہوئے کہ اپنے بنیادی نظریہ ہی سے انحراف کرنے لگے۔
میرا شعور ان دنوں بالغ تھا مجھے حیرت ہوتی تھی کہ ہمارے زعما ہمیں کس طرف لے جا رہے ہیں۔ حنیف رامے کا ’’سرخ سویرا‘‘ پنجاب میں طلوع ہو رہا تھا۔ چی گویرا، مائوزے تنگ، کارل مارکس، لینن، سٹالن ہمارے ہیرو بنائے جا رہے تھے۔ شاید اس دور میں کوہستان اور نوائے وقت ایسے دو اخبارات تھے جن میں قائداعظم اور علامہ اقبال دکھائی دیتے تھے ورنہ تو ہر طرف ’’سرخ سویرا‘‘ طلوع ہو رہا تھا۔ بھٹو مرحوم کی سپلائزیشن کی پالیسی نے پاکستانی مزدوروں اور کسانوں کو پاکستان سے اٹھا کر روس اور چین میں پہنچا دیا کسی عقل کے اندھے کو یہ سمجھ نہ آئی کہ اگر انڈسٹری نیشلائز کرنی ہے تو جاگیرداری کیوں نہیں؟ نہرو نے تو بھارت کے قیام کے ساتھ ہی نوابوں اور جاگیرداروں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ بھٹو مرحوم لٹھ لے کر صنعت کاروں کے پیچھے ہو گئے کیونکہ ان کے خیال میں یہی سیاست کا کینسر تھا جبکہ جاگیرداروں نے ان کو اپنے دام تزویر میں الجھا لیا۔
جنرل ضیاء الحق تشریف لائے تو سوشلزم آخری ہچکیاں لے رہا تھا۔ گوربا چوف نے اس کا عملاً جنازہ نکال دیا۔ یہ سنبھلنے اور کچھ کر گزرنے کا مرحلہ تھا لیکن ہمارا جرنیل قائداعظم کی عجیب و غریب ’’ڈائریاں دریافت‘‘ کر کے لے آیا۔ آپ نے قائداعظم کی ایسی ’’خفیہ ڈائری‘‘ میاں امیر الدین کے دولت خانے سے دریافت کی جس نے اس دور میں قائداعظم کے آخری دنوں کے ساتھیوں کو کرا کر رکھ دیا۔ ان ڈائریوں کی کوکھ سے جنرل ضیاء الحق نے جو ’’دوقومی نظریہ‘‘ دریافت کیا اس نے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ قائداعظم ایک پڑھے لکھے ولی کامل تھے۔ آپ نے ’’کٹھ ملا‘‘ کو کبھی اپنے نزدیک نہیں پھٹکنے دیا تھا اور پاکستان بنا لیا۔ آپ پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے چلے تھے جہاں سے اسلام کی جدید شکل سے عالم اسلام کو رہنمائی میسر آتی اور وہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے۔ زندگی نے وفا نہ کی آپ کو وقت ہی نہ ملا۔ قائداعظم کے آنکھیں بند کرتے ہی آمریت اور ملائیت کا گٹھ جوڑ ہوا جو آج تک اپنے روپ بدل بدل کر پاکستان پر مسلط ہے۔
مسلم لیگ جو ہر آمروقت کی ضرورت رہی ہے کبھی وہ اسے کونسل مسلم لیگ، کبھی کنونشن مسلم لیگ، کبھی ہم خیال مسلم لیگ کبھی قائداعظم اور کبھی ق اور نون لیگ بنا کر اپنا الو سیدھا رکھتا ہے۔ ایک مخصوص ٹولہ ہے جو ہر آمروقت کی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح گر کر اس کے اقتدار کو دوام بخشنے میں سردھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ ان لوگوں کا مقصد چونکہ اپنے ’’مفادات‘‘ کی بقا اور اگلے الیکشن میں دوبارہ منتخب ہو کر لوٹ مار کے جاری کاروبار کو دوام بخشنا ہی ہوتا ہے اس لیے یہ ایوان اقتدار کی ٹانگوں کو آکٹوپس کی طرح جکڑ لیتے ہیں اس طرح جہاں وہ خود لوٹ مار پروگرام جاری رکھتے ہیں وہاں حکمران کی کرسی بھی اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرتی۔ ان کی زندگی اور سیاست صرف ایک نقطے کے گرد گھومتی ہے اور وہ ہے ’’حکمران ٹولے کا قرب‘‘
یہ قرب حاصل کرنے کے لیے وہ اپنی جان سے گزر جاتے ہیں۔ قریباً حکمرانوں کو زمینی خدا بنا کر دیوتائوں کی طرح بظاہر پوجنے لگتے ہیں یہ الگ بات کے اپنی پرائیویٹ محافل میں کن خیالات کا اظہار کرتے ہیں لیکن حکمرانوں کی زبان سے نکلا ہر لفظ ان کے نزدیک ان کے ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔ آپ نے میاں صاحب کی بادشاہت کے دنوں میں ان کے درباریوں کی قصیدہ خوانی کے جو انداز اور اطوار دیکھے وہ تب تک جاری رہیں گے جب تک انہیں امید ہے کہ ماضی کی طرح میاں صاحب کوئی نہ کوئی چکر چلا کر کوئی نہ کوئی ’’این آر او‘‘ کر کے امریکہ کو غچہ دے کر کوئی لالچ دے کر یا کسی اور سے کوئی ڈیل کر کے دوبارہ واپس آجائیں گے۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں جس روز انہیں ذرا سا شک بھی ہو گیا کہ اب دنیا بدل چکی ہے اور شاید میاں صاحب اپنی آخری اننگ کھیل چکے ہیں تو یہ غرق ہونے والے سمندری جہاز کے چوہوں کی طرح چھلانگیں لگا کر غائب ہو جائیں گے اس پارٹی کا رخ کریں گے جس کے ایوان اقتدار میں براجمان ہونے کا یقین ہو۔ یہی ہے پاکستانی سیاست۔ اس کے علاوہ اگر کچھ ہے تو جھوٹ، ریاکاری، منافقت اور دو نمبری۔
نظریہ پاکستان ان ظالموں نے ’’نظریہ پاکستان فائونڈیشن‘‘ کے دفتر تک محدود کر دیا ہے جہاں کچھ پرانے بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگ مہینے میں ایک دو مرتبہ جمع ہو کر مرثیہ خوانی کر لیتے ہیں۔ یہ بے چارے بھی ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت نے جس طرح 70سالوں میں قریباً پاکستانی تعلیمی نظام سے قائداعظم اور علامہ اقبال کو مکھن سے بال کی طرح نکال کر باہر پھینک دیا ہے۔ اس طرح دونوں شخصیات سالانہ چھٹیوں تک محدود ہوکر رہ جائیں گی۔
اس بحث کے تناظر میں اگر آپ وزیراعظم آزاد کشمیر کے اس بیان کا جائزہ لیں گے کہ ’’عمران خان کے پاکستان سے کسی صورت میں ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ ہم کس سے الحاق کریں‘‘ یا گلگت والے حافظ صاحب کے اس بیان کہ ’’نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانا غداری ہے‘‘ کا جائزہ لیں گے تو آپ کو غصے کے بجائے بحری جہاز کے ان چوہوں پر ترس آئے گا۔