20 نومبر 2018
تازہ ترین

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے! اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے!

پیار کرنے کے لیے گیت سنانے کے لیے
اک خزانہ ہے میرے پاس لٹانے کے لیے
یاد کے زخم ہیں، وعدوں کی دھنک ہے، میں ہوں
یہ بہت ہے۔۔۔ تیری تصویر بنانے کے لیے
کتنی ہی صدیوں کا لہو، صفحہ مقتل پہ رہا
اک سچائی کو۔۔۔ تحریر میں لانے کے لیے
ایک ہی آگ کا ایندھن نہیں بجھنے پاتا
دوسری آگ ہے تیار۔۔۔ جلانے کے لیے
سلیم کوثرؔ
ملک میں سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ صبر اور شائستگی کا لگتا ہے کہ جنازہ اٹھ گیا ہے۔ جملے بین السطور بھی تو کہے اور لکھے جا سکتے ہیں۔ خوبصورتی پردے ہی میں اچھی لگتی ہے۔ سچ، سچ ہوتا ہے۔ لوگ پتا نہیں کیوں اسے برہنہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایک روز سردار عبدالرحیم کہہ رہے تھے کہ اب تو جماعت اسلامی والا بھی اچھا لگتا ہے۔ مخالف تھے، کھل کر مخالف تھے۔ یہ ہم کس دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ منافقت ہی منافقت ہے۔ ہمارے صحافیوں کا بھی المیہ ہے۔ ہم پتا نہیں خود کو کیوں، اقتدار کا حصہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارا کردار تو اس عرب بدو والا ہے، جس نے خلیفہ وقت عمر بن خطابؓ کو کہا تھا کہ جمعہ کا مقدس خطبہ بعد میں سنیں گے، پہلے ہمیں بتاؤ، یہ کرتا کیسے بنا، جسے پہنے کھڑے ہو۔ مالِ غنیمت والی چادر سے اتنا لمبا کرتا نہیں بن سکتا۔ خلیفہ وقت موقع پر ہی گواہی دیتے ہیں۔ اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بیٹا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے حصے میں آنے والی چادر اباجی کو دے دی تھی۔ سوال کرنے والا مطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔
 آج نواز شریف سے لیکر آصف زرداری تک کوئی اپنی صفائی دینے کو تیار نہیں ہے۔ ہم صحافی ان پر توصیف کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ ان کی حکمت عملیوں پر قربان اور واری ہو رہے ہیں۔ حکمرانوں کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں اور بڑے فخر سے بتا رہے ہیں کہ میں نے نواز شریف کی قربت کے باوجود ان کے ساتھ کم دورے کیے۔ ماشا اللہ۔۔۔ کیا وضاحتیں اور صفائیاں ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا۔ صحافی کیوں پارٹی بنے ہوئے ہیں۔ صدارتی انتخاب اور چودھری اعتزاز احسن پر لکھنا چاہتا تھا۔ چلیں! ان سے منسوب دو واقعات یاد آ گئے۔ قوم کی ضیا الحق سے جان چھوٹ چکی تھی۔ آمر کے دو قریبی صحافی بہت پریشان تھے۔ ان میں سے ایک صحافی اعتزاز احسن کے پاس ایک درخواست لایا۔ جس میں اسلام آباد ’’ون‘‘ نمبر الاٹ کرنے کی درخواست تھی۔ اس نے اعتزاز احسن کو کہا کہ اس درخواست پر ’’نو‘‘ لکھ دیں۔ نوجوان وزیر داخلہ ہنس پڑا۔ اسے نمبر الاٹ کر دیا۔ تحفظات کو آڑے نہیں آنے دیا۔ بی بی نے اسی روز اس نمبر کی سفارش کی۔ اعتزاز احسن نے معذرت کر لی اور متبادل نمبر الاٹ کر دیا۔ محترمہ کے اصرار پر بھی نہیں بتایا کہ نمبر کسے الاٹ کیا۔ اس صحافی کے دوسرے جوڑی دار اگلے روز اعتزاز کے پاس جا پہنچے اور کہا کہ چودھری صاحب، ہمیں حکم کریں کیا کرنا ہے۔ پہلے جو چلا گیا اس کے لیے آوازیں لگاتے تھے۔ اب آپ کے لیے یہی کام کریں گے۔ ہمارا یہی کام ہے۔ آج کل یہ موصوف نواز شریف کو اڈیالہ بند کرانے کے بعد، خاتون اول کے لیے ’’رطب اللسان‘‘ ہیں۔
 یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ کامیاب بھی ہیں۔ یہ کریکٹر ہیں۔ سیاست دانوں اور بیورو کریٹس سے بزنس مینوں اور بینکروں سے، پروفیشنل لوگوں سے صحافیوں کے رابطے ہوتے ہیں۔ یہ ضرورت ہیں۔ دونوں اطراف کی مجبوری ہیں۔ اسے مفادات کے ٹول کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ لوگوں کی بہتری کے لیے، اسے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جب ان تمام بڑے لوگوں کے وکیل اور ترجمان موجود ہیں تو پھر ہمیں اس ’’فریضہ‘‘ سے دوری ہی اختیار کرنی چاہیے۔ محمد خان جونیجو کے بعد جتنے وزرائے اعظم آئے، شاید ہی کسی کا دامن آلودگی سے بچا ہو۔ بہرحال وہ ایک عہد تھے۔ 30 سال گزر گئے۔ ان پر کوئی الزام نہیں لگا۔ جنرلوں کو 1300 سی سی پر لے آئے تھے۔ کیونکہ خود بھی 13 سو سی سی پر تھے۔ عمران خان کلٹس پر آ جائیں۔ سب آ جائیں گے۔ مدینہ کی ریاست کا یہی اولین اصول ہے۔ پیٹ پر پھر سب پتھر باندھیں گے۔ لیڈر کو دو باندھ کر دکھانا پڑتا ہے۔ بغیر بتائے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ کلٹس کے بجائے مہران پر آئیں تاکہ اور اچھی مثال قائم ہو۔ بہتر یہ تھا کہ سرکاری گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ افسران کے لیے پیکیج دیں۔ وہ گاڑی، گھر، سکول اور ہسپتال کے حوالے سے سہولیات حاصل کریں۔ تاکہ وہ اپنے کام پر توجہ دیں۔ ان کو الاؤنس دیں۔ وہ اپنی گاڑی سے لیکر گھر تک کا خود خیال رکھیں گے، ان کی اپنی جو ہو گی۔ ’’پروٹوکول پول‘‘ کو الگ سے رکھیں۔ جو ریاست کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ افسران کے بنیادی مسائل حل کریں۔ تاکہ وہ پُرسکون طریقے سے بغیر کسی دماغی اور اعصابی بوجھ کے اپنے فرائض کماحقہ ادا کر سکیں۔
 زمانہ بدل رہا ہے۔ دفاتر کو صبح 7 بجے پر لے کر جائیں۔ ایوب خان کے دور میں دفاتر 7 بجے لگتے رہے ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ مسلمان ویسے بھی صبح اٹھتا ہے۔ سردیوں میں آٹھ بجے کر لیں۔ ہفتے میں دو چھٹیاں ورکنگ ٹائم 8 گھنٹے بہت ہیں۔ لوگوں کی لیٹ دفتر میں بیٹھنے کی مکمل حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ تین بجے دفاتر بند ہو جانے چاہئیں۔ اسی طرح سے مارکیٹ شام 5 بجے ہر صورت میں بند کریں۔ ’’لیٹ نائٹ‘‘ کلچر اس ملک کی جڑوں میں بیٹھ گیا ہے۔ میڈیکل سٹور، پٹرول پمپ، تھیٹر اور ریسٹورنٹ رات تک کھلے ہوں۔ لوگ جائیں اپنے عزیز و اقارب سے ملیں۔ کسی کی عیادت کریں۔ پارک اور گراؤنڈ آباد ہوں۔ کوئی صحت مند قوم نکلے۔ کہیں پر تھیٹر ہو۔ کہیں پر میوزک ہو، کہیں پر میچ ہو۔ کلچرل سرگرمیاں ہوں۔ کہیں میلے ہوں۔ آج پوری قوم موبائل اور کمپیوٹر کی اسیر بن گئی ہے۔ ایشینز گیم میں، انتہائی بُری کارکردگی لمحہ فکریہ نہیں ہے تو کیا ہے۔ جنرل عارف حسن سمیت تمام ایسوسی ایشنز کا احتساب نہیں، کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ 22 کروڑ لوگوں کے ملک میں کیا ٹیلنٹ ’’مر‘‘ گیا ہے۔ 25 لاکھ کا کروشیا فٹ بال ورلڈ کپ فائنل میں پہنچا ہے۔ وزیراعظم کی کرکٹ سے محبت لازمی امر ہے۔ مگر انہیں اب کھیلوں پر توجہ دینا ہو گی۔ سپورٹس کی تنظیموں میں ’’جونکیں‘‘ بیٹھی ہیں۔ جو تمام فنڈز چوس گئی ہیں اور کھلاڑیوں کو نگل گئی ہیں بلکہ ٹیلنٹ کو ہڑپ کر گئی ہیں۔ اپنے نالائق بچوں اور سفارشیوں کو کھلانا ان کے ایمان کا حصہ ہے۔ حضور قوم کو سیکڑوں نہیں، ہزاروں اور لاکھوں گراؤنڈز اور پارکس چاہئیں۔ ہمیں ہزاروں پروفیشنل کوچ اور ٹرینرز چاہئیں۔ ورنہ یہاں پر سب ذہنی اور جسمانی معذور ہی رہ جائیں گے۔
ہر شعبے میں کچھ اعلیٰ معیارات قائم کرنا ہونگے۔ آج ہم پروسیس فوڈ کی آڑ میں زہر کھا رہے ہیں۔ 
ہوٹلوں میں زہر بک رہا ہے۔ جن چند ہوٹلوں میں معیار ہے وہ 98 فیصد آبادی کی پہنچ سے ہی باہر ہیں۔ دودھ اور خوراک پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میں کبھی کسی ترقی یافتہ ملک میں نہیں گیا۔ مگر جو کچھ پڑھا اور سنا ہے، اس حساب سے یہاں تاجروں اور ’’دلالوں‘‘ (مڈل مین) کو لوٹ مار کی کھلی چھٹی ہے۔ کاشت کار کو کچھ نہیں ملتا، صارف کو بھی کوئی ریلیف نہیں ہے۔ سب کچھ ٹریڈر اور دلال لے اڑتا ہے۔آپ آج مشینری، گاڑیوں اور بوائلرز کو دیکھ لیں۔ (ن) لیگ نے ماشا اللہ سے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ہی تحلیل کر دیا تھا۔ تحلیل کرنے والی کمیٹی میں تین انجینئر وزیر شامل تھے۔ شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر اور بلیغ الرحمٰن۔ خواجہ آصف بینکر دہائیاں دے رہے تھے کہ جناب، اس کو زمین کی پاتال میں دفن کر دیں۔ فواد حسن فواد سے اس پر بھی تو تحقیقات کریں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے میاں اسد حیا الدین کا انہوں نے یہ سمری رکوائی اور کہا کہ یہ فیصلہ آنے والی حکومت پر چھوڑ دیں۔ وگرنہ ان کا ایک دستخط، ای ڈی بی کے تابوت میں آخری کیل ہوتا۔ آج سوزوکی مہران سمیت، مقامی طور پر تیار ہونے والی غیر معیاری گاڑیاں کیا پوری قوم کا منہ نہیں چڑا رہیں۔ ان کی قیمت دیکھو اور معیار دیکھو۔ ڈھٹائی اور بے شرمی کی انتہا ہے۔ اور کتنے ہی ادارے ہیں، جو سیٹھوں کی خواہشات کے سامنے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ یا سیٹھوں کے بیٹھے ایجنٹ وہاں لوگوں کے گلے گھونٹ رہے ہیں۔ جیسے کہ ایکسپلوزو ڈیپارٹمنٹ ہے۔ اس پورے ڈیپارٹمنٹ میں تطہیر لازمی ہے جبکہ یہاں کے ڈپٹی سیکرٹری سمیت سب کا احتساب لازمی ہے۔ یہاں سی ڈی اے اور کچہری کی طرح آپ پیسے دیے بغیر نکل کر دکھا دیں۔
یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے