13 نومبر 2018
تازہ ترین

اہل دین کی خدمت میں اہل دین کی خدمت میں

 سماجی رویے کسی بھی معاشرے کے خدو خال طے کرتے ہیں۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور فرد انفرادی سماجی رویے کا نام ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی یا ناکامی میں ا س ادارے سے وابستہ افراد کا رویہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ افراد کا انفرادی رویہ، سماجی ہو یا اخلاقی، معاشرہ ، ریاست اور ثقافتی روایات کے طے کردہ خطوط کی روشنی میں ہی طے پاتا ہے۔ تا ہم ان سب عوامل سے زیادہ موثر اور نمایاں پہلو مذہب ہے جو نہ صرف فرد کے رویے کی تشکیل کرتاہے بلکہ خود سماج، ثقافت اور ریاست کو بھی متاثر کر رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ مذہب کے تشکیل کردہ معیار سماجی و ثقافتی اور سیاسی و معاشی ڈھانچے پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں اہل مذہب مذہب کی اس قوت سے یا تو کما حقہ آشنا نہیں یا اس قوت کو بروئے کار لا نہیں سکے۔کیونکہ کتنی ہی ایسی اقدار ہیں جو صرف مذہبی جذبے کے تحت فروغ پذیر ہوتی ہیں اور کتنے ہی ایسے معاشرتی نقائص ہیں جو صرف مذہب کی قوت کے باعث معاشرے سے دور رہتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں دینی طبقات کو عوام تک رسائی کے جو مواقع میسر ہیں وہ شاید اتنی کثرت اور باقاعدگی سے کسی دوسرے طبقے کو میسر نہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ مواقع بجائے تعمیر کے ایسی سرگرمیوں میں صرف ہو رہیہیں جن کا معاشرے پر کوئی تعمیری اثر مرتب نہیں ہو رہا۔ اگر دینی طبقات اپنی توانائی اور میسر مواقع معاشرے کی خرابیاں دور کرنے کے لیے صرف کریں تو ہمارا معاشرہ جنت نظیر بن سکتا ہے۔ یہ مذہب کی قوت ہے کہ جیسے جیسے معاشرے میں مذہبی اثر بڑھ رہا ہے، مذہب پالیسی سازی اور میل جول سمیت کم و بیش ہر موضوع کا اہم حصہ بن رہا ہے اورطاقتور اور بااختیار اشرافیہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس فکر میں ہے کہ مذہب کا کردار کس طرح ان کی تائید میں کار فرما ہو اور وہ اس سے اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کش طرح قوت حاصل کریں۔اہل دین اگر اجتماعی طور پر اپنی ترجیحات طے کر کے معاشرے کی اصلاح پر کمر بستہ ہو جائیں تو معاشرے کے بہت سے مسائل ریاستی مداخلت کے بغیر حل کی طرف گامزن ہو جائیں۔ ہمارے ہاں طے شدہ مذہبی مسائل کو پھر سے چھیڑنے اور اپنی الگ شناخت بنانے کے لیے منفرد موقف اپنانے کی روش نے نہ صرف معاشرے کو مذہب کے مثبت اثرات سے محروم کیا ہے بلکہ مذہب مزید معاشرتی تفریق کا باعث بھی بنا ہے۔ جب بھی مذہبی طبقات باہمی مناقشات کا شکار ہوں گے، ا سکا منفی اثر معاشرے پر بھی مرتب ہو گا اور تقسیم کے المیے کا شکار معاشرہ مذہب کے نام پر ایک نئے بحران سے دوچار ہو جائے گا۔ انفرادی اخلاقی رویے کس طرح معاشرے اور اس کے اداروں کو متاثر کرتے ہیں، ہمارا سیاسی، سماجی اور معاشرتی نظام ا س کا مظہر ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں اخلاقی قوت نے معیارات کی پاسداری کی ہے۔ اگر تحریک پاکستان پر نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قیام پاکستان کا معجزہ جن عوامل کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا ان میں ایک بانیان پاکستان کی اخلاقی قوت بھی تھا۔ ان کی اخلاقی قوت نے نہ صرف عوام میں ان کے لیے غیر متزلزل اعتماد پیدا کیا بلکہ ان کی اخلاقی ساکھ کے باعث ان کے مد مقابل فریق کو بھی ان کا موقف تسلیم ہی کرنا پڑا۔ جب لارڈ ویول نے ایک ملاقات میں قائد اعظم کو یہ پیشکش کی کہ اگر وہ الگ ملک کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں تو انہیں متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنایا جا سکتا ہے تو قائد اعظم ملاقات ادھوری چھوڑ کر چل پڑے۔ جب وائسرائے نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو قائد اعظم نے فرمایا کہ وہ یہاں اپنی قوم کو فروخت کرنے نہیں آئے۔ رمضان المبارک کا مبارک مہینہ ہر فرد کے لیے نیکی کا جذبہ اور دین کی طرف رغبت کا احساس لے کر آتا ہے۔ یہ احساس ایک ایسی قوت ہے جسے منظم کر کے معاشرے کو اخلاقی اور سماجی برائیوں سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ دینی طبقات کو اپنے پیغام میں اس مغالطے کو دور کرنا ہو گا کہ زندگی کے عمومی معاملات او دینی عبادات و معمولات دو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔اسلام میں دین و دنیا کی وحدت کا تصور عام کر کے اس مغالطے کو دور کیا جاسکتا ہے کہ جب تک ہمارے سماجی و معاشرتی او رپیشہ وارانہ معاملات شفاف، درست اور دیانتداری پر مبنی نہ ہوں گے ہم دینی معمولات و عبادات کی درستگی کا دعوی نہیں کرسکتے۔ یہ ایک بنیادی دینی اصول ہے کہ اگر دینی معالات اور عبادات میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کا ازالہ جس کفارے سے کیا جاتا ہے وہ براہ ر است معاشرے اور سماج سے وابستہ ہوتا ہے۔ یعنی دینی معاملات کا نقص اور کمی بھی بالآخر معاشرے کے حقوق پورے کرنے سے ہی دور ہوتی ہے۔ دینی او ردنیاوی معاملات کی شفافیت ہمیں ایک مثالی معاشرہ اور مضبوط اخلاقی ساکھ کی حامل قوم بنا سکتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو اسی اخلاقی صلابت اور قوت کی ضرورت ہے۔ مذہبی طبقات کو فروعی مسائل میں الجھنے کی بجائے دین کے حقیقی تصور کو اجاگر کرتے ہوئے مذہبی او رسماجی مسائل کو باہم مربوط کر کے بیان کرنا ہو گا۔ کہ کسی بھی دینی تعلیم پر اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کے سماجی تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔ ایک ایسا جامع دینی ایجنڈا قوم کے سامنے لانا درکار ہے جو فروعات میں الجھانے کی بجائے ان کے دین و دنیا یعنی ایمان اور عمل صالح کا محافظ ہو۔ آج دینی طبقات سیاست سمیت ہر معاملے پر رہنمائی دیتے نہیں تھکتے مگر اخلاقی تعمیر نو کسی ترجیح میں شامل نہیں۔ دنیا اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ ہر آنے والا دن نئی تبدیلیاں لا رہا ہے جبکہ روایتی مذہبی طبقہ اسی پرانی ڈگر پر کاربند ہے۔ ایک بدلے ہوئے معاشرے میں جہاں مادیت کی چکا چوند ہر لمحہ ایمان کے خرمن کو جلانے کے لیے موجودہے، ہمیں دینی طبقات سے دنیا و آخرت کی حفاظت یعنی ایمان او رعمل صالح کی سلامتی کی توقع ہے۔ ضروری ہے کہ دینی طبقات دین کی برکات کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے کم ا زکم ان تین نکات پر متفق ہو جائیں کہ عبادت اللہ کے لیے، محبت اور اطاعت رسول اللہ کے لیے اور خدمت امت کے لیے اور فروعی معاملات کو عوام میں بحث و مباحثہ کا موضوع بنانے کی بجائے اہل علم کے لیے چھوڑ دیں۔