20 ستمبر 2019
تازہ ترین

اک واری فیر    (2) اک واری فیر (2)

پلوں تلے بہت پانی گزر گیا ہے۔ لیکن لگتا ہے جیسے بے نظیر بھٹو اپنی کشتیاں جلا کر پاکستان لوٹ آئی تھیں، وہی کام نواز شریف کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں نتائج وہی نکلتے ہیں یا پھر کچھ مختلف۔ انسانی تاریخ میں حکمران تخت کے لیے لڑتے آئے ہیں، چاہے اقتدار کی اس جاری جنگ میں تخت کے بجائے تختہ ہو جائے۔ شاید انہوں نے سوچ لیا ہے کہ جو ہو گا ، دیکھا جائے گا۔ 
آپ کے سمدھی جناب اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ بن کر ملکی خزانے کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو فرد جرم پڑھ کر سنائی اور ملزم کو بتایا کہ موجودہ ریفرنس میں ان کے خلاف تفتیش کسی حد تک مکمل ہے۔ سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق آپ اور آپ کے اہل خانہ کے اثاثے تراسی کروڑ دس لاکھ روپے ہیں، جو مختصر مدت میں اکانوے (91گنا بڑھے ہیں۔ فرد جرم میں جائیداد و املاک، بینک اکاؤنٹس، اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے الزامات بھی شامل ہیں۔ نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی عدالت میں حاضری کے کئی پہلو قابل ذکر ہیں۔ نیب عدالت میں پیشی کی خبروں کے ساتھ ہی ان کے چہرے پر مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔ انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا کہ کسی روز عام ملزم کی طرح یوں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ عدالت میں حاضری کے وقت تک ان کا وزیر خزانہ کے منصب پر فائز رہنا خود ان کی جماعت مسلم لیگ کے کئی ارکان کے لیے باعث حیرت تھا تو دوسروں کا کیا مذکور۔ میاں نواز شریف اور ان کے وزراء اپنی عزت نفس کا خیال رکھتے تو وہ اپنے اوپر الزامات عائد ہوتے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو کر عام شہری کی طرح عدالتوں میں پیش ہوتے اور اپنی بے گناہی ثابت کر کے دوبارہ وقار و تکریم کے ساتھ واپس آتے۔ جس منصب کی وجہ سے اسحاق ڈار پر مالی خوردبرد کے الزامات لگائے گئے، وزیراعظم بدل جانے کے باوجود عدالت میں پیشی تک ان کا اسی منصب پر برقرار رہنا اہل بصیرت کے لیے نہایت حیرت انگیز ہے۔ ایک مختصر مدت میں ایک خاندان کے اثاثوں کا اکانوے گنا بڑھ جانا کسی کرپٹ حکومت کے دور ہی میں ممکن ہے۔ جرائم کی دنیا کے علاوہ سیاست میں اپنے اختیارات کے ناجائز اور غیر قانونی استعمال کے سوا صنعت و تجارت یا ملازمت کا کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے، جس میں ایک کروڑ روپے مختصر سی مدت میں ایک ارب کے قریب پہنچ جائیں۔ اگرآمدنی میں دس بیس فیصد اضافے کا بھی کوئی شریفانہ طریقہ ہو تو ملک کے وزیر خزانہ کو عوام کی غربت و افلاس دور کرنے کے لیے انہیں بھی بتا دینا چاہیے تاکہ وطن عزیز کا ہر شہری ملکی و غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کر کے ترقی و خوش حالی کی زندگی گزار سکے۔ اسحاق ڈار کے دور میں تو ملک کے عوام پہلے سے زیادہ بد حال اور پریشان ہوئے ہیں۔ راعی اور رعایا میں وسائل و مراتب کا یہ فرق راعی کی بدنیتی اور بد دیانیتی کی صریحاً غمازی کرتا ہے۔ ہر ملزم کی طرح اسحاق ڈار نے بھی عدالت کے روبرو حاضر ہوتے ہی سب سے پہلے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ اس کے بعد وہ اور ان کے ساتھی کھلی لوٹ کھسوٹ اور بد عنوانی کے اس قانونی معاملے کو اپنے سمدھی کی طرح سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کریں گے۔ اس کا آغاز پنجاب کے وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ نے یہ کہتے ہوئے کر دیا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ پر عائد کیے جانے والے الزامات مذاق کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کی پارٹی عدالتوں کا مذاق اڑانے کی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اسے سیاسی معاملہ بنانے میں کس حد تک آگے جاتی ہے۔ عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کو ہر ایرے غیرے نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ ہونا تو چاہیے کہ صدر اور وزیراعظم جیسے اعلیٰ مناصب پر فائز کسی شخص پر معمولی الزام بھی لگ جائے تو وہ خود عدالت میں حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کرے اور برأت حاصل کرے۔ اس صورت میں اس کا مرتبہ و مقام پہلے سے زیادہ بلند ہو گا۔ اس کے برعکس قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کے لیے آخری حد تک گر جانا 
اول تو خود ہی اپنے مجرم ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے اس سے عزت اور مقبولیت میں کوئی اضافہ نہیں کمی ہی واقعی ہوتی ہے۔ اسحاق ڈار کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ حدیبیہ پیپر ملز کے کیس میں وعدہ معاف گواہ بن کر بیان حلفی دے چکے ہیں کہ وہ نواز شریف اینڈ کمپنی کے کہنے پر متعدد مالی بدعنوانیوں اور جعل سازیوں میں ملوث رہے۔ ماضی میں ان کے اسی کردار کی وجہ سے ساق وزیراعظم نواز شریف نے، جو نیب کے کئی ریفرنسز میں ملزم ہیں، اسحاق ڈار کو سلطانی گواہ بننے سے روکنے کے لیے ان کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ اسحاق ڈار سے ملنے والے ہر شخص کا پورا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ ان کی فون کالوں کی بھی ریکارڈنگ کی جا رہی ہے اور ان کی ایک ایک حرکت کی مانیٹرنگ کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ نواز شریف، اسحاق ڈار اور دیگر ملزمان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومتیں قائم ہیں، جو ان سب کو بچانے اور سرکاری پروٹوکول فراہم کرنے کے لیے سرکاری خزانہ بے دریغ خرچ کر رہی ہیں، میاں نواز شریف کو ڈر ہے کہ اسحاق ڈار احتساب عدالت میں ان کے خلاف کوئی گواہی دینے پر آمادہ نہ ہو جائیں جیسا کہ وہ حدیبیہ پیپر ملز کے مقدے میں کر چکے ہیں۔ شریف خاندان اور ان کے ہمنواؤں پر لگنے والے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سے متعلق مکمل معلومات اسحاق ڈار کے سوا کسی کے پاس نہیں ہیں۔ ان حالات میں ملک کے مختلف اداروں اور سربراہوں کو پوری طرح مستعد اور چاق و چوبند رہ کر حب الوطنی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مال و مناصب آنی جانی چیزیں ہیں، جبکہ ملک و قوم سے وفاداری اور خدمت یاد رہنے والی ہے، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ فانی زندگی کے عیش و عشرت کے لیے ابدی زندگی کی نعمتوں کو نظر انداز کر دینا حماقت اور بدترین خسارے کا سودا ہے۔ لیکن قرآن بتاتا ہے کہ انسان عموماً گھاٹے کا سودا ہی کرتا ہے۔