13 نومبر 2018
تازہ ترین

اُف یہ خبریں بلکہ اُف یہ خبریں بلکہ

بے شمار الٹی سیدھی خبریں بلکہ اکثر تو ایسی خبریں آیا کرتی ہیں کہ ہمیں الٹا لٹک کر پڑھنی پڑتی ہیں، پھر کوئی بات مغز کو اچھی لگتی یا سمجھ میں آتی ہے۔ کیا کریں جناب ان خبروں نے تو جینا حرام کر رکھا تھا۔ معاملہ یوں بھی اکثر ہوا کرتا کہ جس پہ یقین ہوتا وہی جھوٹا نکل آتا۔ ایسے جیسے کہ چنے کے کھیت میں سورج مکھی نکل آئے۔ خبروں کا کیا ہے خبریں تو ہوا کے دوش پہ لفظوں کا پیراہن لیے کٹی پتنگ کی طرح ڈولتی لڑکھڑاتی کبھی کسی حویلی پہ بجلی بن کے گر پڑتی ہیں، کبھی کئی ایکڑ اس خالی زمین پہ جو عوام سے ہاؤسنگ سکیم کے لیے اینٹھی جاتی اور کبھی تو خبر ٹھیکیداروں کے ان پٹواریوں کے چوغے میں شرلی بن کے گھس جاتی جو کئی عشرے سے خالی فائلوں کو بغل میں دبائے دبکے بیٹھے رہا کرتے تھے تو سرکار (خبر کوئی مخول نہیں) کوئی (چوہے بلی دا کھیڈ نیئں) مگر ہم نے سمجھ رکھا تھا۔ شاید خبر جہاں گرم ہوئی وہاں خبر کے زہر سے ڈسا جانے والا ٹھنڈا پایا گیا (لو جی گل ای مک گئی) مدعا بھی گیا، مدعی بھی گیا۔ مگر ذرا ٹھہریں جناب خبر تو ٹی وی ڈراموں کی زہریلی ساس ہے جو نا صرف مختلف کرداروں کو ڈستی ہیں بلکہ نسلیں ہی ہڑپ کر جاتی ہے۔ تو اور کیا ہمارے اطراف کچھ ایسا ہی تو ہوا۔ خبر کو معمولی سمجھنے والے بہت جلد اس کی غیر معمولی اہمیت کو جان لیں گے بلکہ اس کی زد میں آنے والے تو اتنے پریشان ہیں کہ کہتے ہیں
’’خبر الٹی‘‘ سلجھا جا رے بالم
میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے
مگر اب خبریں بالم کا روپ نہیں دھارتیں بلکہ الٹتی ہیں تو اس میں اور گنجل پڑ جاتے ہیں اور خبریں کانوں کو ہاتھ لگانے تک ہی محدود رہتی ہیں۔
خبروں میں خبر جہاں اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کی نئی پالیسیز کی آتی ہیں جو عوام کیلئے دھماکہ خیز ہیں۔ یہ تو آنے والے وقت میں ہی پتا چلے گا کہ ان کے اس دھماکے سے عوام کے کانوں سے دھواں نکلتا ہے یا کانوں کو خوشیوں کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ اسی طرح سے بلدیاتی نظام میں 2013ء کا ایکٹ ختم کر کے 2018ء کا نیا ایکٹ عوام کے سامنے لانے کا جو پروگرام بنایا ہے، وہ بھی لوگوں کو چونکا دینے والا ہے۔ عمران خان نے 1992ء میں جس طرح پاکستان کو ورلڈ کپ جتا کر حیران کرنے کے ساتھ ساتھ مسرت و شادمانی سے ہمکنار کیا تھا، لگتا ہے کہ ان کے اندر وہی عمران خان جاگ اٹھا ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ساتھ وہ پاکستانی عوام کو چونکا دینے، حیران کرنے اور شادمانی سے ہمکنار کرنے کا عزم لے کر نکلے ہیں۔
پاکستان میں تبدیلی کی ہوا چل نکلی ہے۔ اس سے بڑے بڑے طرم خانوں کے دماغوں سے خود غرضی، مفاد پرستی، کرپشن، بھتا خوری اور اقربا پروری کے جراثیم کسی بھی کمپنی کے تیزاب کے استعمال کے بنا ہی مر رہے ہیں۔ یہ وہ انہونی ہے کوئی مائی کا لعل نہیں کر سکتا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایسا ہی کامیاب بلدیاتی نظام چلا کر پی ٹی آئی پنجاب کے صوبہ اور یہاں کے لوگوں کو بھی اس سے مستفید کرنا چاہتی ہے (اندھا کیا چاہے دو آنکھیں)۔ زندگی کے جس اذیت ناک مراحل سے عوام گزرتے ہے اور انتھک کوششوں کے باوجود بھی وہ اپنے چُنے ہوئے نمائندوں کو اپنی آواز پہنچانے سے قاصر رہتے ہیں۔ 2018ء کا ایکٹ تیار ہو جاتا ہے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے تو ایسی صورتحال سے عوام کو دوبارہ نہیں گزرنا پڑے گا، جس طرح اعلان ہو گیا ہے اور بلدیاتی نظام کے نفاذ کیلئے پنجاب کے سینئر وزیر اور وزیر بلدیات عبدالعلیم خان نے عہدے کا چارج لیتے ہی محکمہ بلدیات کے افسران سے تجاویز مانگ لی ہیں۔ اب اگر کوئی کہے (چیچی دا چھلا ماہی لا لیا) تو کہتا رہے کیونکہ اب تو پی ٹی آئی ہی کہتی ہے گورے رنگ تے دو پٹیاں دی چھاں کر کے، دل لے جا نکی جئی ہاں کر کے۔
تو جناب مختلف نظاموں کی تبدیلی نئی پالیسیز اور انوکھی حکمت عملی کے ساتھ عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے رنگ گورا ہو یا کالا، دوپٹا ململ کا ہو یا مخمل کا اور کوئی ہاں کہے یا نہ کہے دل تو آئیں گے۔ عبدالعلیم خان ایک تجربہ کار وزیر ہیں، انہوں نے پنجاب کی کابینہ کیلئے تعلیمی معیار مقرر کیے ہیں۔ جس کی بنا پہ روایتی گلی محلوں کے سیاستدان جو پیسے کے بل بوتے پر الیکشن لڑ کر جیتا کرتے تھے، وطن کی عزت نہیں اچھال سکیں گے۔ بلدیات کے ترقیاتی فنڈ میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہو گا۔ اس طرح عوام کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو سکے گا۔ اسمبلی میں آنے والوں کو پتا ہو گا کہ بھتا خوری نہیں چلے گی تو ایسے لوگ جو پیسہ ہڑپ کرنے کی خاطر اسمبلی میں شطرنج کی بساط بچھانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ خودبخود گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جائیں گے۔ الیکشن سستا ہو جائے گا۔ ہمارے سامنے قابل اور تعلیم یافتہ لوگ آئیں، عوام اور ملک کی قسمت بدل جائے گی۔
نیزہ باز اگر نشانہ درست انداز لگائے یعنی کہ پاؤں کا رکھنا، انگلیوں میں نیزہ پکڑنا نگاہ نشانے کی جانب اور سانس کو کھینچ کر نیزہ پھینکنا، وہ حکمت ہے جس پر عملدرآمد کر کے ہی نشانہ چُوکنے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے ہمارے پاس تیر انداز بھی ہے اور نیزہ بھی مگر؟ بات نکلے گی تو بہت دور تک جائے گی، ایک مچھلی ہی پورے جل کو گندا کرتی ہے۔ ہمیں یہ بحث نہیں کرنی کہ کسی نے کیا کہا اب جو تبدیلی لانے کا نیک گمان سروں میں سمایا ہے تو دیکھئے کیا ہوتا ہے کیونکہ غالب تو کہہ گئے کہ
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے
2018ء ایکٹ کا بلدیاتی نظام کچھ یوں ہے کہ
٭ اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہوں۔  

٭ کمشنر کا عہدہ ختم کردیاجائے گا۔
٭ڈپٹی کمشنر کے ماتحت تمام ادارے ہونگے۔
٭تمام ادارے ناظم یا میئر کو جوابدہ ہونگے۔
٭موجودہ یونین کونسلوں کی تعداد کم نہیں ہو گی۔
٭پولیس کو اس نئے نظام میں الگ ہی رکھا جائے گا۔
٭اس نظام میں وفاقی وصوبائی حکومتیں مداخلت نہیں کر سکیں گی۔
٭چیک رکھنے کیلئے لوکل کمیشن بنایا جائے گا۔
کسی ممبر قومی وصوبائی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہیں دیے جائیں گے نئے بلدیاتی نظام کی ایک جھلک دیکھتے ہیں۔
٭ڈویلپمنٹ کا سارا کام بھی بلدیاتی نمائندوں کے ذمے ہو گا۔
مزید تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
بقیہ: صورتحال