22 اکتوبر 2018
تازہ ترین

ایران پر امریکی اقتصادی پابندیاں ایران پر امریکی اقتصادی پابندیاں

امریکی حکومت نے پہلے مرحلے میں ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردیں جو 2015 میں ہونے والی ڈیل کے بعد اٹھالی گئی تھیں۔ آج سے تین سال قبل ہوئے معاہدے کے نتیجے میں ایران اپنے جوہری پروگرام کو کمتر سطح تک لاچکا ہے۔ یہ معاہدہ جسے (JCPOA) Joint Comrehensive Plan of Action کا نام دیا گیا تھا، اس پر اقوام متحدہ کے پانچوں مستقل اراکین کے علاوہ جرمنی اور یورپی یونین نے بھی دستخط کیے تھے، اسے عالمی جوہری کمیشنIAEA کی سہ ماہی تصدیق سے مشروط کیا گیا تھا اور اب تک کمیشن ایرانی جوہری تنصیبات کا دس مرتبہ معائنہ کرچکا اور اس کی رپورٹ کے مطابق ایران اس معاہدے پر عمل کررہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے خیال میں ایرانیوں نے دھوکے سے یہ معاہدہ کیا، جس کا مقصد صرف معاشی پابندیوں کو ختم کروانا تھا۔
ان پابندیوں کے پہلے مرحلے میں جس کا نفاذ رواں ماہ کی چھ تاریخ کو رات بارہ بجے ہوچکا، ایرانی بینک امریکی ڈالرز نہیں خریدسکیں گے، دنیا کی بڑی طیارہ ساز کمپنیاں بوئنگ اور ایئربس ایران کو طیاروں کی فروخت بند کردیں گی، اسی طرح ایران سے فولاد، سونا، المونیم، گریفائٹ سمیت تمام دھاتوں اور ایرانی پستے وقالین کی برآمد پر بھی پابندی لگادی گئی۔ امریکی حکومت نے ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ پابندیوں کے دوسرے مرحلے کا نفاذ نومبر کے اوائل میں ہوگا جو ایران کے معاشی مفادات کو گہری زک لگانے کا باعث ہوگا، یعنی ایران سے خام تیل کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔ ٹرمپ کافی عرصے سے واضح اشارہ دے رہے تھے کہ وہ ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کے حوالے سے بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یعنی وہ اس پر نظرثانی کرکے ایران کو دی جانے والی رعایتوں میں مزید کمی چاہتے یا پھر سرے سے ہی اس ڈیل کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں سے ڈیل کے سخت ناقد رہے اور ان کے بقول وہ منتخب ہونے کے بعد اس معاہدہ پر نظرثانی کریں گے اور ہوسکا تو اسے ختم کردیں گے، ان کے بقول ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کی ڈیل سابق صدر اوباما کی غلطی تھی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد اس بارے میں ان کے بیانات میڈیا کی زینت بنتے رہے اور انہوں نے ایران کویہ الٹی میٹم دیا کہ اگر ان کی شرائط نہ مانی گئیں تو وہ اس معاہدے سے دستبردار ہوجائیں گے اور اس حوالے سے انہیں اس معاہدے پر نظرثانی کے لیے 12مئی کی دوسری ڈیڈ لائن دی، جس پر کانگریس کمیٹی نے اس پر غور کرنے کے بعد ایران پر مزید پابندیوں کی منظوری دے دی، بعدازاں ٹرمپ نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے یہ پابندیاں عائد کردیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ان پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران صدر ٹرمپ کے مطالبے پر جوہری معاہدہ میں کسی قسم کی تبدیلی پر رضامند نہیں ہوگا، اگر امریکا نے سرخ لائن عبورکرتے ہوئے ان کے ملک پر پابندیاں عائد کیں تو وہ اس پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرے گا۔
2013ء میں صدر منتخب ہونے کے بعد حسن روحانی نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائیں گے اور خصوصاً مغربی ممالک سے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے، جس سے ان کا اصل مقصد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ختم کرنا یا پھر کم ازکم انہیں نرم کرنا مقصود تھا۔ توقع تھی کہ اس معاہدہ کا سب سے زیادہ فائدہ ایرانی عوام کو ہوگا کیوںکہ امریکا اور یورپ کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا تھا، اس پر مستزاد کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی اور ایرانی عوام کے لیے دال روٹی کا حصول بھی مسئلہ بنا ہوا تھا، چنانچہ ایرانی عوام نے اس معاہدے پر شادیانے بجائے لیکن بدقسمتی سے اُن کی حالت اب تک نہ بدل سکی، چونکہ ایران میں میڈیا قریباً حکومتی کنٹرول میں ہے، اس لیے وہاں کی اندرونی صورت حال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی میڈیا میں ایران کے حوالے سے جو خبریں منظرعام پر آرہی تھیں، جس سے محسوس ہوتا تھا کہ ایرانی معیشت زیادہ عرصہ تک اس دبائو کو برداشت نہیںکرپائے گی۔ 
عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق جوہری معاہدے کے بعد ایران کی معیشت کی شرح نمو محض ایک فیصد رہی، حالاںکہ جس وقت ایران کا عالمی طاقتوں سے معاہدہ ہورہا تھا، تب عالمی بینک کا تخمینہ 4فیصد تھا۔ اسی طرح ملک میں بیروزگاری اونچی سطح پر برقرار ہے اور اس کی شرح 11.7فیصد ہے۔ ڈالر بلند ترین سطح پر اور قریباً ایک ڈالر کے 120000ایرانی ریال مل رہے ہیں۔ ایران کے معاشی امور کے وزیرنے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ ملک کے اکثر بینک قریباً دیوالیہ کے قریب ہیں، مزید براں یہ کہ حکومت بینکوں کی سب سے بڑی مقروض ہے اور وہ خود ان مالیاتی اداروں کی مدد کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ یہاں ایک مشکل سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایرانی اس تمام تر صورت حال کا ذمے دار صدر روحانی کو ٹھہرائیں جو ملک کے سخت گیر عناصر کو اس معاہدے کی مکمل روح کے مطابق عمل درآمد کروانے پر قائل نہ کرسکے یا پھر مغرب قصوروار ہے کہ وہ ایران کے اوپر سے تسلی بخش انداز میں پابندیاں ختم کرنے میں ناکام رہا، تاہم اس صورت حال کا گہرائی سے تجزیہ کرنے والے مبصرین کے بقول اس کی بنیادی وجہ ایران کی مشکلات میں گھری معیشت ہے اور یہ مسائل اس وقت سے ہیں، جب ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد تھیں، جس میں بدانتظامی، کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات کی مرکزیت کے ساتھ اس کے ناجائز استعمالات شامل ہیں۔
(ترجمہ:محمداحمد۔ بشکریہ:المانیٹر)