22 فروری 2019
تازہ ترین

ایک جیالے کے نام ایک جیالے کے نام

فی زمانہ پاکستانی سیاست میں نظریاتی کارکن خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں کہ سیاسی کارکنوں کی اکثریت ’’شخصیت پرستی‘‘ میں غرق ہے۔ تحریک پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی کارکنان کو نظریاتی کہا جا سکتا ہے اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ فوجی نرسریوں کے پروردہ سیاستدانوں اور ان کے کارکنان کو کسی بھی طور نظریاتی کارکنان نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سیاسی نظریے کا وجود نہ ہونے کے برابر رہا ہے، ان کی سوچ کا محور و مرکز فقط شخصی مخالفت ہی رہی۔ وہ سیاسی وژن جو سیاسی کارکنان کی تربیت کرتا ہے، سیاسی شعور عطا کرتا ہے، وہ پاکستان کے سیاسی افق پر کمیاب ہو چکا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بھٹو کی پیپلز پارٹی اور اس کے نظریے سے لگاؤ رکھنے یا اس کو سمجھنے والے چند افراد ہی بچے ہیں، جو نا صرف اپنی سیاسی بقا بلکہ اس سیاسی ورثے کی حفاظت کی جنگ لڑ رہے ہیں، جو ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں چھوڑ کر امر ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو توڑنے اور ختم کرنے میں آمر اپنا سر دھڑ کا زور لگا کر، خود ابدی نیند جا سوئے مگر اس سیاسی نظریے کو ختم نہ کر سکے۔ آج بھی یہ نظریہ کسی نہ کسی رنگ، کسی نہ کسی شکل میں پاکستانی سیاست میں اپنا وجود رکھتا ہے گو اس کے پیروکاروں کی اکثریت کسی دوسری قیادت، کسی دوسرے جھنڈے تلے جمع ہے مگر اس کے سوتے پیپلز پارٹی سے ہی پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ یہاں بطور دلیل یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی نظریاتی کارکنان کا شجرہ تحریک پاکستان کے کارکنان سے جا ملتا ہے جو بتدریج مخلص قیادت کی تلاش میں در بدر مختلف سیاسی جماعتوں میں اکٹھے ہوتے رہے ہیں۔
بہر کیف سیاسی جماعتوں کی بقا اگر ایک طرف وقت کے ساتھ ہم آہنگ پالیسیاں ہیں تو دوسری طرف تنظیمی اعتبار سے مضبوط سیاسی جماعتیں ہی عوام میں اپنی جڑیں قائم رکھ پاتی ہیں وگرنہ سیاسی جماعتوں کا تارو پود خش و خاشاک طرح ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ بند مٹھی میں ریت کی مانند سرکتے سرکتے بس خالی مٹھی رہ جاتی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے کے دور تک نظریاتی کارکن ہی ان کے شانہ بشانہ اور پارٹی امور کو سنبھالے رہے مگر محترمہ کی رحلت کے بعد پیپلز پارٹی کا کنٹرول بہت حد تک غیر نظریاتی لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا، جس نے پارٹی کی پنجاب میں رہی سہی ساکھ کو بھی ختم کر دیا۔ ہر کوئی جیالا ہونے کا دعویدار مگر نظریاتی اساس نہ ہونے کے برابر تھی، اس پس منظر میں بلاول نے راست اقدام اٹھاتے ہوئے اندرون و بیرون ملک تنظیموں کو تا اطلاع ثانی معطل کر دیا۔ سیاست میں بروقت اقدام ہی سیاسی بقا کا ضامن ہوتا ہے تو دوسری طرف موزونیت اس بقا کو دوام بخشتی ہے۔ بلاول نے چند سال کی معطلی کے بعد گزشتہ ماہ پارٹی کی تنظیم نو کی اور نظریاتی اساس سے وابستگی کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے جیالوں کو تعینات کیا ہے جو واقعتاً دلیل کے ہتھیار سے لیس اور مخالفین سے نبرد آزما ہوتے ہوئے اس ہتھیار کا صحیح استعمال کرنے کے ہنر سے بہرہ مند بھی ہیں۔ علاوہ ازیں وہ نا صرف تاریخ سے واقف ہیں بلکہ اپنی سیاسی جماعت کی تاریخ بھی انہیں ازبر ہے،اس سب سے بڑھ کر وفاداری ان کا خاصہ ہے۔ ایسی ہی دو تعیناتیوں کے متعلق میں ذاتی طور پر واقف ہوں اور حقیقتاً بلاول کو اس کے انتخاب پر داد دینے پر مجبور ہوں۔ پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد مشرق وسطی میں مقیم ہے جبکہ یورپ میں بسنے والے پاکستانی گو دوہری شہریت کے حامی ہیں مگر ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے جنرل سیکرٹری کے لیے شہر ریاض کی معروف اور جانی پہچانی شخصیت ہیں جنہوں نے ابتلا کے دور میں بھی پارٹی کا جھنڈا پورے اعتماد سے تھامے رکھا۔ رانا محمد خالد کی شخصیت میں ایک طرف خود اعتمادی ہے تو دوسری طرف طالبعلمی کے زمانے سے ہی سیاست و فلسفہ اس کا من پسند مشغلہ رہا ہے۔ کینیڈا میں مقیم راؤ طاہر کی پارٹی سے وابستگی کسی شک و شبہ سے بالا ہے اور دونوں شخصیات ہی علمی اعتبار سے انتہائی مضبوط پس منظر رکھتی ہیں۔
نئی ذمہ داریوں کے بعد،ان کا نیا امتحان شروع ہو چکا ہے، جس میں سب سے اہم ایک طرف گوشہ نشین پارٹی ورکرز کو دوبارہ کارزار سیاست میں لانا ہے تو دوسری طرف نئے کارکنان کو پارٹی افکار سے روشناس کرا کر انہیں پارٹی میں شامل کرنا ہے۔ برادرم راؤ طاہر کی نسبت محترم رانا خالد 
کی ذمہ داریاں کئی گنا زیادہ ہیں کہ ایک طرف ناراض اراکین کو اکٹھا کرنا کٹھن کام ہو گا تو دوسری طرف نئے خون کو پارٹی کا حصہ بنانا کاروارد کہ انہیں ایسے وقت میں پارٹی کی طرف سے اتنی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے جب سعودی عرب کے گزشتہ تیس سال سے صدر رہنے والی شخصیت پی ٹی آئی کو پیاری ہو چکی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے اہل ریاض مسلسل رانا خالد کے اعزاز میں تقاریب بپا کیے ہوئے ہیں اور ان تقاریب میں ایک مثبت پیش رفت یہ دیکھنے کو ملی ہے کہ پارٹی کے ناراض اراکین بھی تقاریب میں شریک ہوئے ہیں اور انہوں نے رانا محمد خالد کو اپنی بھر پور حمایت کا یقین دلایا ہے۔ یقیناً یہ امر نئے جنرل سیکرٹری کے لیے باعث اطمینان ہو گا کہ پہلے ہی مرحلے میں وہ اپنے ہی شہر کے ناراض اراکین کو ایک جگہ اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو دوسری طرف یہ ان کے اعتماد کو تقویت بخشے گا اور ان کے آئندہ لائحہ عمل میں انہیں رہنمائی بھی فراہم کرے گا۔ رانا محمد خالد کو یہ احساس بھی یقینا ہو گاکہ نئی ذمہ داری پھولوں کی سیج قطعی نہیں بلکہ نئی ذمہ داری ان سے بے شمار تقاضے کر رہی ہے کہ وہ اپنے قائد کی جماعت کو پھر سے عوامی جماعت بنائیں جو بوجوہ ڈرائنگ روم کی جماعت بن چکی ہے۔  میدان کھلا ہے اور اب آپ کو اپنی صلاحیتیں آزمانی ہیں،جو اللہ کریم نے آپ کو ودیعت کی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ اپنی قیادت کو زمینی حقائق سے بھی آگاہ رکھنا ہے نہ کہ ماضی کی طرح سب اچھا ہے کی گردان دہرانی ہے۔ دعا اور خواہش ہے کہ رانا محمد خالد اپنی شخصیت سے عہدے کی رونق بنے نا کہ عہدہ ان کی شخصیت کے لیے رونق بنے۔