22 ستمبر 2018

اپوزیشن حکومت سے کریں اپوزیشن حکومت سے کریں

پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل پر ہمیشہ سوالیہ نشان اُٹھتے ہیں، تشویش پائی جاتی اور بسااوقات یہ تسلسل ٹوٹا بھی ہے، جس میں ہمارے سیاستدانوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہاں گزشتہ کچھ عرصے سے جمہوریت اپنی ڈگر پر چل رہی ہے اور چاہے حکمران اپنی مدت پوری کریں یا نہیں، حکومتوں نے اپنی مدتیں پوری کیں، تاہم نہ زمانے کا چلن بدلا نہ سیاست کا، ایک دوسرے پر ایسے ایسے حملے کیے ایسے جملے کسے گئے کہ الامان والحفیظ۔ لگتا ہے سیاست سے شائستگی رخصت ہوچکی، پھر یہ بھی ہوا کہ یہی دشنام طراز ایک دوسرے کی سیٹوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے کے سنگھی ساتھی بن گئے اور اسے نظریۂ ضرورت قرار دینے کے بجائے باہمی افہام و تفہیم کا نام دے دیا جاتا ہے، کاش یہ افہام و تفہیم ہماری سیاست اور معاشرے کا خاصہ بن جائے، لیکن دکھ یہی ہے کہ ایسا نہیں، ہم اپنا دیا جلانے کے لیے دوسروں کے جلتے چراغ بجھاکر اپنی بہادری پر فخر کرتے ہیں، ہمیں اپنے ذاتی مفادات کے آگے کسی دوسرے کا فائدہ نقصان نظر نہیں آتا۔
ہمارے حکمران اور سیاستدان اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا ناصرف بیان دے سکتے بلکہ اپنے کارکنوں کو قومی نقصان کرنے پر جذباتی طور پر اُبھار بھی سکتے ہیں، اداروں کے خلاف جو رویہ رکھا جاتا ہے وہ ناصرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارے لیے رسوائی کا باعث بن جاتا ہے۔ خصوصاً فوج کے خلاف ہمارے عظیم رہنمائوں کے بیانات توکچھ ایسے ہوتے ہیں جیسے دشمن ملک سے یا اُن کی فوج کے بارے میں دیے گئے ہوں۔ اس ذہنیت پر افسوس کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے، ہاں انہیں یہ یاد دلایا جاسکتا ہے کہ کچھ جوان اُن کے خاندانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے انہی سیاسی رہنمائوں کو جب پناہ کی ضرورت ہوتی ہے اور یا قوم اُن سے اُن کے گمراہ خیالات پر پوچھ گچھ کرتی ہے تو تب وہ ایسا یوٹرن لیتے ہیں کہ بندہ دیکھتا ہی رہ جائے، پھر یہی فوج عظیم ہوجاتی ہے۔
ہمارے سابق وزیراعظم کو تو کبھی یہ قرینہ تک نہ آیا کہ اپنے محافظوں کو کس طرح عزت دی جائے۔ دشمن سرحد سے چند کلومیٹر اندر ان کی ریاستِ جاتی عمرہ کا وجود بھی انہی محافظوں کا مرہون منت ہے جو سرحد پر بیٹھ کر اس وطن بشمول جاتی عمرہ کی حفاظت کرتے ہیں۔یہی حال ہمارے مولانا فضل الرحمٰن کا بھی ہے جب انہیں عوام کا ڈر پیدا ہوجائے تو فوج عظیم ہوجاتی ہے ورنہ یہ بھی نواز شریف کے عظیم ساتھی بن جاتے ہیں۔ حالیہ الیکشن پر مولانا صاحب کی رائے بڑی توجہ طلب ہے، کب وہ دوبارہ اقتدار کا مزا لوٹنے کے لیے نئی حکومت کے حامی بن جائیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا، فی الحال تو بوجوہ اپنی شکست کے اور عرصہ دراز کے بعد سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے وہ سخت ناراض ہیں، لہٰذا نئی حکومت کے خلاف ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کب تک ایسا چلے گا، لیکن ان کے حالیہ الیکشن کے بارے بیانات خاصے قابلِ اعتراض ہیں۔ اُن کے فرمان کے مطابق موجودہ الیکشن میں فوج کا کردار اہم اور فیصلہ کن رہا اور جیتنے والے فوج کی مدد سے جیتے۔ ان کے بعد ان کے ایک اور ہمنوا یعنی محمود خان اچکزئی بھی میدان میں اترے، یہ بھی حکومتی پارٹی کے ’’پکے‘‘ اتحادی ہوتے ہیں، لیکن فوج کے خلاف اپنی زبان دراز ہی رکھتے ہیں، یہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ملکی سالمیت پر ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ افغان حکومت سے ان کے خوشگوار تعلقات کا وہ فائدہ خوب اٹھاتے رہے ہیں اور جواباً انہیں اپنے ہی ملک سے غداروں کی کھیپ بھی فراہم کرتے رہتے ہیں۔ شاید یہی حقیقت بھانپ اور سمجھ کران کے حلقے کے لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا اور جب وہ اپنی نشست ہار گئے، جسے وہ اپنی میراث سمجھتے ہیں تو ان کی توپوں کا رُخ بھی افواج پاکستان کی طرف ہوگیا اور الیکشن پر اپنی اُسی رائے کا اظہار کیا جس کی ان سے توقع تھی۔ اب یہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے والوں کے ساتھی ووٹ کے ہی انکاری ہوگئے۔ بات یہاں تک آکر بھی نہ رُکی اور مزید آگے بڑھ کر ایک اور مہم شروع ہوگئی، نئی حکومت کے حلف اُٹھانے سے بھی پہلے یہ کہا جانے لگا کہ بہت جلد حکومت اور فوج کے تعلقات خراب ہوجائیں گے اور حکومت چل نہیں سکے گی۔
مجھے اس سے غرض نہیں کہ حکومت کس کی ہے لیکن کیا اس قسم کا ماحول پیدا کرنا درست ہے، عوام کے ذہنوں میں تنفر پیدا کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ ان کے نمائندوں کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اگرچہ ماضی میں مارشل لا لگے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہی سیاستدانوں نے مٹھائیاں بانٹ کر اس پر خوشی کا اظہارکیا اور ان ادوار کی اسمبلیوں میں بھی پورے طمطراق سے بیٹھے ہیں مگر اب اگر ایسا نہیں ہورہا اور ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی آرہی ہے تو دوبارہ اس قسم کی باتیں کیوں کی جارہی ہیں اور کس کا ایجنڈا پورا کیا جارہا ہے۔ 
مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں خود کو جمہوریت کے چیمپئن اور جمہوری نظام کے لیے ناگزیر سمجھنے والے ہی جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اب بھی ان کے لیے ہمدردانہ مشورہ یہ ہے کہ خدارا جمہوریت کو چلنے دیں، آپ اپنی باری کرچکے ہیں، عوام آپ کو آزما چکے ہیں، اگر اب وہ دوسروں کو آزمانا چاہ رہے ہیں تو آزما لینے دیجیے، اگر وہ آپ سے اچھی کارکردگی دکھا سکے تو ٹھیک ہے، نہیں تو آپ اگلی بار کے لیے کوشش کیجیے۔ الیکشن میں ہار جیت کارکردگی پر ہونی چاہیے اور بجائے الزامات لگانے کے اپنی نیت اور عمل پرتوجہ دینا چاہیے۔ کام نئی حکومت کا بھی آسان نہیں، اُسے بھی وہ وعدے پورے کرنے ہیں جن پر اُس نے ووٹ لیا، لہٰذا اپوزیشن کا کردار اس طرح ادا کیجیے کہ حکومت کو سیدھے راستے پر رکھ سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپوزیشن حکومت سے کریں کہ وہ آپ کی سیاسی حریف ہے فوج سے نہیں جو ملکی سرحدوں کی محافظ ہے۔