26 اپریل 2019
تازہ ترین

ایں چہ بوالعجبی است ایں چہ بوالعجبی است

افغانستان کے صوبہ ہلمند کی تحصیل سنگین میں ہونے والی حالیہ بمباری، جس سے انیس بیگناہ بچے اور عورتیں شہید ہوئے، پر بالآخر افغان  میڈیا نے بھی صدائے احتجاج بلند کی لیکن ابھی تک اس ظلم پر پٹھانوں کے حقوق کا نعرہ لگا کر اپنا سیاسی دھندہ چلانے والی پی ٹی ایم نے پراسرار اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ پی ٹی ایم کے لیے ظلم وستم کے بھی اپنے معیار مقرر ہیں۔ وہ ہر احتجاج کے لیے اپنے مالکان کی ہدایت کے منتظر ہوتے ہیں جو انہیں اپنے ایجنڈے کے مطابق ہدایات دیتے ہیں اس پر عمل بھی اپنے ٹائم پیریڈ کے حساب سے کراتے ہیں اور اپنی کٹھ پتلیوں کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں۔
جب سے ایجنسیاں کے پی صوبے میں شامل ہوئی ہیں اور یہاں کے مکینوں کو وہ اختیارات حاصل ہوئے ہیں جو پاکستان کے عام شہریوں کو حاصل ہیں تب سے عملاً اس نام نہاد تحریک کا کریا کرم تو ہو چکا ہے، لیکن اپنے آپ کو زندہ رکھنے بلکہ اپنے مالکان کو ایکٹو رکھنے کے لیے یہ لوگ کسی نہ کسی دھندے سے جٹے رہتے ہیں۔ غیور پٹھانوں کی طرف سے پہلے روز ہی سے ان کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا گیا تھا رہی سہی کسر اب پوری ہو چکی ہے۔ آپ نے سوشل میڈیا پر یہ مناظر دیکھے ہوں گے کہ جب پی ٹی ایم کوئی ہنگامہ کرتی ہے تو اس کا جواب ان کو حکومت کے بجائے مقامی غیرت مند پٹھانوں کی طرف سے ہی دیا جاتا ہے۔
جب منظور پشتین نے اپنے آقاؤں کے کہنے پر اس  تحریک کی ابتدا کی تھی اور اسے نقیب اللہ کے قتل پر جس بے رحمی سے اپنے مالکان کے حق میں استعمال کیا، اس نے کچھ عرصہ ہی کے لیے سہی پاکستان کے ازلی نمک حراموں کو ضرور نچا کر رکھ دیا تھا اور وہ بڑھ چڑھ کر اس کے ڈھول پر ناچنے لگے تھے۔ اس تحریک نے جو نعرہ بلند کیا اور جس طرح یہ لوگ کیمروں اور موبائل فونز سے مسلح ہو کر جان بوجھ کر پاکستان آرمی کے سامنے انہیں طیش دلانے کے لیے نعرہ بازی کرتے تھے، اس کا جس صبر و تحمل اور ضبط سے پاکستان آرمی نے جواب دیا اس پر وہ داد کی مستحق ہے کیونکہ وہ بھی زیادہ تر پٹھان ہی ہیں اور اتنے ہی غیرت مند جتنے خود کو منظور پشتین اینڈ کمپنی سمجھتے ہیں۔
ان آنکھوں نے وہ وہ مناظر دیکھے ہیں، جن کے متعلق زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ تربیت یافتہ دہشت گرد پہلے فوجی جوانوں کا منہ چڑاتے، ان کی طرف سے صبر اور نظر انداز کرنے کے باوجود ان سے گتھم گتھا ہوتے کیونکہ انہیں اپنی تنخواہ کو بہر حال جسٹی فائی کرنا ہوتا ہے۔ اس پر بھی کوئی رد عمل نہ آتا اور جوان انہیں صرف خود سے الجھنے سے بچاتے، لیکن مسلسل انہیں جب گالی گلوچ کے ذریعے اشتعال دلایا جاتا اور ان کے لیے کوئی راستہ باقی نہ چھوڑتے تو وہ مجبور ہو کر اپنے دفاع میں انہیں جواب دیتے۔ اس کی منظر کشی اپنے حساب سے ایڈٹ کرنے کے بعد اسے سازشی انداز میں سوشل میڈیا پر پھیلا دیا جاتا۔ اس پر دیگر پالتو بلے اور بلیاں اپنی تنخواہیں جسٹی فائی کرنے کے لیے ایسا ایسا واویلا کرتے کہ خدا کی پناہ۔ میڈیا میں موجود غیر ملکی مداریوں کی ڈگڈگی پر ناچنے والے نمک حرام ان کے ڈیفنس لائن کا کردار ادا کرنے میں کبھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے۔
یہ گھناؤنا کھیل عرصہ سے جاری ہے، لیکن اس تحریک کو کبھی کچلنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ آج یہ لوگ خود اپنے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس رہے ہیں اور رسوائی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ عوام کو اچھی طرح سمجھ آ گئی ہے کہ یہ کن کے اور کیسے مفادات کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
اس بات میں حکمت کا پہلو یہ ہے کہ حکومت کو طیش میں آئے بغیر ایسی کسی بھی صورت احوال سے نمٹنا چاہیے۔ اپنے عوام پر اعتماد کریں یہ سب کچھ برداشت کریں گے لیکن اپنے ملک کے خلاف سازش کا حصہ کبھی نہیں بنیں گے۔۔۔ اور یہ کہ صبر اور حکمت عملی سے صورت حال کتنی بھی گمبھیر ہو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔