22 فروری 2019
تازہ ترین

آٹھواں مذاق    (1) آٹھواں مذاق (1)

اجرت سے مراد کسی بھی معاوضے کی وہ رقم ہے جو نقد کی صورت واجب الادا ہو۔ یہ معاوضہ معاہدہ ملازمت کی چند ایک شرائط پوری ہونے پر ادا کیاجاتا ہے جن میں باقاعدہ حاضری ، اچھا کام یا اچھا رویہ یا ملازم کے کام کا معیار شامل ہیں۔ اجرت میں ہاؤس رینٹ، مہنگائی الاؤنس، کنوینس الاؤنس، خرچہ گزارہ الاؤنس، بونس، اضافی تنخواہ اور دیگر الاؤنسز شامل ہیں لیکن اس میں رہائشی مکان کی سہولت کی مالیت، پنشن یا پراویڈنٹ فنڈ کی ادائیگی، سفری الاونس، گریجویٹی وغیرہ شامل نہیں۔
اجرتوں کی ادائیگی میں بہ لحاظ مدت کمی بیشی کی اجازت ہوتی ہے۔ اجرتوں کی ادائیگی روزانہ، سات دن ، پندرہ دن یا مہینے کے اختتام پر کی جا سکتیہیں لیکن اجرتوں کا دورانیہ یا ان کی مدت ایک ماہ سے زائد نہیں ہو سکتی۔ کوئی بھی فیکٹری، ریلوے یا صنعتی ادارہ جس میں ایک ہزار سے کم افراد ملازم ہوں، کو اجرتوں کی ادائیگی متعینہ مدت کے ساتویں دن کے اختتام سے قبل کی جانی چاہیے جبکہ دیگر فیکٹری، ریلوے یا صنعتی ادارہ جس میں ایک ہزار سے زائد ملازم ہوں، اجرتوں کی ادائیگی متعینہ مدت کے دسویں دن کے ختم ہونے سے قبل کرنے کا پابند ہے لیکن وائے افسوس کہ ان متعینہ مدتوں پر عمل درآمد کی مثالیں پاکستان میں بے حد کم ہیں۔
خرچہ گزارہ الاونس 'ملازمین کے خرچہ گزارہ داد رسی ایکٹ 1973' کے تحت دیا جاتا ہے اور یہ نجی پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ملازم کو ملتا ہے، چاہے وہ فیکٹریز ایکٹ میں تعریف کردہ فیکٹری میں کام کرتا ہو، اسٹینڈنگ آرڈرز 1968 کے تحت کسی فیکٹری یا ادارے میں کام کرتا ہو، کسی ٹرانسپورٹ سروس میں ملازم ہو، کسی معدنی کان میں کام کرتا ہو یا کسی اخباری ادارے کا ملازم ہو۔ اس قانون کے تحت ہر ملازم (چاہے اس کی تنخواہ کم ہو یا زیادہ) ماہانہ 100 روپے الاؤنس کا حقدار ہے تاہم اس کا آجر اس مقرر کردہ رقم سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک سرکاری ملازم ہیں تو آپ پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اور آپ کو دیا گیا مہنگائی الاؤنس اوپر دی گئی رقم سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ خرچہ گزارہ الاؤنس کو اجرتوں کا حصہ ہی شمار کیا جاتا ہے لیکن آپ کی پے سلپ پر اس کا علیحدہ سے لکھا ہونا ضروری ہے اور اسے بنیادی تنحواہ میں مدغم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح فیکٹری میں کام کرنے والے تمام ملازمین (سوائے کلیریکل اور ایگزیکٹوز) اوور ٹائم کے لیے کوالیفائی کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی غیر موسمی فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور ایک دن میں 8 گھنٹے اور ایک ہفتے میں 48 گھنٹوں سے زیادہ کام کر رہے ہیں تو آپ اوور ٹائم کے لیے کوالیفائی کرتے ہیں اور اگر آپ کسی موسمی فیکٹری میں کام کر رہے ہیں تو آپ کو اوور ٹائم 50 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے پر مل سکتا ہے۔ 
جہاں تک اوور ٹائم کے ریٹ کا تعلق ہے تو اوور ٹائم آپ کی عام شرح اجرت سے دگنی شرح پر ادا کیا جاتا ہے تاہم اگر آپ کا آجر اوور ٹائم کا مطالبہ کرتا ہے تو قانوناً اوور ٹائم کرنا آپکا فرض ہے بصورت دیگر آپ کے پاس انکار کی کوئی معقول اور ٹھوس وجہ ضرور ہونی چاہیے۔ 
اگر آپ مائنز ایکٹ، اخباری ملازمین کے قانون یا روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس کے تحت ملازم ہیں تو اوور ٹائم کی صورت میں آپ کو دگنا معاوضہ دیا جائے گا تاہم اگر آپ ریلویز ایکٹ کے تحت ملازم ہیں تو غیر معمولی یا استثنائی وجوہ کی صورت میں کام کرنے پر آپ کو اوورٹائم دیا جائے گا لیکن اس کی شرح معمول کی شرح سے سوا گنا (1.25) ہی ہو گی۔ 
وفاقی بجٹ 2018-19  کے تحت کسی بھی مزدور کی کم از کم تنخواہ 16 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے چنانچہ اب اوورٹائم اور دیگر الاؤنسز کی شرح بھی اسی حساب سے متعین ہوتی ہے۔ 
مسلم لیگ نون دور کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر میں یکم جولائی 2018 سے سول، فوجی ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس، ہاؤس رینٹ الاؤنس میں 50 فیصد اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے پنشن کی کم سے کم حد 6 ہزار سے بڑھا کر10ہزار روپے کردی تھی۔ اسی طرح فیملی پنشن کو 4500 روپے سے بڑھا کر 7500 اور 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کے لیے کم از کم پنشن 15 ہزار روپے مقرر کی گئی۔
پاکستان میں اجرتوں کی ادائیگی اور ان کے تعین کے لیے چار قوانین ہیں۔ ادائیگی اجرت کا قانون (پے منٹ آف ویجز ایکٹ 1936)، قانون اقل اجرت (کم از کم اجرت کا قانون) 1961 ، پاکستان کا قانون اقل اجرت برائے غیر مہارت یافتہ کارکنان 1969 اور کوئلے کی کان میں کام کرنے والے کارکنوں کی اجرتوں کے تعین کا قانون مجریہ 1960۔
پے منٹ آف ویجز ایکٹ کا اطلاق ریلوے ایڈمنسٹریشن، تجارتی یا صنعتی ادارے کے علاوہ تمام ملازمین بشمول ایگزیکٹوز پر بھی ہوتا ہے اور اس کے لیے تنخواہ کی کوئی حد مقرر نہیں۔ قانون اقل اجرت کا اطلاق ان تمام تجارتی اداروں پر ہوتا ہے جہاں کارکنوں کو (چاہے وہ مہارت یافتہ، غیر مہارت یافتہ، نو آموز یعنی اپرنٹس حتیٰ کہ گھریلو ملازمین) کو ملازمت کے لیے رکھا گیا ہو لیکن یہ قانون وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے ملازمین، معدنی کانوں میں کام کرنے والے افراد اور زراعت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد پر لاگو نہیں ہوتا۔ 
پاکستان کے قانون اقل اجرت برائے غیر مہارت یافتہ کارکنان کا اطلاق تمام صنعتی اور تجارتی اداروں پر ہے لیکن یہ ان افراد پر لاگو نہیں جو وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے تحت ملازمت کر رہے ہوں۔ مزید ازاں اس قانون کا اطلاق ڈیفنس سروسز، پورٹس، ریلویز، ٹیلی گراف اور ٹیلیفون، پوسٹل سروسز، فائر فائٹنگ، بجلی، گیس، واٹر سپلائی اور ہسپتال میں کام کرنے والے افراد پر بھی نہیں ہوتا۔ 
کوئلے کی کان میں کام کرنے والے کارکنوں کی اجرتوں کے قانون کا اطلاق ہر کوئلے کی کان پر ہوتا ہے اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں کم از کم اجرتوں کے نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے۔ صوبائی حکومت اجرتوں کے تعین میں مائنز ویلفیئر بورڈ سے مشورہ بھی کر سکتی ہے لیکن یہ اس کی اپنی صوابدید پر ہے۔ اگر آپ ایک حکومتی ملازم ہیں تو آپ کی اجرتوں کا تعین پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات کے تحت عمل میں آتا ہے۔ یہ کمیٹی حکومتی ملازمین کے پے اسکیلز پر وقتاً فوقتاً نظرثانی کرتی رہتی ہے۔ 
پے منٹ آف ویجز ایکٹ کے مطابق اجرت میں سے ڈیوٹی سے غیر حاضری کے علاوہ اس سامان کی توڑ پھوڑ یا نقصان کی صورت میں کٹوتی کی جا سکتی ہے جو ملازم فرد کی خصوصی تحویل میں نگرانی کے لیے دیا گیا ہو یا اس رقم کے کھو جانے کی کٹوتی ہو سکتی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہو تاہم یہ کٹوتی تبھی کی جائےگی جہاں نقصان، غفلت یا لاپرواہی سے منسوب ہو۔   (جاری ہے)
ان کے علاوہ قانونی کٹوتیوں میں آجر کی فراہم کردہ ان سہولتوں یا خدمات کی کٹوتی شامل ہے جن کی صوبائی حکومت عام یا خاص حکم کے تحت اجازت دے۔ پہلے سے لیے گئے قرض کی وصولی، زائد ادائیگیوں کی اجرت، ملازم شخص پر واجب الادا انکم ٹیکس، عدالت یا کسی دوسری مجاز اتھارٹی کے حکم، پراویڈنٹ فنڈ، صوبائی حکومت سے منظور شدہ کوآپریٹو سوسائٹیوں یا پاکستان پوسٹ آفس کی قائم کردہ انشورنس اسکیم یا ملازم کی تحریری اجازت سے صوبائی حکومت کی منظور شدہ کسی جنگی بچت کی اعانت کے لیے کی جانے والی کٹوتیاں جائز اور قانونی تصور کی جاتی ہیں۔

 
قوانین اقل اجرت مجریہ 1961 اور 1969 کے مطابق جو آجر اجرتوں کی ادائیگی وقت پر نہیں کرتا اسے چھ ماہ تک کی سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں بیک وقت دی جا سکتی ہیں۔ 
اگر آپ کسی اخباری ادارے میں ملازم ہیں تو آپکی اجرتیں ویج بورڈ ایوارڈ کے تحت متعین ہوتی ہیں۔ ان اجرتوں کا تعین خصوصی طور پر تشکیل دیے گئے ویج بورڈ کے ذریعے ہوتا ہے اور اجرتوں کی شرح مقرر کرنے میں بورڈ مصارف زندگی، قابل موازنہ ملازمتوں کی اجرتوں کے ریٹس، اخباری صنعت سے متعلق ملک کے مختلف حصوں کے حالات اور دیگر اسباب جو بورڈ کے نزدیک مناسب ہوں، کو مدنظر رکھتا ہے۔
لیکن اس ویج بورڈ ایوارڈ کی تشکیل، اس پر عمل درآمد کی جدوجہد، تاریخ، رکاوٹوں اور ویج بورڈ کے حوالے سے بعض اخباری اداروں اور ان کے پالتو عامل صحافیوں کے شرمناک کردار سے اگر پردہ اٹھا دیا جائے تو صرف صحافی ہی ایک دوسرے کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جائیں گے بلکہ عوام اس نسل سے اس قدر متنفر ہو جائیں گے کہ آج قابل فخر اور پیغمبرانہ پیشہ کہلانے والی صحافت کی حیثیت شاید کسی گالی سے بھی بدتر ہو جائے۔
ویج بورڈ کی کہانی 1958 میں اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب فوج کے سربراہ جنرل محمد ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا اور ملک کے صدر بن کر سیاست دانوں پر پابندیاں عائد کیں، آزاد اخبارات پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار پرقبضہ کیا اور پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے ذریعے اخبارات پرنئی پابندیاں عائد کر دیں۔ 
پاکستان یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے ان ناروا پابندیوں کے خلاف 1963 میں کراچی پریس کلب سے احتجاجی تحریک شروع کی بعد ازاں اخباری مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی  (APNS) اور اخباری ایڈیٹروں کی تنظیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE) بھی اس تحریک میں شامل ہو گئیں اور تمام اخبارات نے ایک دن کی ہڑتال کی۔ 
یہ تحریک کامیاب رہی، صدر جنرل محمد ایوب خان کو اخباری تنظیموں کے مطالبات ماننے پڑے اور پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس 1963 میں ترامیم ہوئیں۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے غیر صحافی عملے کو عبوری امداد دینے کے مطالبے کے لیے 10 دن تک ہڑتال کی۔ جنرل یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات جنرل شبیر علی خان کی ایما پر اخباری اداروں نے 100 سے زائد صحافی اور غیر صحافی برطرف کیے۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا کہ جب وہ برسر اقتدار آئیں گے تو ان صحافیوں کو ملازمتوں پر بحال کر دیا جائے گا۔ 
لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے صدر بننے کے بعد حزب اختلاف کی ترجمانی کرنے والے اخبارات پر پابندی لگائی تو دوبارہ ایک دن کی ہڑتال ہوئی تاہم بھٹو حکومت نے اپنا وعدہ پورا کیا اور تمام صحافی بحال کر دیے گئے۔  پیپلز پارٹی کی حکومت نے صحافیوں کا ایک اور مطالبہ منظور کرتے ہوئے نیوز پیپرز ایمپلائز ایکٹ 1973 نافذ کیا جس کے تحت ویج بورڈ ایوارڈ کا قیام عمل میں آیا اور اسے قانونی تحفظ ملا۔
پارلیمینٹ سے منظور کردہ اس قانون یعنی ‘نیوز پیپرز ایمپلائز ایکٹ’ (کنڈیشنز آف سروس) کے مطابق ہر پانچ سال کے لیے پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات، خبر رساں ایجنسیوں اور جرائد میں کام کرنے والے ملازمین کی اجرتوں کا تعین ہونا تھا۔
اس قانون کے مطابق اجرت کے تعین کے لیے حکومت سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں بورڈ قائم  کرتی جس میں اخباری مالکان اور ملازمین کے مساوی نمائندے شامل ہوتے۔ اس بورڈ کا فیصلہ حتمی ہوتا۔ ‘ویج بورڈ’ ملک کے مختلف شہروں میں کھلی سماعت کرتا اور فریقین کے موقف سننے کے ساتھ شہادتیں قلم بند کرکے پانچ برسوں میں مہنگائی کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے کم سے کم اجرتوں کا تعین کرتا۔
1973 سے 2018 تک آٹھ ویج ایوارڈز کا اعلان ہوا۔ پہلے تو بڑے اخبارات کے مالکان ان پر عمل کیا کرتے تھے لیکن پانچواں ایوارڈ آنے کے بعد سے اخباری مالکان نے اعتراضات اٹھانا شروع کیے کہ غیر صحافیوں یعنی نائب قاصد ، ڈرائیور ، کلرک اور دیگر ملازمین کو ویج ایوارڈ سے علیحدہ کیا جائے۔
اس طرح اخبادی کارکنوں کی اجرتوں کے تعین کا یہ آئینی اور قانونی طرقہ کار ایک مذاق بن کر رہ گیا۔ 
ویج ایوارڈ  کے تنازعہ، اس کی مختصر تاریخ اور موجودہ صورت حال کے ساتھ ساتھ اگر میڈیا کے ساتھ حکمرانوں کے سلوک پر ڈالیں تو بعض مبصرین کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان سے لے کر جنرل محمد ضیاءالحق تک فوجی حکمرانوں نے میڈیا پر پابندیاں ہی عائد کیں جبکہ مبینہ جمہوری ادوار میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے میاں نواز شریف اور اب عمران خان تک جو بھی حکمران آئے ان کا دامن بھی میڈیا کا بازو مروڑنے کے الزامات سے صاف نہیں رہا۔
پاکستانی میڈیا تمام ادوار میں بالواسطہ یا بلا واسطہ زیر عتاب رہا ہے۔ ماضی بعید یا قریب پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اخباری مالکان کی تنظیم  اے پی این ایس، کے بعض حضرات ایوان صدر یا وزیراعظم ہاؤس کی کرسی پر بیٹھنے والے ہر شخص کی تعریف میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ اخباری مالکان کے ساتھ ساتھ اخباری ملازمین کی بعض تنظیموں کے گروہ بھی اس کار خیر میں مالکان سے پیچھے نہیں رہے۔ 
جنرل مشرف کے دور میں صورت حال ماضی کے برعکس دیکھنے میں آئی جب پاکستان میں اخباری ملازمین کی کم بیش تمام تنظیمیں فوجی حاکم کے لیے ‘زندہ باد’ کے نعرے لگا رہی تھیں جبکہ اخباری مالکان کی تنظیم  بہ قول ان کے آزادی صحافت کی جنگ لڑ رہی تھی۔
ایسی صورت حال میں مورخ بھی شاید تھوڑا پریشان ہو کہ اسے وہ سانحہ لکھے کہ حادثہ، حکمرانوں کی چالاکی یا اخباری ملازمین کی تنظیموں کے رہنماؤں کی کم فہمی، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو ان کو لکھنا ہی ہے جس کے لیے ہمیں مستقبل کا انتظار کرنا پڑے گا۔ 
ساتویں ویج ایوارڈ کے نفاذ کے لیے اکتوبر 2001 میں نوٹیفکیشن جاری ہوا لیکن اس پر نفاذ کا تنازعہ برسوں جاری رہا۔ اس دوران ملازمین نے متعدد بار مظاہرے اور جلسے جلوس نکالے جبکہ اخباری مالکان نے اپنے اخبارات میں اس سے متعلق اشتہارات بھی شائع کیے۔
بالآخر اس تنازعہ کو حل کرانے کے لیے حکومت نے جولائی 2004 میں پانچ وفاقی وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا فیصلہ اس وقت کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی زیر صدارت کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیا گیا۔
کمیٹی نے دس روز کے اندر فریقین کے نمائندوں سے مل کر وزیراعظم اور کابینہ کو رپورٹ دینا تھی۔ کمیٹی کے سربراہ وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد تھے جبکہ اس کے ارکان میں وزیر خزانہ شوکت عزیز، وزیر مذہبی امور اعجاز الحق، وزیر پیٹرولیم نوریز شکور اور وزیر برائے ہاؤسنگ سید صفوان اللہ شامل تھے۔
وزیراطلاعات نے اس موقع پر کہا کہ اگر کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تو اس صورت میں کابینہ قومی اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور کردہ قرارداد پر فیصلہ کرے گی جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری اشتہارات صرف ان اخبارات کو جاری کیے جائیں جو ساتویں اجرت ایوارڈ پر عمل کریں۔
لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا کیونکہ اخباری مالکان نے ساتویں ویج بورڈ  ایوارڈ کے خلاف آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ جب عدالت عالیہ نے فیصلہ اخباری کارکنوں کے حق میں دیا تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
اکتوبر 2011 میں سپریم کورٹ نے ایوارڈ کے اعلان کے دس سال بعد سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اخباری مالکان کو اس پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا اور اے پی این ایس کی درخواست جُرمانے کے ساتھ مسترد کردی۔
اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ویج بورڈ ایوارڈ آئین اور قانون سے متصادم نہیں اس لیے اس پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور صحافیوں کو ویج بورڈ ایوارڈ دیا جائے۔
تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بورڈ خود اس ایورڈ میں ترمیم کرنا چاہے تو اُسے یہ اختیار حاصل ہے کیونکہ درخواست گزاروں کے وکلا نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا تھا کہ ویج بورڈ ایوارڈ کا اعلان پانچ سال تک کے لیے تھا اور اب اس ساتویں ویج بورڈ ایورڈ کو دس سال کا عرصہ ہونے کو ہے اس لیے اس ویج بورڈ ایوراڈ کو غیر موثر قرار دیا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ان دلائل سے اتفاق نہیں کیا۔
عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو نجی ٹی وی چینلز نے تو کوئی خاطر خواہ کوریج نہیں دی جبکہ سرکاری ٹی وی چینل نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو نمایاں کوریج دی کیونکہ حکومت کی زیر نگرانی چلنے والے اداروں یعنی پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان پر ویج بورڈ ایورڈ نافذ العمل نہیں ہے۔
صحافیوں کے ساتھ آٹھواں مذاق، اٹھارہ سال بعد سابق حکومت کے دور میں اس وقت ہوا جب اپریل 2018 میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے اٹھویں ویج بورڈ کااعلان کرتے ہوئے نوٹیفکیشن پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے حوالے کیا۔ 
اس ایوارڈ کا اعلان پی ایف یوجے اور حکومت کے درمیان پانچ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد کیا گیا۔ 
حکومتی اعلامیے کی روشنی میں آٹھویں ویج بورڈ کا پہلا اجلاس مئی 2018  میں چیئرمین شاہد محمود کھوکھر کی زیر صدارت ہوا، بورڈ نے اراکین کی نامزدگی اور تشکیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور آجروں اور اجیروں کو مساوی نمائندگی دینے پر اتفاق ہوا تاہم ماضی میں صحافیوں اور متعدد ویج ایوارڈز کی تباہی و بربادی کا سبب بننے والے ایک صحافی رہنما نے اس بورڈ کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
منگل 3 جولائی 2018 کو ہونے والی سماعت میں عدالت عظمیٰ نے چیئرمین ویج بورڈ شاہد محمود کھوکھر کی سربراہی میں بورڈ کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کیس میں درخواست گزار کی بورڈ کو کام سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی اور چیئرمین کی تقرری کے معاملے پر وفاق سے ایک ماہ میں جواب طلب کرتے ہوئے بورڈ کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
لیکن اگست 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے چیرمین ویج بورڈ کو عہدے سے ہٹا دیا اور کھوتی وہیں آ کھڑی ہوئی جہاں پہلے تھی۔ اس موقع پر صدر پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ صحافیوں نے آگ اور خون کا دریا عبور کرکے آٹھویں ویج بورڈ کی تشکیل پر حکومت کو مجبور کیا تھا اگر اب ویج بورڈ ختم ہو گیا تو پھر اے پی این ایس اسے دوبارہ تشکیل نہیں ہونے دے گی۔ اس پر جیف جسٹس نے وزارت اطلاعات کو ہدایت کی کہ ویج بورڈ کے اراکین کو ختم نہ کریں اور 6 ہفتوں کے اندر دوبارہ قانون کے مطابق آٹھویں ویج بورڈ کے چیرمین کا تقرر کریں۔
عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں وفاقی کابینہ نے ستمبر 2018 میں سابق جج لاہور ہائی کورٹ اور سابق چیئرمین امپلی مینٹیشن ٹربیونل فار نیوز پیپر ایمپلائز (آئی ٹی این ای) جسٹس (ر) رؤف احمد شیخ کو آٹھویں ویج بورڈ کا چیئرمین مقررکردیا جس کے بعد سے اب تک ویج بورڈ ان اخباری کارکنوں کی آہوں اور سسکیوں تلے دبا ہوا ہے جنہیں میڈیا مالکان نے مالی بحران کی آڑ میں گھر بھیج دیا ہے۔
اب چونکہ پاکستان تحریک انصاف کے جدت پسند ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں اس لیے دسمبر 2018 کے بعد سے اس ویج بورڈ ایوارڈ کی کوئی خیریت موصول نہیں ہوئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے پورے میڈیا کے ساتھ ساتھ اس ویج بورڈ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا ہے جو شاہد آفریدی چھکے مار مار کر پھٹی پرانی گیند کے ساتھ کیا کرتے تھے۔
پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پانچ سالوں میں ایک کروڑ نئی نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اپنے پہلے پانچ ماہ میں ہی انہوں نے میڈیا کا گلا دبا کر اس کے ہزاروں ورکرز کو بے روزگار کر کے اپنے اصل ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا۔
جبری برطرفیوں کے حوالے سے میرے گزشتہ کالموں پر ردعمل دیتے ہوئے بعض کرم فرماؤں نے فرمائش کی تھی کہ ویج بورڈ پر بھی لکھا جائے۔ میں نے ان کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں ان عامل صحافیوں کا نام کیسے لکھوں اور ان کے سیاہ کارنامے کیسے بیان کروں جو پی ایف یو جے کے صدر تک کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود پہلے ویج بورڈ سے لے کر اب تک اسے سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
اس لیے گزارش کروں گا کہ مجھے گنہگار کرنے کے بجائے خود ایسے لوگوں کا محاسبہ کریں تا کہ وہ مستقبل میں اخباری مالکان کا آلہ کار نہ بنیں۔ میں اس امر پر بھی پریشان ہوں کہ موجودہ حالات میں ویج بورڈ پر میری یہ تحریر کیا کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ اس وقت میرے صحافی بھائی اس مخصمے سے دوچار ہیں کہ بے روزگار ہونے والوں کا ماتم کریں یا آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کی دہائی دیں۔ 
پی ٹی آئی حکومت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری درجنوں بار یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے لیکن عملی اقدامات سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ حکومت میڈیا ورکرز کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے پیچھے کھڑی ہے تاکہ بہ وقت ضرورت انہیں کھائی میں دھکا دے سکے۔