اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں(2) اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں(2)

کچھ سیاسی دانشوروں کا یہی خیال ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستانی سیاست میں جرائم کو سیاسی رنگ دے کر سیاست کو جرائم سے آلودہ کرنے کا بیشتر کریڈٹ بھی آصف علی زرداری کو ہی جاتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ آصف علی زرداری کی مبینہ کرپشن کو چھپانے کیلئے سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو نے جنوری اور جولائی 2007ء میں ابو دبئی میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف سے دو خفیہ ملاقاتوں میں بظاہر اپنے شوہر آصف علی زرداری کے دباؤ پر National Reconciliation Order یعنی ’’این آر او‘‘ کے نام پر مطالبہ کیا کہ مشرف دور میں جن سیاسی شخصیتوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، اُنہیں این آر او کے تحت اِن جرائم سے بری الزمہ قرار دیا جائے۔ دراصل جمہوری ملکوں کی تاریخ میں آصف علی زرداری ایسی سیاسی شخصیتوں کی کمی نہیں ہے، جنہوں نے کرپشن کو چھپانے کیلئے جوڈیشل قانونی موشگافیوں پر گہری نظر رکھی ہوتی ہے۔ آصف علی زرداری اِس اَمر کو اچھی طرح جانتے تھے کہ سیاست میں آگے بڑھنے کیلئے عوام کی بھلائی کی دانشورانہ فکر ہو یا نہ ہو، دولت ہی وہ واحد زینہ ہے جو اقتدار کی دیوی کو قدموں پر گرا سکتا ہے۔ درحقیقت اُنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جلا وطنی کے زمانے میں ہی اپنی سیاست کے خواب جگانے کی کوشش کی، جب اُنہوں نے انتہائی چالاکی سے سابق صدر پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو کی جگہ اپنی ذات کی سیاسی بحالی کیلئے راضی کر لیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی کتاب میں لکھتی ہیں: میں امریکا میں تھی جب 2002ء مجھے اڈیالہ جیل میں قید اپنے شوہر آصف علی زرداری کا فون آیا، اُن کا کہنا تھا کہ اگر بے نظیر بھٹو دس برس کیلئے 
سیاست سے علیحدہ ہو جائیں تو وہ مجھے رہا کر دیں گے اور کیس سے متعلقہ تمام الزامات سے چھٹکارا حاصل ہو جائیگا، لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے اِس ڈیل سے اتفاق نہیں کیا۔ البتہ سابق صدر پرویز مشرف نے زرداری کے ٹیلنٹ کو محسوس کرتے ہوئے این آر او کے بغیر ہی 2003ء  میں نا صرف رہا کر دیا بلکہ آصف علی زرداری کو سیاست میں حصہ لینے کی بھی آزادی دے دی۔
زمانے کے اُتار چڑھاؤ اور قید و بند کی مشکلات سے گزرنے کے دوران آصف علی زرداری جوڈیشل نظام کی اچھائیوں اور کوتاہیوں کو اچھی طرح جان چکے تھے۔ اس کا فائدہ اُنہوں نے پاکستانی عدالتوں کے علاوہ لندن اور سوئس کورٹس کے مقدمات میں بھی اُٹھایا۔ لندن کی عدالت میں سرے محل کی ملکیت سے وہ آخری وقت تک انکاری رہے، لیکن جب کورٹ سرے محل کو فروخت کر کے اِس کی رقم حکومت پاکستان کو دینے کا فیصلہ کرنے والی تھی تو آصف علی زرداری نے مبینہ طور پر اِسے اپنی ملکیت تسلیم کر لیا۔ چنانچہ سوئس مقدمات میں بھی ٹرائل کورٹ و اپیلٹ کورٹ میں قابل اعتماد شہادتوں کی موجودگی میں جب اُن کی کرپشن سے کمائی ہوئی دولت اور ہیروں کے بیش قیمت ہار کے مقدمے کی سماعت ہوئی تو آصف علی زرداری نے بیرون ملک ہونے کے باوجود کورٹ ہذا میں پیش نہ ہوئے اور اپنی اہلیہ کے ہمراہ چھ ماہ قید کے سزاوار ٹھہرائے گئے۔ سوئس کورٹ سے سزاوار ہونے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے سوئس اپیلٹ کورٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ضرور ریکارڈ کرایا، جس میں مبینہ طور پر اُنہوں نے کہا تھا کہ متعلقہ سوئس اکاؤنٹس سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اِن اکاؤنٹس سے اُن کے شوہر آصف علی زرداری اور اُن کی والدہ کا تعلق ہے جبکہ ہیروں کا ہار بھی آصف علی زرداری کی ملکیت ہے، جسے اُنہوں نے نامناسب تحفہ سمجھتے ہوئے قبول نہیں کیا تھا۔ اُن کی والدہ محترمہ نصرت بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد ذہنی طور پر انتہائی پریشانی کا شکار تھیں، جنہیں زرداری صاحب نے پوتے اور پوتی سے جدا کر کے دبئی منتقل کر دیا تھا، چنانچہ بیگم بھٹو اپنی زندگی میں بھی اِن اکاؤنٹس سے اپنا تعلق یا لاتعلقی ظاہر کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔
بہرحال، محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں کا یہی کہنا تھا کہ اُن کے شوہر آصف علی زرداری کی کرپشن سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن سوئس کورٹ میں پیش ہونے کے بعد اُن پر یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آ گئی تھی کہ اُن کے شوہر کی کرپشن کے بارے میں پاکستانی اور غیر ملکی مصنفوں نے جو کچھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے، وہ اُن کیلئے الیکشن 2007/08 میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ جب وہ 2007ء میں پاکستان تشریف لائیں تو اُنہوں نے آصف علی زرداری کے مبینہ کرپشن لنکس کو جانتے ہوئے نا صرف زرداری صاحب کو بچوں کے پاس دبئی میں ہی چھوڑ دیا بلکہ اُنہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی سیٹ پر الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹ بھی جاری نہیں کیا تھا۔ صد افسوس کہ راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دہشت گردی کے واقعہ میں شہادت کے بعد ہمدردی کی لہر کے حوالے سے جب آصف علی زرداری صدر مملکت کے طور پر پاکستانی سیاست میں متحرک ہوئے تو اُنہوں نے محترمہ کے قاتلوں کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، بلکہ اقوام متحدہ انکوائری ٹیم کی رپورٹ میں شامل اہم تفتیشی نکات کو بی بی مقدمہ قتل میں شامل کرنے کے بجائے اُسے طاق نسیاں کر دیا۔
 اِس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جس شاطرانہ انداز سے کرپشن و منی لانڈرنگ سے متعلق سوئس مقدمات کو ختم کرانے کیلئے برطانیہ میں تعینات سفیر واجد شمس الحسن کے ذریعے سوئس عدالتوں سے کیس ٹائم بارڈ کرا کے کاغذات نکلوائے گئے، وہ انتہائی حیران کن بات تھی کیونکہ پاکستان سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی یہ سب کچھ غیر قانونی طریقے سے سوئس عدالتوں سے مقدمات کے فائلوں کو منتقل کر کے کیا گیا تھا۔ اس سے واضح طور پر آصف علی زرداری کی پاکستانی قومی دولت کی لوٹ مار کے الزامات سے بری الزمہ قرار دینے کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ اب یہی کچھ حسین لوائی(گرفتار) منی لانڈرنگ کیس میں زرداری صاحب اور اُن کی ہمشیرہ کے ملوث ہونے کے حوالے سے مقتدر حلقوں کی مدد سے کیا جا رہا ہے۔ بہرحال یہ اَمر خوش آئند ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے برسوں سے چھائے ہوئے اسٹیٹس کو کے جال کو ملک سے ختم کرنے کیلئے منی لانڈرنگ کیس میں این آر او پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
درج بالا تناظر میں وقت آ گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کے حوالے سے نا صرف سابق صدر پرویز مشرف کے چند ماہ قبل دیے جانے والے ویڈیو لنک بیانیہ پر سابق صدر آصف علی زرداری کو بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا الزام آصف علی زرداری پر لگانے کی تصدیق کیلئے پاکستان واپس لایا جائے اور عدالتی مقدمے کا حصہ بنایا جائے۔ سابق صدر پرویز مشرف کا یہ کہنا یقیناً باعث تشویش ہے کہ بیت اللہ محسود اُن کا دشمن تھا، جسے مبینہ طور پر زرداری نے اپنے افغان/ طالبان کنکشن کو بی بی کے قتل کی سازش میں استعمال کیا۔ بادیٔ النظر میں مشرف نے زرداری پر سنجیدہ نوعیت کے الزامات میں کچھ ایسے سوالات قائم کیے ہیں جن کی مناست تحقیق و تفتیش ضروری ہے۔ (ا) بی بی کو دی گئی بلٹ پروف گاڑی کی چھت کٹوا کر کھڑکی کس نے بنوائی۔ (ب) بی بی نے دو گھنٹے تک اطمینان سے خطاب کیا اور پھر گاڑی میں آ کر بیٹھ گئیں تو اُنہیں کس نے فون کر کے گاڑی سے سر نکالنے کیلئے کہا اور پھر اُن کا موبائل فون دو سال کے بعد ثبوت مٹا کر کس نے پیش کیا۔ (ج) گاڑی کے اندر بیٹھے چشم دید گواہوں، صفدر عباسی، ناہید خان اور مخدوم امین فہیم کو بیان کیلئے عدالت میں کیوں نہیں بلایا گیا۔ (د) زرداری کے جیل کے ساتھی خالد شہنشاہ اور رحمٰن ملک کو کس تجربے کی بنیاد پر بی بی کی سکیورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ (ف) بی بی کے قتل کے بعد خالد شہنشاہ اور پھر اُس کے قاتل کو کس نے قتل کیا۔ (ق) بی بی کی واپسی کے روٹ کو کس نے تبدیل کرایا اور رحمٰن ملک، جو بی بی کی سکیورٹی کے انچارج تھے، بی بی کی سکیورٹی چھوڑ کر اسلام آباد کیوں چلے گئے؟ بہرحال یہ اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سابق صدر مشرف کے الزامات اور اقوام متحدہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں بی بی قتل کیس کی از سر نو انکوائری کرائی جائے تا کہ مقتولہ کے قتل کے اصل مجرمان کو قانون کے سامنے لایا جائے۔