19 نومبر 2018

آرزوئوں کا جہاں آرزوئوں کا جہاں

انسان کا اصل خواہش ہے یا آرزو یا ہوس، لالچ، حرص۔ انسان تو ایک وجود کا نام ہے، دنیا میں ہر باشعور جوان، بوڑھا، عورت، لڑکی سب جب تک زندہ ہیں، آرزوئوں کے جال میں جکڑے رہتے ہیں اور اکثر ناجائز خواہشات میں مبتلا رہتے ہیں، شاید زندگی اسی کا نام ہے، سب سے بڑی آرزو دولت مند ہونے کی ہے، پوری دنیا دولت کے لیے ماری ماری پھر رہی ہے اور اس کی کوئی آخری حد نہیں۔ آپ نے کبھی سنا نہیں ہوگا کہ کسی آدمی نے کہا ہو کہ مجھے اب مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ انسان کے دماغ میں سب سے بڑا خانہ ہوس کا ہے، جو کبھی بھرتا ہی نہیں، چاہے اس میں سات سمندروں کا پانی ڈال دیا جائے۔ اس کی وسعت خاصی ہے، باقی دنیا میں سب کچھ چھوٹا ہے۔ آج بھی دنیا میں ایسے سیکڑوں انسان ہیں جو مال و زر کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں، مگر سکون میں نہیں ہیں۔ پرانے زمانے میں لاکھوں کروڑوں دولت مند گزرے، جب آدمی دولت حاصل کرکے حد سے آگے چلاگیا تھا مگر ایک وقت ایسا آتا ہے، جب دولت مند تھک چکا ہوتا ہے، جب صحت جواب دیتی ہے۔ کبھی کبھی دولت کی خاطر بندہ کوشش نہیں کرتا، دنیا میں اپنا نام پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے تو دولت اس کے پاس خود ہی آجاتی ہے، زیادہ تر لوگ صرف دولت حاصل کرنا چاہتے ہیں، چاہے چوری ڈاکے کا کام کرنا پڑے۔ نامور کار کمپنی کا مالک بیڈ فورڈ دولت مند ہوگیا تھا، وہ فرانس کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا، اسے ہوٹل بڑا پسند آیا، اس نے ویٹر سے پوچھا یہ ہوٹل کس کا ہے؟ میں یہ ہوٹل خریدنا چاہتا ہوں، ویٹر نے کہا، میں نے مالک کو کبھی نہیں دیکھا۔ سنا ہے یہ ہوٹل بیڈ فورڈ نامی کسی شخص کا ہے، اس کی بہت بڑی کمپنی ہے، اس کے ساری دنیا میں ہوٹل ہیں، بیڈ فورڈ بڑا پریشان ہوا کہ 
میں اس کا مالک ہوں۔ بیڈ فورڈ کے دس بڑے ادارے تھے جو پوری دنیا میں بہت سے کام کرتے تھے۔ جب وہ بوڑھا ہوگیا تو اس کا کھانا پینا بند ہوگیا، اب اس کی آرزو دولت نہ تھی، کھانا ہضم ہونا تھا جب کہ دنیا کے کروڑوں انسان بیڈ فورڈ بننا چاہتے تھے۔ ایک دن فورڈ لندن کے ایک باغ میں سیر کررہا تھا، اس نے ایک دن غریب آدمی کو کھانا کھاتے دیکھا تو اس کو آرزو ہوئی کہ اے اﷲ مجھ سے ساری دولت واپس لے لے اور مجھے کھانا ہضم کرنے کی طاقت دے دے تو انسان کی آرزوئیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، کبھی دولت کی خواہش ہوتی ہے کبھی دولت سے نفرت ہوتی ہے۔ 
دولت بے شک بہت بڑی چیز ہے مگر آخری دولت زندگی اور صحت ہے، جب صحت چلی جاتی ہے تو دولت کسی کام کی نہیں رہتی اور انسان ساری زندگی کی کمائی دے دے تو بھی صحت خرید نہیں سکتا۔ ہمارے ایک دوست اور مہربان ڈاکٹر سید جاوید سبزواری کے والد کا انتقال ہوگیا تو ہم سارے ویلنشیا ٹائون والے جنازے پر گئے تھے، وہ دل کے ڈاکٹر ہیں اور ویلنشیا میں ہی کلینک ہے، کہتے ہیں یہاں بڑے بڑے امیر لوگ آتے ہیں، جن کے پاس اربوں روپے ہوتے ہیں مگر جب زندگی کی ڈور کٹتی نظر آتی ہے تو پھر دولت بھول جاتی ہے، صرف اور صرف صحت اور زندگی کے لالے پڑے ہوتے ہیں، آج کل ایک بہت امیر آدمی زیر علاج ہے، ایک دو کروڑ والی گاڑی جاتی ہے تو دوسری آجاتی ہے۔ وہ صاحب اربوں کھربوں کے مالک ہیں تو کبھی کبھی میں ان سے باتیں کرتا ہوں اور میں کہتا ہوں آپ ٹھیک ہوجائیں گے فکر نہ کریں، میں ان سے پوچھتا ہوں اب آپ کی زندگی میں کوئی خواہش باقی ہے، تو وہ  صاحب کہتے ہیں ہاں میری ایک ہی خواہش ہے میں زندہ رہنا چاہتا ہوں اور کوئی آرزو نہیں، پہلی اور آخری آرزو صحت ہی ہے، گویا دولت کا کام ختم ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں میرے پاس ایک نوکر ہے، اس کی سب سے بڑی آرزو امیر آدمی بننا ہے، اسے صحت اور زندگی کا کبھی خیال ہی نہیں آیا، حالانکہ وہ سارا دن ہسپتال میںکام کرتا ہے، پھر بھی اسے موت کا خوف نہیں، اس کے سامنے اکثر لوگ مرجاتے ہیں، پھر بھی آرزو دولت ہی ہے، مطلب کہ انسان خواہشوں اور آرزوئوں کی زد میں ہے، بچپن جوانی کی اپنی اپنی خواہش ہیں۔ انسان کی آرزو وقت کے مطابق ہوتی ہے، اگر زندگی میں اﷲ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہتے ہیں تو ان دولت مندوں کو ہسپتالوں میں آکر دیکھا کریں، جن کے پاس دولت کا کوئی حساب نہیں، زندگی کا حساب ختم ہونے والا ہے، یہ دنیا خوابوں اور خیالوں کا جہاں ہے۔ 
چند دن پہلے دلیپ کمار کی بیماری کے بارے میں سوشل میڈیا پر بات ہورہی تھی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا، اگر دلیپ صاحب تھوڑا پانی یا سُوپ وغیرہ پی لیں تو ان کے لیے بہت بہتر ہے۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا تھا کہ صاحب آٹو گراف دے دیں یا مغل اعظم کی کوئی بات بتائیں، بس اب تو زندگی کے لالے ہیں اورکوئی آرزو نہیں۔
نواز شریف اور مریم نواز جیل میں ہیں، آج میاں صاحب کی آرزو کیا ہوگی جیل سے رہائی، حکومت نہیں۔ اس دنیا کا اقتدار کوئی معنی نہیں رکھتا۔ سکون اور آزادی معنی رکھتی ہے۔ دنیا کے ہر آدمی پر ایک دن ایسا آتا ہے جب وہ سکون کی خواہش کرتا ہے۔ انسان کو اگر آخرت کی اصلاح کی آرزو ہو تو پھر وہ عظیم ہے، اس دنیا میں نقص یہی ہے کہ انسان بڑھاپے کے وقت پر ہی اچھی آرزو کرتا ہے، جب انسان پر اچھا وقت ہوتا ہے، جوانی ہوتی ہے پھر انسان دوسروں کو محبت نہیں دیتا، جب خود محبت مانگتا ہے تو پھر اسے دکھ ہوتا ہے کہ لوگ مجھے محبت نہیں دے رہے۔ اﷲ انسان کو برے وقت سے پہلے اپنی آرزوئوں کو بہتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
ہر شخص میں خواہشوں کی بیماری ہوتی ہے
زندگی کہاں ہمیشہ بے چاری ہوتی ہے
تم نے قید کر رکھا ہے خود کو فرازیؔ
ہر خواہش میں خطا ہماری ہوتی ہے
انسان اپنا نقصان خود کرتا ہے، جب عروج کا زمانہ ہوتا ہے تو اس وقت یہ زوال کو یاد نہیں کرتا، جب زوال آتا ہے تو پھر عروج کی طلب کرتا ہے، جہاں تک ہوسکے اپنی آرزوئوں کو کم کردیتا ہے کہ ناکامی میں دکھ کم ہو۔ ہر خوبصورت دن کی شام ہوجاتی ہے۔