17 نومبر 2018
تازہ ترین

آنجہانی کلدیپ نائر کے خیالات آنجہانی کلدیپ نائر کے خیالات

بھارت کے مشہور صحافی، دانشور اور سفارتکار کلدیپ نائر گزشتہ ہفتے ہندوانہ اصطلاح کے مطابق ’’سورگباش‘‘ ہو گئے۔ وہ گاندھی اور نہرو کے کٹر پیروکار تھے۔ وہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے بقول تقسیم کے وقت وہ پاکستان ہی میں رہنا چاہتے تھے لیکن جب سرحد پار خونی فسادات نے زور پکڑا تو وہ اپنے دوستوں کے کہنے پر شرنارتھی بن کر بھارت چلے گئے۔ وہ کچھ عرصہ لندن میں بھارت کے ہائی کمشنر بھی رہے۔کلدیپ نائر کانگرسی سیکولرازم کے پُرجوش پرچارک تھے اور بی جے پی کی ہندو توا پالیسیوں پر اکثر تنقید کرتے تھے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ان کے معلومات آفرین کالموں کے اقتباسات یہاںپیش کیے جاتے ہیں۔
کلدیپ نائر نے اڑھائی ماہ پہلے اپنے ایک کالم میں لکھا ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صرف ایک درسگاہ ہی نہیں، تحریک پاکستان کے زمانے میں یہ ایک نمایاں حیثیت رکھتی تھی بلکہ اب بھی ملت کے لیے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ محمد علی جناح کی ایک تصویریونیورسٹی کے کینی ہال کی دیوار پر لگی تھی جو کہ کیمپس کی بہت باوقار جگہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ تصویر تقسیم سے قبل بھی یہاں پر تھی اور ان تمام برسوں میں یہ مسلسل یہاں آویزاں رہی لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ یکم مئی کو یہ تصویر غائب ہوگئی اور 3 مئی کو دوبارہ ظاہر ہو گئی۔ یہ بی جے پی کے کسی متعصب کارکن کی ہاتھ چالاکی تھی جس نے دو دن کے اندر ہی اپنی حرکت کی تلافی کرتے ہوئے تصویر واپس اسی جگہ آویزاں کر دی۔ ممکن ہے کہ بی جے پی کی ہائی کمان نے تصویر ہٹانے والے کی سرزنش کی ہو کیونکہ کرناٹک کے ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں اوربی جے پی مسلمانوں کو راغب کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔دوسری طرف وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے قبرستانوں کی طرح ہندوئوں کے شمشان گھاٹ پر بھی بجلی کی روشنی مہیا کی جانی چاہیے، تاکہ ہندو ووٹر یہ سمجھ لیں کہ مودی جی ہندو راشٹریہ فلسفے سے پہلو تہی نہیں کر رہے۔ اس میں شک نہیں بھارت میں ہندو آبادی 80 فیصد ہے، لہٰذا حکومت کا عمومی جھکائو ہندو توا کی طرف ہے۔‘‘
اپنے اسی کالم میں کلدیپ نائر نے لکھا ’’مارچ میں بھگت سنگھ کی سالگرہ کی تقریب کے بعد پاکستانیوں کا ایک وفد اپریل میں امرتسر پہنچا اور جلیانوالا باغ کے المیے کی یاد تازہ کی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے تھے۔ یہ تقریباً وہی بات تھی جو پاکستان کے بانی قائد اعظم نے اس وقت کہی تھی جب وہ 1945ء میں لاء کالج لاہور میں آئے تھے جہاں میں ایک طالبعلم تھا۔ اس موقع پر میں نے سوال کیا تھا کہ اگر بھارت پر کسی تیسری طاقت نے حملہ کر دیا تو پاکستان کا موقف کیا ہو گا۔ اس کے جواب میں قائد اعظم نے کہا کہ پاکستان کے فوجی بھارت کو بچانے کے لیے دشمن سے لڑیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ 1962ء میں جب چین نے بھارت پر حملہ کیا تو پاکستان کے فوجی آمر جنرل ایوب خان نے بھارت کی مدد کے لیے اپنی فوج نہ بھیجی۔‘‘ (قائد اعظم نے مذکورہ بات حسنِ نیت سے کی تھی مگر بدنیت کانگرسی قیادت نے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہا کر اور جموں و کشمیر کے بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر کے قائد اعظم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔)
کلدیپ نائر لکھتے ہیںکہ ’’ قائد اعظم محمد علی جناح کا نام تقسیم بر صغیر کے ساتھ منسلک ہے لیکن کیا تقسیم کے ذمہ دار بھی وہی تھے ؟میں نے 1990ء کی دہائی کے اوائل میں لندن میں برصغیر کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ رچرڈ ایٹلی اس بات کے بہت مشتاق تھے کہ بھارت اور پاکستان میں کوئی چیز مشترک ہونی چاہیے۔ مائونٹ بیٹن نے اس سلسلے میں کوشش بھی کی لیکن قائد اعظم نے کہا کہ انہیں بھارتی لیڈرں پر اعتبار نہیں، انہوں نے کابینہ مشن پلان منظور کر لیا جس میں کمزور مرکز کی بات کی گئی تھی، لیکن وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا کہ اس کا فیصلہ آئین ساز اسمبلی کرے گی جس کا نئی دہلی میں اجلاس ہو رہا تھا ۔ (نہرو کے موقف بدلنے پر قائد اعظم نے بھی کابینہ مشن پلان کی منظوری واپس لے لی۔ ) 1940ء میں جب مسلم لیگ نے قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی تو تقسیم ناگزیر ہو گئی۔ دونوں فریق حقائق سے اغماض برت رہے تھے جب انہوں نے آبادی کے تبادلے کے خیال 
کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ کام لوگوں نے خود کیا۔ ہندو اور سکھ یہاں سے وہاں چلے گئے اور مسلمان اُدھر سے ِادھر آ گئے، باقی سب تاریخ ہے۔ ہندوئوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ تقسیم مسلمانوں کی نجات کا راستہ تھا۔ آج بھارت میں مسلمانوں کی تعداد 17 کروڑ سے زیادہ ہے لیکن بھارت کے حکومتی معاملات میں ان کا کچھ تعلق واسطہ نہیں۔ انہیں ووٹ ڈالنے کا حق ہے لیکن فیصلہ سازی میں اب مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے بھارت میں سیکولرازم کو مضبوط کیا جائے تاکہ ملک کی تمام آبادی محسوس کرے کہ وہ ملکی امور میں برابر کے شریک ہیں۔ ‘‘
گزشتہ ماہ کلدیپ نائر نے بھارت امریکا تعلقات میں اتار چڑھائو کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے لکھا: ’’ایک خود سر حکمران ملک کے جمہوری نظام کو تلپٹ کر سکتا ہے اور یہی کام صدر ٹرمپ کر رہے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ایک سامراجی طاقت کی شکل بھی اختیار کر رہے ہیں ۔ بھارت کے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں کیونکہ دونوں ملک جمہوری ہیں۔ ایک دنیا کی مضبوط ترین جمہوریت جبکہ دوسرا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے۔ ٹرمپ نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ایرانی تیل کی درآمد بند کر دے لیکن بھارتی حکومت نے جواب دیا ہے کہ بھارت نے ایران سے تیل لینے کا طویل المدت معاہدہ کر رکھا ہے جس نے بھارت کو باقاعدگی سے اور نسبتاً سستی قیمت پر تیل برآمدکرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔ بھارت اور ایران کی اس افہام و تفہیم میں ٹرمپ کے اچانک فیصلے سے رخنہ اندازی ہوئی ہے۔‘‘
’’وائٹ ہائوس میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ صدر ٹرمپ کی پہلی ملاقات میں چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بھی زیر بحث آیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اپنی انتخابی مہم میں بھارت کے ساتھ قریبی دوستی اور تعاون کا وعدہ کیا تھا اور اب اس وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ٹرمپ نے مودی کی وسیع کامیابیوں پر ان کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ مودی اور میں دونوں عالمی لیڈر ہیں۔ ٹرمپ کے بقول سابق امریکی صدور کینیڈی، کلنٹن اور اوباما کی زیادہ توجہ اس بات پر تھی کہ بھارت سے زیادہ تعلقات کا کہیں پاک امریکا تعلقات پر منفی اثر نہ پڑے ۔ لیکن امریکا نے اب بھارت کے ساتھ تعاون اور سفارتی تعلقات کا نیا دور شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بھارت امریکا سکیورٹی پارٹنر شپ بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے اپنی بیٹی ایوانکا کو خاص طور پر بھارت کے دورے پر بھجوایا ۔ گویا امریکا کو نریندر مودی کی صورت میں ایسا پارٹنر مل گیا ہے جو پاک چین پارٹنر شپ کا توڑ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
کلدیپ نائر بھارت اور ایران کے تعلقات پر لکھتے ہیں کہ ’’جہاں تک ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں امریکا بھارت کو ابھی تک قائل نہیں کر سکا۔ امریکا کی بڑی کوشش تھی کہ بھارت ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر لے جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہوئی۔ بھارت اور ایران نے تیل اور گیس کے میدان میں دو طرفہ تعاون کا ایک معاہدہ کر رکھا ہے۔ دونوں ممالک دفاع کے میدان میں بھی باہمی تعاون کی کوشش کر رہے ہیں جن میں متعلقہ افسروں کی تربیت اور سرکاری دوروں کا تبادلہ شامل ہیں۔ ظاہر ہے دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف ہو گا۔ بھارت ایران میں جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مدد دے گا، نیز ایران کی بندر گاہ چاہ بہار کو جدید شکل دینے اور ’’چاہ بہار، فہرج، بام ریلوے لنک‘‘ کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔‘‘