21 ستمبر 2018
تازہ ترین

اور چڑیا اُڑ گئی…! اور چڑیا اُڑ گئی…!

عام انتخابات 2018 میں پاکستان تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے کی بنیاد پر کامیاب ترین جماعت قرار پائی۔ اُس کے برسراقتدار آنے اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کے ساتھ ہی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوگئی ہیں، جن کے اثرات ملک کے طول و عرض میں محسوس بھی کیے جارہے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا جانا طے تھا۔ اس دوران اُن کے استعفے کے حوالے سے چہ میگوئیاں بھی خوب ہورہی تھیں۔ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ جلد ہی اُنہیں اس عہدے سے فارغ کردیا جائے گا۔ بالآخر عمران خان کے حلف اُٹھانے کے دو روز بعد ہی وہ چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ اگر وہ خود سے نہ جاتے تو یقیناً چند ہی روز میں اُن کی سبکدوشی کے احکامات آجاتے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنا استعفیٰ پوسٹ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے لکھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے چیئرمین نامزد کیا تھا اور گورننگ بورڈ کے اراکین نے متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کیا، استعفیٰ دینے کے لیے وزیراعظم کی حلف برداری کا انتظار کررہا تھا، اب رضاکارانہ طور پر استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوادیا ہے۔ نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ ٹیم اور بورڈ کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اور چند تجاویزبھی دیں۔سیٹھی کے استعفے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے احسان مانی کو پی سی بی کا نیا چیئرمین نامزد کردیا ہے۔ وہ آئی سی سی میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، وہ تین سال 
تک اس کے خزانچی جب کہ تین برس صدر رہے۔ عمران خان کرکٹ کے کھلاڑی اور کپتان رہے ہیں اور وزیراعظم بننے کے بعد اَب پی سی بی کے پیٹرن انچیف بھی ہیں، اُمید ہے کہ وہ کرکٹ میں مزید بہتری کے لیے بہتر اقدامات کریں گے۔
یہ عہدہ نجم سیٹھی کو اُن کی قابلیت کے مطابق نہیں ملا تھا، کرکٹ میں اُن کی خدمات تھیں اور نہ تجربہ… پی سی بی چیئرمین شپ اُن کے مقابلے میں کئی مضبوط اُمیدواروں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اُنہیں دی گئی تھی۔ذکا اشرف اور اُن کے درمیان ابتدا میں اس حوالے سے کھینچا تانی بھی ہوتی رہی، بالآخر نجم سیٹھی ہی کرکٹ بورڈ کے مستقل چیئرمین کے طور پر سامنے آئے۔ گزرے دور حکومت میں اپنوں کو نوازنے کے جو سلسلے شروع کیے گئے تھے، یہ اسی کی ایک کڑی تھی۔ اس روش سے ملک سمیت کئی سرکاری اداروں اور محکموں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ چند ایک میں بہتری کی رمق بھی دِکھائی دی، پی سی بی بھی اُنہی میں سے ایک قرار دیا جاسکتا ہے۔ 
نجم سیٹھی نے جب پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالی تو صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ پاکستان ٹیم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی تھی اور اُسے پے درپے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ ہر غیر ملکی دورہ اُس کی ہار سے شروع ہوتا اور اُس کا اختتام بھی شکست کے گہرے سائے میں ہوتا۔ملکی میدانوں میں سناٹوں کا راج تھا، کوئی غیر ملکی ٹیم تو کجا کھلاڑی بھی یہاں آنے پر رضامند نہ تھے۔ اس تمام تر صورت حال اور سب سے بڑھ کر قومی ٹیم کی ناقص ترین کارکردگی سے شائقین میں خاصی مایوسی اور بددلی پائی جاتی تھی۔ نجم سیٹھی کرکٹ کا تجربہ تو نہیں رکھتے تھے، لیکن قومی ٹیم کے لیے اُن کے بعض فیصلے نہایت کارگر ثابت ہوئے اور وہ جیت کی راہ پر گامزن ہوگئی۔ سابق چیئرمین پی سی بی کے دور میں ہماری کرکٹ میں کچھ مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن کا کریڈٹ بہرحال نجم سیٹھی کو نہ دینا ناانصافی کے زمرے میں آئے گا۔ 
پی سی ایل کو متعارف کرانا، اس کے تین ایڈیشنز کا کامیابی سے انعقاد، دوسرے ایڈیشن کا فائنل اور تیسرے ایڈیشن کے سیمی فائنلز اور فائنل پاکستانی میدانوں میں کرانا اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان آنے پر رضامند کرنا اُن کا وہ عظیم کارنامہ ہے، جو بھلایا نہیں جاسکتا۔ اُن کے دور کی بڑی کامیابیوں میں عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں اوّل نمبر، قومی کرکٹ ٹیم کا چیمپئنز ٹرافی 
جیتنا، ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن اور  ویسٹ انڈیز کا دورۂ پاکستان شامل ہیں۔ ملکی میدانوں میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے بھی اُنہوں نے خوب جتن کیے، اس لحاظ سے اُن کی کوششیں قابل تعریف قرار دی جاسکتی ہیں، اسی کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کی ٹیمیں پاکستان آئیں۔ لیکن جہاں پھول کھلتے ہیں وہاں کانٹے بھی ہوتے ہیں کے مصداق نجم سیٹھی پر الزامات بھی وقتاً فوقتاً عائد ہوتے رہے۔ بگ تھری کو تسلیم کرنا ان کی بڑی غلطی تھی، جس کا خاطرخواہ فائدہ پاکستان کو نہیں پہنچ سکا اور اس معاملے میں پستی ہی ہمارا مقدر بنی۔ بھارتی بورڈ کے مقابلے میں آئی سی سی میں پی سی بی اپنا کیس مضبوط طور پر نہ لڑسکا۔ پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں فکسنگ اسکینڈل بھی سامنے آیا، اُن کے دور میں بعض کھلاڑیوں کے استحصال کی شکایتیں بھی آتی رہیں۔ بہرحال مجموعی طور پر اُن کا دور کئی حوالوں سے بہتر قرار دیا جاسکتا ہے۔ 
 نجم سیٹھی کا شمار ملک کے سینئر اور معروف ترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ وہ ایک نیوز چینل پر خاصے عرصے تک کامیابی سے پروگرام بھی کرتے رہے ہیں۔ گویا وہ اور اُن کی چڑیا عوام النّاس میں خاصے مقبول ہیں۔ اس سے قبل ساری زندگی اُنہوں نے صحافت میں ہی بسر کی ہے۔ وہ مختلف اخباروں اور نیوز چینل پر اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اب وہ کس چینل پر دِکھائی دیں گے، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ امکان تو یہی ہے کہ وہ اپنے شعبے میں دوبارہ طبع آزمائی کریں گے۔