اے کے ڈی سے لیکر عام آدمی تک ’’پچھتاوے ہی پچھتاوے‘‘ اے کے ڈی سے لیکر عام آدمی تک ’’پچھتاوے ہی پچھتاوے‘‘

آدمی فہم ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیں
ہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں
(پروین شاکر)
عقیل کریم ڈھیڈی کا خیال ہے کہ عمران خان مکانات توڑ کر دیں گے جبکہ مجھے ڈر ہے کہ ان کے سونامی کی تباہی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ عقیل کریم ڈھیڈی کو عمران خان کا جھنڈا اٹھانے پر بڑا قلق ہے۔ وہ بزنس مین ہیں، نوازشریف بلکہ ان کی ’’سیٹھ‘‘ کے داماد اور بینکر کے بیٹے سے لڑائی نہ ہوتی تو آج بھی ان کی اسحاق ڈار سے گاڑھی چھنتی۔ عمران خان درجنوں بار ان کے گھر ’’دعوت ‘‘ سے مستفید ہو چکے ہیں۔ عمران اسماعیل اور فیصل واوڈا ان کے سہولت کار تھے۔  اسد عمر سے ان کی پرانی یاد اللہ ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو یہ لوگ ایکسپورٹ بڑھانے کے ویژن پر کام کر رہے تھے، اپنے میمن دوستوں کو اس پر آمادہ کر رہے تھے۔ ان کے دوست بجلی اور گیس کا رونا روتے تھے، یہ انہیں دلاسے دیتے تھے۔ اسٹاک مارکیٹ کو انہوں نے دوسرے دوستوں کی مدد سے سنبھالنے کی کوششیں کیں۔ ان لوگوں کی فرمائش پر رزاق داؤد کو سیٹھوں کا نمائندہ بنا دیا گیا۔ کراچی کے ’’سرمایہ کاروں‘‘ کو حب میں نیا انڈسٹریل زون بنانے کا لولی پاپ بھی دے دیا گیا، پتا نہیں میرے کراچی کے کتنے میمن بھائی وہاں پر کتنے ہی ارب انویسٹ کر چکے ہوں گے، جو لگتا ہے کہ جلد ہی مٹی ہو جائیں گے۔ پورے کراچی میں تجاوزات کیخلاف آپریشن نے سیٹھوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ بلڈرز اندر ہی اندر خوش ہیں، اوپر سے وہ محض اشک شوئی کر رہے ہیں۔ ان کا کھربوں کا مال ریت ہو رہا تھا، اب تیزی سے نکلے گا۔ کراچی میں اقساط پر دکان وغیرہ ملنا کوئی بڑی ڈیل نہیں ہے۔ لازمی طور پر لوگ اب مختلف سمتوں کا رخ کریں گے۔ کراچی میں ہر جگہ پر ہی کام چل جاتا ہے، لوگ ہی لوگ ہیں، آبادی ہی آبادی ہے۔
بہرحال کراچی میں جاری آپریشن پر تمام بڑے لوگ خوش ہیں۔ جو دکانوں کے باہر ناجائز پتھارے یا دکانیں لگائے بیٹھے تھے وہ ایک معقول رقم کرائے کی مد میں دیتے تھے۔ ایک کیبن والا کم از کم دس ہزار روپے دیتا ہے۔ کراچی میں ہمارا ایک ساتھی رپورٹر پتھاروں سے ایک زمانے میں ماہانہ دس سے پندر لاکھ روپے کماتا تھا۔ پھر پولیس، بلدیہ اور سیاسیوں کے پتھارے ہیں۔ اربوں کا کام تھا۔ حکومت کو کیا مل رہا تھا۔ عام آدمی کیلئے سڑک ہر دن کے ساتھ چھوٹی سے چھوٹی ہو رہی تھی، فٹ پاتھ سکڑ رہے تھے، تجاوزات پھل پھول رہی تھیں۔ یہ تمام تباہیاں ضیاء الحقی مارشل لا سے شروع ہوئیں، پھر آکاس بیل کی طرح پھیل گئیں۔ اسلام آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ، گوجرانوالہ، حیدر آباد، فیصل آباد یہ تو بڑے شہر ہیں۔ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں تک اس لپیٹ سے محفوظ نہ رہے کیونکہ کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں ہے، نہ لگانے کی اور اب نہ ہٹانے کی۔
 کھوکھوں نے اسلام آباد میں تباہی مچا دی، رحمٰن ملک اور فیصل بٹ نے داتا دربار کی ریوڑیوں کی طرح کھوکھے بانٹے۔ حتیٰ کہ پولیس کو کمیونٹی پولیسنگ کے نام پر ہر مرکز میں ناجائز کمرے ڈالنے کی اجازت دے دی۔ اب کئی جگہوں پر یہ کرائے پر چڑھے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی کراچی اور لاہور میں مچی۔ کراچی صدر، کراچی کی شان تھا۔ کنٹونمنٹ ہونے کے باوجود بھی یہاں قانون کو پاؤں تلے مسلسل روندا گیا، کینٹ میں بھی یہی ریت رہی۔ آپریشن کراچی صدر تک محدود رہتا تو شور نہ مچتا۔ جب یہ جامہ کلاتھ، تبت سنٹر، بولٹن مارکیٹ سمیت 
کاروباری علاقوں میں گیا تو باامر مجبوری عقیل کریم ڈھیڈی، مسعود پاریکھ جیسے لوگوں کو بھی ’’میمن فورم‘‘ کے ذریعے آواز بلند کرنا پڑی حالانکہ دونوں صاحبان خود بڑے بلڈر ہیں۔ من میں تو ان کے بھی لڈو ہی پھوٹ رہے ہوں گے۔ رہ گئے میئر وسیم تو وہ تو یہ بے رحم آپریشن ہر صورت میں کریں گے۔ لوگوں سے مینڈیٹ واپس لینے کے انتقام کا اس بہتر اور کیا موقع ملے گا؟ اوپر سے سپریم کورٹ کے احکامات کا شیلٹر بھی ہے۔ رینجرز اور پولیس الرٹ ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کراچی، ڈی ایچ اے سٹی، ملیر سے ملحقہ نئے ٹاؤنز کی رونقیں ایسے ہی بڑھیں گی۔
رہ گئے صنعتکار تو ابھی تک تمام انڈسٹری کیلئے ’’دوستوں‘‘ نے کیا کیا ہے۔ اسلام آباد شہر کوفہ سے کم نہیں ہے۔ یہاں خزانہ، بجلی اور پٹرولیم میں بیٹھے وزیر اور بابو الگ ہی مخلوق ہیں۔ اپنے دوست میاں اسد حیا الدین سے معذرت کے ساتھ، وہ نیک نیت انسان ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کے باس اور ان کے ساتھی بھی ان ہی کی طرح نیک نیت ہوں۔ بجلی والوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے، اس کے سیکرٹری اس وقت وزارت کے ’’ڈان‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ وزارت تو وزارت، وزیر صاحب بھی ان کے سامنے پر نہیں مار سکتے۔ وہ افسران سے روز ’’ہفتہ خوش اخلاقی‘‘ مناتے ہیں۔ صلاحیت، 
قابلیت اور منصوبہ سازی ایسی ہے کہ سوئی ناردرن کے دانتوں کو پسینہ آیا ہوا ہے۔ سب کچھ پہلے ہی لکھ چکا ہوں، وزیر پٹرولیم کے بارے میں کچھ نہ لکھا جانا ہی بہت کچھ لکھے جانے کے برابر ہے۔ عمران خان کو انہیں ڈپٹی وزیراعظم بنا دینا چاہیے، ٹیکسلا اس کا دارالخلافہ قرار دے دینا چاہیے۔ انہیں دیکھ کر چودھری نثار یاد آ جاتے ہیں، لگتا ہے وزارت پٹرولیم کی راہداریوں میں ابھی تک چودھری نثار کی روح گھوم رہی ہے، جو سرور خان کو نہ کام سمجھنے دیتی ہے اور نہ ہی کرنے دیتی ہے۔
آج مینوفیکچرنگ والے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ یہ تینوں وزارتیں کامرس اور صنعت و پیداوار لگتا ہے اس ملک سے صنعتوں کو ختم کرا کر ہی دم لیں گی۔110 دن گزر چکے ہیں، اسٹیل مل فی گھنٹہ 50 لاکھ، دن کا پندرہ کروڑ کا نقصان کر رہی ہے۔ 15 کو 110 سے ضرب دے لیں، اب تک 16 ارب سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے مگر کسی نے اب تک اس کا نیا بورڈ آف ڈائریکٹر اور سی ای او اور نئی مینجمنٹ لگانے کیلئے ’’ککھ‘‘ کام نہیں کیا۔ ایسے بن رہا ہے نیا پاکستان۔ پی آئی اے تو عظیم ایئرلائن بن ہی چکی ہے۔ کہاں ہے ریلیف، کس شعبے میں ہے ریلیف۔ آپ کو کہیں نظر آ رہا ہے تو بتائیں، ہمیں تو نظر نہیں آ رہا۔ عام آدمی کسی کی ترجیح ہے ہی نہیں، اگر کسی کو خوش فہمی ہوتی ہے تو ہوتی رہے، کم از کم مجھے تو نہیں ہے۔ شریفوں، زرداریوں اور طالع آزمائوں کی نالائقیوں، بدنیتیوں اور کمالات کی وجہ سے انصافیوں کی بے انصافیوں کو ہم نظرانداز کر دیں؟ کسی ایک بڑے آدمی کا نام تو بتا دیں جس نے حکومت کی مدد کی ہو اور اس کے ذاتی کام نہ ہو رہے ہوں۔
یہاں یہ حال ہے کہ وزیر مملکت داخلہ صحافیوں کو پریس کانفرنس میں 156 پلازے گرانے اور زمین واگزار کرانے کے دعوے کر رہے تھے۔ صحافیوں نے انہیں کہا کہ وہ کونسے خواب کی بات کر رہے ہیں، ایک بھی پلازہ نہیں گرایا گیا، آپ 156 کی بات کر رہے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے صرف 8 گھر گرانے تھے، وہ رہائشی اڑ گئے، ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔ لہٰذا سی ڈی اے والے جیبیں گرم کر کے، گیٹ کو چوم کر، وہاں تھوڑا سا ڈانس کر کے گھروں کو لوٹ گئے۔ پریشان کون ہوا؟ عام آدمی۔ سڑک پر کون آیا، عام آدمی۔ گھر یادکان عام آدمی کی گرے گی۔ یہ ملک طاقتوروں کے پاس یرغمال بن چکا ہے۔ عام آدمی کو تحریک انصاف کی حکومت نے پچھتاوے ہی پچھتاوے دیے ہیں۔ رہ گئی بات سیٹھوں کی تو تحریک انصاف والے سیٹھ خوش ہیں۔ ان کا ایجنڈا اور ٹارگٹ حاصل کر لیا جائے گا۔ اسٹاک مارکیٹ میں آنے والا سونامی بھی اسکرپٹ کا حصہ ہی لگتا ہے۔ میرا یہی ماننا ہے، باقی آپ اپنی رائے میں آزاد ہیں۔
تیری مجبوریاں درست مگر
تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
(ناصر کاظمی)