اگلے چالیس دن اگلے چالیس دن

اس میں کیا شک ہے کہ لمحہ موجود میں ففتھ جنریشن وار اپنے نقطہ عروج کو چھو رہی ہے۔ آپ کو سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے کے لیے بڑی ریاضت درکار ہے۔ بظاہر جو دکھائی دیتا ہے ایسا ہے نہیں، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو۔ ہر روز ایک نیا انکشاف اور اس انکشاف کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والے مباحث دیکھنے کے بعد بڑے بڑے صاحب رائے بھی ڈگمگا جاتے ہیں۔ میں کوئی بہت دینداری کا دعویٰ تو نہیں کرتا لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بزرگوں کی کہی سنی باتیں سچ ہونے کا وقت قریب ہے۔ آپ مجھے کچھ بھی کہں، لیکن میں آپ کو صوفی برکت علیؒ کی وہ بات ضرور یاد دلاؤں گا جو آپ نے عالم جذب میں ایک مرتبہ چلتے چلتے رک کر کہی تھی کہ وہ وقت آئے گا جب دنیا کی قسمت کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے۔ یہ دنیا کا جینوا بنے گا۔
اب جو کچھ دیکھنے اور سننے میں آ رہا ہے اس سے تو یوں محسوس ہو رہا ہے کا خاکم بدہن سروائیول ہی مشکل ہو گیا ہے اور میں آپ کو کچھ اور کہانی سنا رہا ہوں۔ لیکن تاریخ کا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ قوموں پر ایسا وقت آیا تو انہوں نے بدترین حالات میں بہترین نتائج حاصل کیے، جس کی وجہ تھی ان کی لیڈر شپ اور قیادت۔ دور کیا جانا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا 1940ء کو جب قرارداد پاکستان پیش کی جا رہی تھی، سوائے کچھ انتہائی خوش فہم لوگوں کے کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آ سکتی تھی کہ محض چھ سال بعد پاکستان کا قیام عمل میں آ جائے گا؟
جی نہیں۔ نیشلسٹ مسلم قیادت ہی قائد اعظم کے خلاف تھی باقی تو سب کچھ جانے دیں۔۔۔ لیکن پاکستان معرض وجود میں آیا، زندہ و تابندہ حقیقت بن کر آج بھی موجود ہے بلکہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو بھی حیران کن نتائج سے دو چار کر رہا ہے۔
چلئے اسے بھی چھوڑیں۔ جذبات کو ایک طرف رکھیں، یہ بتائیں ہم میں سے کتنے فی صد لوگ بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان سے اس نوعیت کے رد عمل کی توقع رکھتے تھے۔ ایمانداری کی بات ہے بہت کم، لیکن پاکستان ایئر فورس کے جوابی اقدام کے بعد اب یہ شرح کتنی ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ انسان ظاہر کا مکلف ہے، ہم وہ مانتے ہیں جو ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مودی جیسا جنونی انسان جسے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پشت پناہی حاصل ہے اور دونوں مسلم اور پاکستان دشمنی میں اندھے ہو رہے ہیں۔ امریکا کی جو درگت طالبان کے ہاتھوں بن رہی  ہے، اس پر ان کی تلملاہٹ اور امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ متعصب صدر کے ہمارے متعلق خیالات و نظریات اور امریکی قیادت کا وہ آن ریکارڈ غصہ جس کا وہ پاکستان کے حوالے سے برملا اظہار کرتے ہیں۔ طالبان سے براہ راست بات چیت میں ناکامی کے بعد امریکیوں کا پاکستان سے معاونت کی درخواست کرنا۔۔۔۔
یہ سارا منظر نامہ ہمارے خلاف ایک بھیانک تصویر بنا رہا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ موجودہ بظاہر خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ اس کی نشاندہی ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان کر رہا ہے کہ مودی جیسے پاگل شخص سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اگلے چالیس دنوں میں پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت کرے گا۔ اس منظر نامے پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہے۔ 27 فروری کو بھارتی میزائلوں کے ایکٹو ہونے کراچی اور بہاولپور یا لاہور کو نشانہ بنانے کے گھٹیا پن کے ثبوت پاکستان انٹیلی جنس کو مل چکے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت نے اس گھناؤنے اقدام کی پیش بندی کے بین الاقوامی لوازمات بھی پورے کر لیے تھے، لیکن عمران خان کی جوابی حکمت عملی، جس کا مظاہرہ ابھی نندن کی رہائی کا فوری اعلان تھا، نے جنونی مودی کو دہلا کر رکھ دیا۔ خصوصاً سعودی وزیر خارجہ اور کچھ سمجھدار ممالک کی مداخلت نے اس گجرات کے قصائی کو پسپائی پر مجبور کر دیا، اس کے باوجود ابھی یہ بلا ٹلی نہیں۔ ہم بہر حال تیار ہیں اور بظاہر حالات اپنے خلاف دکھائی دے رہے ہیں، لیکن میرے کالم کا آغاز دوبارہ پڑھ لیجئے۔