18 نومبر 2018
تازہ ترین

آپریشن جبرالٹر اور جنگِ ستمبر آپریشن جبرالٹر اور جنگِ ستمبر

اپریل 1965ء میں سندھ و بھارتی گجرات کی سرحد پر واقع رن کچھ کے متنازع علاقے میں بھارت نے جارحیت کی تو پاک فوج نے جنرل ٹکا خان کی قیادت میں بھارتیوں کے چھکے چھڑا دیے، دو بھارتی ڈویژن ایک پاک بریگیڈ کے آگے بھاگ نکلے۔ بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے 25 اگست 1965ء کو کھیم کھرن ریسٹ ہائوس میں جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اس دفعہ ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے۔ اس دھمکی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا اور بھارت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی روک تھام کا کماحقہ بندوبست کیا جانا ضروری تھا مگر خوش فہمی میں مبتلا ہماری عسکری و سول قیادت نے بھارتی عزائم کی پیش بندی کے بجائے جولائی اگست 1965ء میں مقبوضہ کشمیر میں نا پختہ آپریشن کر ڈالا جسے طارق بن زیاد کے جبل الطارق یا جبرالٹر (سپین) کے ساحل پر یلغار کی رعایت سے ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپریشن وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو، میجر جنرل اختر ملک اور سیکرٹری خارجہ عزیز احمد کی دماغی اختراع تھا اور صدر جنرل ایوب خاں کو شیشے میں اتار کر اس کی منظوری لے لی گئی جبکہ آرمی جنرل موسیٰ اس کے حق میں نہیں تھے۔ دراصل جنرل ایوب نے چین بھارت جنگ 1962ء کے موقع پر کشمیر فتح کرنے کا سنہرا موقع کھو دیا تھا جب بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو کے ایما پر امریکی نائب وزیر خارجہ ایورل ہیری مین اور برطانوی نائب وزیر خارجہ ڈنکن سینڈیز نے اسلام آباد آ کر ایوب کو کشمیر میں کسی قسم کے اقدام سے باز رکھا تھا اور پھر نہرو کا مسئلہ کشمیر بذریعہ مذاکرات حل کرنے کا وعدہ برہمنی جھوٹ ثابت ہوا تھا۔ اب بھٹو نے ایوب کو فتحِ کشمیر کا عکس دکھایا تو وہ فوراً مان گئے۔
آپریشن جبرالٹر کے لیے کشمیریوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور جو چار ساڑھے چار ہزار گوریلے مقبوضہ کشمیر میں داخل کیے گئے وہ زیادہ تر آزاد کشمیر کے بکر وال تھے جنہیں دو چار ہفتے کی ’’تربیت‘‘ دے کر کشمیر میں دھکیل دیا گیا۔ یوں آپریشن جبرالٹر کی تیاری ہی میں اس کی ناکامی مضمر تھی۔ جنرل موسیٰ اپنی کتاب ’’مائی ورژن‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’وزیر خارجہ بھٹو، سیکرٹری خارجہ عزیز احمد اور آزاد کشمیر میں بارھویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل اختر ملک نے آپریشن جبرالٹر کا منصوبہ بنایا تھا۔ بعد میں لندن میں مقیم طارق علی (سر سکندر حیات کا نواسا) نے بھٹو سے پوچھا کہ آپ نے جنرل ایوب خاں کو 65ء کی جنگ میں کیوں دھکیلا تھا ۔ اس پر طارق علی کے بقول بھٹو نے کہا: میرے پاس اس بوڑھے جنرل سے جان چھڑانے کا اور کیا راستہ تھا!‘‘ طارق علی نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے۔
بریگیڈیئر گلزار احمد کے بیٹے نے کمانڈو عالمگیر کے نام سے اردو ڈائجسٹ میں آپریشن جبرالٹر کی تفصیل رقم کی تھی۔ وہ اس آپریشن کی تین فورسز میں سے ایک کے کمانڈر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم سرحد پار کر کے دن کو کسی چودھری کی حویلی میں ٹھہرتے اور رات کو موومنٹ کرتے تھے۔ پہلے گاؤں کا نمبردار باتیں کرتے ہوئے رو پڑا ۔ اس نے بتایا کہ ’’ہماری زندگی کتوں سے بھی بد تر ہے۔ حویلی میں یہ جو بچے کھیل رہے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ ان میں سے میرے بچے کون سے ہیں اور بھارتی فوجی کمانڈر کے کون سے۔‘‘ کمانڈو عالمگیر کے بقول ’’جب دریائے جہلم پر سرینگر کو جموں سے ملانے والی سڑک کا پل اڑانا تھا تو بارود لگانے پر ہلکا دھماکہ ہوا تو پل کا ایک جانب کا حاشیہ دریا میں گر پڑا اور دو تہائی پل ویسا کا ویسا تھا۔ میں نے ساتھیوں کو ڈانٹا: یہ تم نے بارود کیسا لگایا تھا؟ وہ بولے: سر! پیچھے اونچی پہاڑی پر شدید سردی تھی اور وہاں چائے بنانے کے لیے ایندھن نہیں تھا، لہٰذا کچھ بارود وہاں صرف ہو گیا تھا۔‘‘ ایسے نیم تربیت یافتہ گوریلے آپریشن جبرالٹر کے لیے کسی طور موزوں نہ تھے، لہٰذا سرینگر فتح کرنے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
کمانڈو عالمگیر نے سرینگر ایئر پورٹ سے شہر جانے والی سڑک پر گھات لگا رکھی تھی، اس نے بتایا کہ ’’اچانک سائرن اور ہوٹر بجنے لگے اور سرکاری گاڑیوں کا قافلہ شہر کا جاتا دکھائی دیا ۔ بعد میں پتا چلا کہ وزیراعظم سرینگر کے دورے پر آئی تھیں۔ اس وقت ہم چاہتے تو اندرا کے قافلے کو نشانہ بنا سکتے تھے لیکن یہ ہمارے اہداف میں شامل نہیں تھا۔‘‘ آپریشن جبرالٹر کی منظوری لیتے وقت صدر ایوب کو بتایا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مولانا مسعودی فلاں فلاں جگہ 60 ٹرک پہنچانے کا بندوبست کریں گے مگر وہاں مولانا مسعودی نظر آئے نہ کوئی ٹرک۔ علاوہ ازیں وزارت خارجہ کی طرف سے ایوب خان کو ’’یقین دہانی‘‘ کرائی گئی تھی کہ بھارت اس وقت بین الاقوامی سرحد عبور کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور ’’فیلڈ مارشل‘‘ ایوب خان نے اس یقین دہانی پر یقین کر لیا۔
پاکستان میں مارشل لاء کی بدعت کا آغاز کرنے والے جنرل ایوب خان نے غلطیوں پر غلطیاں کیں۔ رن کچھ اور کھیم کھرن میں داد شجاعت دینے والے کرنل(ر) محمد سلیم ملک ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’’یہ بات صدر ایوب خان نے خود مجھے بتائی کہ جولائی 1965ء میں دولت مشترکہ کی میٹنگ (لندن) میں ملکہ ایلزبتھ نے کھانا دیا تو تمام صدور اور وزرائے اعظم نے کہا کہ ہم تب تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک صدر ایوب اور لال بہادر شاستری سرحدوں سے فوجوں کی واپسی پر راضی نہیں ہو جاتے۔ پھر دونوں سربراہوں نے ملکہ ایلزبتھ کے کہنے پر ملاقات کی اور فوجیں واپس بلانے اور مائنز (بارودی سرنگیں) اٹھانے کا فیصلہ ہو گیا۔ میری کمپنی کو حکم ملا کہ رائیونڈ ریلوے سٹیشن پہنچیں۔ ہم نے مائنز اتارنی شروع کیں اور اتارتے اتارتے اگست آ گیا۔ میں نے علاقے کا سروے کیا تو بھارتی فوج کی بریجنگ (پُل سازی) کے آلات دیکھے۔ میں نے جنرل حمید کو بتایا کہ دشمن کی مائنز لگی ہوئی ہیں، آپ اپنی مائنز نہ اتاریں کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی چیز نہیں جس سے ہم دشمن کا نا گہانی حملہ روک سکیں۔ جنرل حمید نے صدر ایوب کو بتایا۔ وہ سن کر غصے میں آ گئے۔ کہنے لگے: جب میںنے حکم دیا تو اس پر کام ہونا چاہیے۔ یوں ایوبی آمریت نے سرحد سے مائنز اٹھا کر بھارتی فوج کو کھلا میدان دے دیا۔
آپریشن جبرالٹر کا پلان 12 ڈویژن کے میجر جنرل اختر ملک نے تیار کیا تھا جس کی منظوری جی ایچ کیو نے دی تھی۔جنرل ایوب، ان کے ملٹری سیکرٹری سی جی ایس میجر جنرل شیر بہادر، ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز اور انٹیلی جنس بریگیڈیئر گل حسن اور ارشاد احمد بریفنگ میں موجود تھے۔ بریفنگ میں کوئی سویلین موجود نہیں تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں فوجی تنصیبات اور مواصلات کی تباہی، کشمیریوں میں اسلحے کی تقسیم گوریلا تحریک کی شروعات تھیں۔ اکھنور کی طرف پیش قدمی اس کا حصہ نہ تھی۔ اسے آخری حربے کے طور پر آزمانے کی بات ہوئی۔ جب بھارتی فوج نے کرناہ، کیرن اور حاجی پیر کی چوکیوں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور آپریشن جبرالٹر ناکام ہو گیا تب آپریشن گرینڈ سلام کے نام سے چھمب اور جوڑیاں فتح کر کے اکھنور کی طرف پیش قدمی کی گئی۔ اس کے کمانڈر میجر جنرل اختر ملک تھے مگر فتح جوڑیاں کے بعد کمان تبدیل کر کے اختر ملک کی جگہ لیفٹننٹ جنرل یحییٰ خاں کو کمان سونپ دی گئی مگر اکھنور پر قبضہ بیچ میں رہ گیا کیونکہ 6 ستمبر کو صبح سویرے بھارتی فوج نے سرحد پار کر کے لاہور کی طرف بڑھنا شروع کر دیا تھا۔
قائد اعظم کے سیکرٹری کے ایچ خورشید کے مطابق ’’ایوب خان کو کمزور کرنے کے لیے آپریشن جبرالٹر لانچ کیا گیا اور وہ اس کے انجام سے بے خبر تھے، ورنہ جس ایوب خان نے بھارت کو مشترکہ دفاع کی پیشکش کی تھی، اسے کبھی منظور نہ کرتے۔‘‘ ایئر چیف مارشل (ر) انور شمیم اپنی کتاب ’’کٹنگ ایج: پی اے ایف‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’فضائیہ کو آپریشن جبرالٹر سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس کے لیے کوئی مشترکہ منصوبہ نہ بنا۔ جو لوگ کشمیر بھیجے گئے وہ نہ کشمیری زبان سے واقف تھے نہ راستے جانتے تھے۔ بھارت نے آزاد کشمیر کے جنوب کو شمال سے کاٹنے کے لیے درہ حاجی پیر پر قبضہ کر لیا۔‘‘ ایئر مارشل (ر) اصغر خاں نے ’’دی فرسٹ راؤنڈ: انڈو پاکستان وار‘‘ میں لکھا: ’’یہ پلان لانچنگ پیڈ پر ہی ناکام ہو گیا تھا جبکہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ آپریشن فول پروف ہے۔‘‘ بھارت نے جو پہلے چار رضا کار
(گوریلے) پکڑے، آل انڈیا ریڈیو نے ان کے حوالے سے 8 اگست ہی کو تمام منصوبہ بیان کر دیا تھا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ دہلی میں ہمارے ہائی کمشنر ارشد حسین نے ترکی کے سفارتخانے کی وساطت سے اسلام آباد وزارت خارجہ کو میسج دیا تھا کہ بھارت پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ لیکن اسلام آباد میں کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں اور پاک فضائیہ کے ہوا بازوں نے جانوں پر کھیل کر پاک وطن کی حفاظت کی مگر ایوبی فوجی آمریت نے آپریشن جبرالٹر کی ناکامی پر پردہ ڈال دیا۔ اس خام آپریشن کے ذمہ دار بعد میں کھل کھیلے اور اس کے نتیجے میں وطن عزیز دسمبر 1971ء میں دو لخت ہو گیا اور قوم کو سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ دیکھنا اور بھگتنا پڑا!
بقیہ: حقیقت حال