25 ستمبر 2018
تازہ ترین

آغاز اچھا ہے… آغاز اچھا ہے…

22 سالہ جدوجہد کے بعد عمران خان کے بحیثیت وزیراعظم موقف اور فیصلوں سے بظاہر تو یوں لگ رہا ہے کہ ’’آغاز اچھا ہے‘‘ اس ضمن میں ان کا سب سے زیادہ متاثر کن رویہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کے خلاف ردعمل کی صورت دیکھنے میں آیا، نتیجتاً ہالینڈ کے ملعونوں کو مقابلہ منسوخ کرنا پڑا۔
عمران خان ناصرف پاکستان بلکہ غالباً مسلم دنیا کے بھی واحد ریاستی سربراہ ہیں، جنہوں نے ان خاکوں کے خلاف عوام کے نمائندہ فورم سے آواز بلند کی، اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور معاملے کو عالمی سطح پر لے جاکر اس کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔ ان سے قبل ملکی تاریخ میں آج تک کسی حکمران کو یہ جرأت نہ ہوسکی کہ وہ اس پر واضح موقف اپناسکے۔ عمران خان نے پاکستان کو مسلم امہ کی امنگوں کا ترجمان ثابت کرکے سربراہ مملکت ہونے کا حق بھی ادا کیا۔ وہ لوگ جو کپتان کو یہودی لابی کا ایجنٹ کہا کرتے تھے، اس اقدام سے یہ تاثر بھی زائل ہوا۔ اس سے قبل تک ایسے معاملات پر اسمبلیوں میں صرف قراردادیں منظور ہوا کرتی تھیں یا پھر سڑکوں پر احتجاج ہی دکھائی دیتا تھا… دوسری طرف آج تک ہمارے کسی وزیر خارجہ نے بھی متعلقہ ملک کے ہم منصب سے رابطہ کرکے اس ضمن میں تحفظات کا اظہار کیا اور نہ پاکستانیوں کے جذبات ان تک پہنچاتے ہوئے کوئی احتجاج ریکارڈ کروایا، لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے یہ بھی کیا، یعنی ہمارے بعض طبقات حکمراں جماعت کی سوچ کو جس طرح لبرل اور پاکستانی معاشرے سے متصادم کہا کرتے تھے، وزیراعظم کے موجودہ رویے نے ان تمام تحفظات کی نفی کرتے ہوئے ایک تاریخی کریڈٹ لیا ہے۔ 
سابق حکمرانوں کی دلچسپیاں اور ترجیحات ذاتی مفادات سے وابستہ تھیں، مگر موجودہ حکومت کی سوچ قطعی مختلف اور منفرد ہے۔ عمران خان نے بہت خوبصورت بات کہی کہ جب انہیں کسی غیر ملکی دورے میں ملک کا فائدہ نظر آئے گا تو ضرور جائیں گے، وگرنہ خوامخواہ دورہ جات کرکے پیسہ اور وقت برباد نہیں کرنا چاہتے۔ بلاشبہ یہ بات درست بھی ہے کہ جب آپ کچھ سمیٹ کر نہیں لارہے تو غیر ملکی سربراہوں سے خالی خولی ملاقاتیں کرنے یا ’’فوٹو سیشن ایم اویوز‘‘ کرنے کا کیا جواز ہے؟ ہم اگر نواز شریف کا بحیثیت وزیراعظم دور دیکھیں تو انہوں نے 2013 سے 2017 کے دوران 64 غیر ملکی دورے کیے جن پر مجموعی طور پر ایک بلین سے زائد اخراجات آئے۔ ہم پہلے ہی مقروض قوم ہیں، یعنی ترقی پذیر ملک کے سربراہ کا لائو لشکر سمیت ایک بلین سے زائد رقم محض سیر سپاٹوں یا ’’سجدہ ریزی‘‘ پر خرچ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا، جب تک کہ اس کا براہ راست ملک اور قوم کو فائدہ نہ ہورہا ہو۔ اس ضمن میں عمران خان کا موقف انتہائی قابل تحسین ہے… بلاشبہ ایک پسماندہ ملک کے سربراہ کی سوچ ایسی ہی ہونی چاہیے۔ ہمیں سابق حکمرانوں کے شاہانہ طرز عمل نے ہی اس دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے کہ آج ہمارا ہر پیدا ہونے والا بچہ ہزاروں روپے کا مقروض ہے۔ 
مجھے عمران خان کی دُوراندیشی نے اس حوالے سے بھی بہت متاثر کیا کہ انہوں نے اپنی رننگ ٹیم میں ان لوگوں کو شامل کیا، جن کے بارے میں اندازہ ہی نہ تھا کہ یہ کبھی حکومت میں آسکیں گے۔ انہوں نے ایسے ایسے اتحادیوں کو حکومتی عہدے دیے ہیں، جن کی اپنی تو کیا، پارٹی کی بھی کوئی ویلیو نہ تھی… اور ایسے ایسے لوگوں کو بھی ’’تکلیف دہ عمل‘‘ سے گزارا، جنہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا گذشتہ کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی بہانے سے حکومت کے ساتھ چمٹے رہنے کو بنا رکھا تھا۔ 
مجھے اس منجھے ہوئے اور معتبر سیاستدان پر بہت ترس آتا ہے جسے ایک طویل عرصہ بعد اقتدار سے دور رہنا ہضم نہیں ہورہا اور داخلِ اسمبلی ہونے کے لیے کسی زخمی شیر کی طرح دھاڑے چلا جارہا ہے، اس نے الیکشن نہ ماننے اور ری الیکشن کے لیے بیشتر حلیفوں اور حریفوں کو ساتھ ملانے سمیت بہت سے حربے استعمال کرکے دیکھ لیے، لیکن مسلسل  ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہاں تک کہ آخری حربے کے طور پر صدارتی الیکشن بھی لڑ کر دیکھ لیا مگر سبکی ہوئی۔ موصوف کے ساتھ پہلی مرتبہ قسمت نے یہ کھیل کھیلا ہے، لیکن حضور کچھ دن اسمبلی سے باہر رہنے کی بھی عادت ڈالیے۔ یہ فضا بھی آپ کی صحت پر بہت خوشگوار اثرات مرتب کرے گی۔ 
عمران خان نے امریکا کے خلاف بھی جو موقف اپنایا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ امداد بند کرنے کا ڈراوا دے کر اپنی بات منوانے کی مثالیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ دنیا سے علیحدہ، تنہا کردینے کی دھمکی بھی ہمیں یاد ہے اور اس پر امریکا کے آگے جھک جانا بھی ہم نہیں بھولے، لیکن نئے وزیراعظم نے پہلے ہی رابطے پر ملک کا وقار مقدم رکھا، مستقبل میں اس کے بلاشبہ مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔ 
نئے وزیراعظم نے بہت سے ورکرز کو پارٹی سے طویل وابستگی کا بھی انعام دیا ہے، کسی کو وزارت، کسی کو اسمبلی رکنیت کی صورت میں نوازا… بالخصوص لمبے عرصہ سے پارٹی کے ساتھ وابستہ خواتین کو مخصوص نشستوں پر اسمبلی رکنیت دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی ہے، جو خواتین پہلے ایم پی اے تھیں، انہیں ایم این اے لایا گیا، جو پہلے ہی اسمبلی میں تھیں، انہیں دوبارہ موقع دیا، جو کہیں نہیں تھیں انہیں بھی اسمبلیوں میں نمائندگی دی گئی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، عندلیب عباس، ڈاکٹر سیمی بخاری، صادقہ صاحب داد، شمسہ علی، فرح آغا، شاہدہ ملکہ اور ایسے ہی کئی نام ہیں جنہیں دیرینہ وابستگی پر یوں آگے لایا گیا اور صوبائی یا قومی اسمبلی میں نشست دی گئی۔ 
عمران خان ایک وژن کے تحت حکومت میں آئے ہیں۔ کرنے کو بہت سے کام ہیں اور ان تمام چیلنجز سے وہ خود بھی آگاہ اور ان سے نمٹنے کا ناصرف بارہا اظہار  کرچکے ہیں، بلکہ اس مناسبت سے اقدامات شروع بھی کیے جاچکے ہیں۔ سو آغاز بہت اچھا اور پُرعزم ہے۔ دعا ہے کہ یہ بہتر سے بہترین کی طرف جائے۔ ضروری ہے کہ اب تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کو بطور وزیراعظم تسلیم کرلیا جائے۔ نئی ٹیم ہے، پُرعزم ہیں اور کچھ کرکے دکھانا چاہتے ہیں… لہٰذا حکومت کے اقدامات کو سراہیں، اس کا ساتھ دیں، جہاں اسے منشور سے ہٹتا دیکھیں گرفت کریں، وگرنہ برداشت کریں اور کام کا موقع دیں۔