ایرانی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی! ایرانی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی!

2015 میں ویانا میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری سرگرمیوں کو ترک کرنے کے بدلے میں چند ایک معاشی سہولتیں دینے کا باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا۔ اس میں امریکا کے ساتھ برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی شامل تھے، طے پایا کہ ایران آئندہ 15 برسوں کے لیے اپنے جوہری پروگرام پر نظرثانی کرے گا، اس سلسلے میں جو چند بنیادی معاملات ان ممالک میں معاہدے کی صورت طے پائے، ان میں ہے کہ ایران یورینیم کو 5 فیصد سے زیادہ افزودہ نہیں کرے گا، درمیانے درجے پر افزودہ کی گئی یورینیم کو ضائع کرے گا۔ آرک کے مقام پر بھاری پانی کے پلانٹ پر کام روک دیا جائے گا اورجوہری ہتھیاروں کی چھان بین کرنے کے لیے متعلقہ عالمی ادارے کو روزانہ کی بنیاد پر پلانٹ تک رسائی دی جائے گی۔
ان معاملات کی حتمی یقین دہانی پرایران پر پہلے سے لگائی مصالحتی پابندیاں نرم کرنے کا عندیہ دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ 6 ماہ تک ایران پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی، ایران عالمی منڈیوں تک اپنی تجارت بڑھاسکے اور تیل کی ترسیل کا کام بھی جاری رہے گا۔ یہ معاہدہ اوباما حکومت میں عمل میں آیا، پابندیوں میں نرمی سے عالمی منڈی میں ایران کو تجارت میں راستہ مل گیا۔ معاشی سطح پر کافی بہتری آئی، ایران کو اس مد میں تجارتی خسارہ کم کرنے کا موقع ہاتھ آیا اور اس کے خزانے کے غیر ملکی ذخائر میں خاطرخواہ اضافے کے امکانات بھی بڑھ گئے، صرف تیل کی فروخت سے اسے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہونے کے اسباب پیدا ہوئے۔
امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ جہاں ملکی سطح پر گہماگہمی دیکھنے میں آئی، وہیں سیاسی سطح پر بھی ارتعاش محسوس کیا گیا۔ ٹرمپ نے جن چند ایک حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن میں اپنا منشور دیا، اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ امریکا اور عالمی طاقتوں کا ایران سے معاہدہ ناقص ہے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ صدارتی الیکشن میں کامیابی کے ساتھ ہی ٹرمپ نے 2015 میں ہونے والے ایٹمی معاہدے کے لیے 12 مئی 2018کی ڈیڈ لائن دے رکھی تھی کہ امریکا اپنا فیصلہ دے گا کہ اس معاہدے میں شریک رہنا ہے یا ایران سے علیحدگی اختیار کرنی ہے۔ دراصل ٹرمپ اس معاہدے سے الگ ہونے کا اصولی فیصلہ کرچکا تھا، لیکن معقول بہانے کی تلاش میں تھا، حالانکہ ایران طے شدہ معاہدے کی تمام شقوں کا پابند اور ان پر عمل پیرا بھی تھا، لیکن امریکا نے ایران کے بلیسٹک میزائل کے تجربے کو بہانہ بناکر اعلان کیا کہ ایران معاہدے پر عمل درآمد نہیں کررہا اور وہ بہرصورت ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے، ناصرف یہ بلکہ ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کردیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر دوبارہ تمام پابندیاں عائد کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے،، پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والی انفرادی شخصیات یا ادارے سنگین نتائج بھگتیں گے، ایران نے یقین دہانی کی کوشش کی اور کہا کہ بلیسٹک میزائل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی اہلیت نہیں رکھتا اور ایران صرف علاقے میں اپنی دفاعی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے آمادہ کار ہے اور ایٹمی پروگرام کو حتمی شکل دینے یا پھر اس سے ممکنہ اہداف حاصل کرنے کا قطعی ارادہ نہیں رکھتا۔ طاقت کے نشے میں امریکی حکومت کی آنکھیں ہمیشہ کی طرح بند تھیں، اس سے پہلے امریکا، برطانیہ کے ساتھ مل کر عراق پر حملہ کرچکا ہے، عراق میں امریکی حکومت نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کے امکان کو بہانہ بناکر اسے برباد کردیا تھا۔ اگرچہ بعد ازاں برطانوی سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کو باقاعدہ عالمی برادری کے سامنے اعتراف کرنا پڑا کہ عراق کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں تھی اور برطانیہ نے امریکا کی معاونت کے لیے عراق پر جو حملہ کیا اس کا درحقیقت کوئی معقول جواز نہ تھا۔ اب ایران کے ساتھ بھی ٹرمپ کا سلوک کوئی بہتر نہیں۔
ہر چند کہ باقی ممالک نے امریکا کے اس عمل کو پسند نہیں کیا اور عجلت پسندی کی مخالفت کی اور باقاعدہ ٹرمپ سے ملاقات میں اسے اس عمل سے باز رہنے کے لیے بھی کہا، لیکن ٹرمپ نے حسب عادت کسی بات پر کان نہیں دھرا۔ ٹرمپ کی جانب سے کئی ایک مصنوعات پرٹیکس عائد کرنے پر بھی یورپی ممالک میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ چین بھی انہی ٹیکسوں کے دبائو کی زد میں ہے۔  ٹرمپ کا خیال ہے کہ معاہدے کی مدت گزر جانے کے بعد ایران اس پوزیشن میں ہوگا کہ ایٹمی صلاحیت سے خاطرخواہ فائدہ اٹھاسکے۔ ایران کے میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے سیاسی کردار سے امریکا کو تشویش ہے اور دوسرے ممالک بھی اس سلسلے میں امریکا کے حامی ہیں، لیکن وہ کسی نہ کسی صورت اس معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران نے معاہدے میں شامل دوسرے ممالک سے مکالمہ بھی کیا اور اس کا خیال تھا کہ امریکا کے شمالی کوریا کی جانب بڑھتے قدم اور معاہدے میں شامل دوسرے ممالک چین، روس، جرمنی، برطانیہ ٹرمپ کو معاہدے سے الگ نہ ہونے پر راضی کرلیں گے، لیکن ایران کی یہ تمام کاوشیں اور سفارتکاری وقت کا ضیاع ثابت ہوئی اور ٹرمپ نے باقاعدہ ایرانی جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کردیا اور ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کردیں، جن کا اطلاق 180 دنوں میں ہوگا۔ 
امریکا کی جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بظاہر یورپ پر تو کوئی اثرات مرتب ہوتے دکھائی نہیں دیتے، البتہ مشرق وسطیٰ میں عرب ریاستوں کے مفادات پر ضرور زد پڑی ہے، پھر اسرائیل جو بذات خود ایک ایٹمی ریاست ہے، اس کے یورپ، روس اور چین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بہتر ہے اور وہ گزشتہ چھ ماہ سے شام میں موجودایران کے فوجی اڈوں پر میزائل سے حملہ کررہا ہے اور نیتن یاہوکے اس رویے پر پورا یورپ اور عالمی طاقتیں خاموش ہیں، اگر یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو مشرق وسطیٰ میں جنگی آتش فشاں کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ 
اگر ٹرمپ حکومت نے ایران پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو یقیناً اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کا تجربہ امریکا کو عراق اور افغانستان پر حملہ کرکے بخوبی ہوچکا ہے۔ افغانستان تو ایسی دلدل ہے جہاں سے امریکا نکلنے کی خواہش رکھنے کے باوجود معذور دکھائی دیتا ہے۔ دراصل وہ افغانستان میں جنگ ہار چکا اور اس ہزیمت کا ذمے دار پاکستان کو گردانتا ہے، لیکن پاکستان افواج اور سیاسی حکومت کی مشترکہ حکمت عملی کی وجہ سے وہ کسی قسم کی حماقت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایران کی طرح پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے امریکا نے پاکستان پر بھی اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن غیور عوام اور سیاسی اور عسکری قوتوں نے مل کر اس کا سدباب کیا اور امریکا کو بتادیا کہ پاکستان ہر حال میں ایٹمی صلاحیت کو مزید آگے بڑھائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکا یورپ اور اسرائیل کے ایٹمی ہتھیار بنانے پر خاموش رہتا ہے اور بھارتی حکومت کو بھی ہر ممکنہ معاونت کا یقین دلاتا ہے تو پھر اسلامی ممالک کیوں اس صلاحیت سے محروم کردیے جائیں، یہ تو سراسر ناانصافی ہے جبکہ دفاعی توازن ہی میں کسی ملک کی بقا، استحکام اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے!