21 ستمبر 2018
تازہ ترین

اور ریفرنڈم ہو گیا!!! اور ریفرنڈم ہو گیا!!!

امور مملکت چلانے کیلئے اختیارات صدر مملکت کے پاس ہوں یا یہ اعزاز و ذمہ داری وزیراعظم کے پاس ہو، تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ مدارالمہام یعنی قوت کا سرچشمہ صدر اور وزیراعظم ہی آگاہ ہوتا ہے کہ حکومت کیا کرنے جا رہی ہے۔ یعنی صدر و وزیراعظم کے قریبی رفقاء بھی اس امر سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کے باس کے دراصل مقاصد، عزائم اور پالیسی کیا ہے اور وہ حتمی طور پر ملک و قوم کو کس ڈگر پہ ڈالنے اور لے کر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ میرے اس انداز نظر اور نقطہ نظر کو مزید تقویت اس وقت ملی جب میں ممتاز ماہر تعلیم اور دانشور ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی خود نوشت اور یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اس سے بیشتر کہ میں متذکرہ بالا رائے کو تقویت دینے والا وہ مخصوص واقعہ آپ کی نذر کروں، یہ جانتے چلئے کہ آج کے ممتاز ماہر تعلیم اور متعدد یونیورسٹیوں میں ماس کمیونی کیشن اور میڈیا سٹڈیز کے شعبوں میں ڈین کے فرائض انجام دینے کے اعزاز کے حامل ڈاکٹر مغیث الدین شیخ زمانہ طالب علمی میں ایک مخصوص نقطہ نظر کی حامل طلبہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے بہت سرگرم اور متحرک تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب کسی طالب علم رہنما کا اسلحہ چلانے میں ماہر ہونا نہیں، تعلیمی اعتبار سے عمدہ کارکردگی کا حامل ہونا شرط اول ہوا کرتا تھا۔
پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ عملی صحافت کی اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ معروف صحافی و کالم نگار عبدالقادر حسن کے ذاتی جریدے ’’افریشیا‘‘ سے منسلک رہے۔ تاہم اس دوران ان کی سیاسی و سماجی اور ادبی و صحافتی سرگرمیوں کواتنی مہمیز مل چکی تھی کہ وہ ’’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے‘‘ کی منزل پہ تھے۔ بعدازاں وہ شعبہ تدریس سے وابستہ ہوئے جس کی تفصیل کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں، تاہم آج وہ میڈیا سٹڈیز کے حوالے سے پاکستان کا ایک معتبر نام اور حوالہ ہیں۔ مغیث صاحب کی شخصیت و زندگی کے حوالے سے گفتگو کچھ طویل ہو گئی مگر اس کا تذکرہ یہاں ناگزیر تھا کہ آنے والی سطور میں جن واقعات کا بیان ہو گا، وہ ان کی شخصیت کو جانے بغیر لطف نہیں دے سکیں گے۔
بہرحال، تو آیئے ڈاکٹر مغیث کی خود نوشت سسکتی مسکراتی زندگی سے وہ واقعہ ملاحظہ کیجئے جس کے تذکرے سے میں نے کالم کی تمہید باندھی تھی۔ وہ لکھتے ہیں، یہ ضیاء الحق کا زمانہ تھا ’’جنگ‘‘ میں آٹھ کالمی خبر شائع ہوئی ’’الیکشن نہیں ریفرنڈم ہو گا‘‘۔ یہ بہت بڑی دھماکے دار خبر تھی جو عظیم چودھری نے بریک کی تھی، جس پر اس کی واہ واہ ہوئی لیکن اس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر اطلاعات راجہ ظفر الحق نے عظیم چودھری کو بلاوا بھیجا، میر شکیل الرحمٰن (مالک روزنامہ جنگ) کو بھی بلایا اور پوچھا گیا کہ جناب آپ نے یہ خبر کیسے لگائی ہے؟ اس کا Source کیا ہے، بلاؤ اس رپورٹر کو جس نے یہ خبر دی ہے۔ عظیم چودھری نے مجھے فون کیا کہ مجھے میرے باس میر شکیل الرحمٰن نے بلایا اور کہا ہے کہ میرے ساتھ جا کر راجہ ظفرالحق سے ملو کیونکہ اوپر سے کال آئی ہے آپ بتائیں میرے لیے کیا حکم ہے۔ میں نے اسے ایڈوائس دیتے ہوئے کہا ’’یا لیٹ جاؤ یا پورے قد کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ‘‘ بہتر یہی ہے کہ دوسرے آپشن کا انتخاب کرو اور سلامت علی بن جاؤ۔ سلامت علی ایسے صحافی تھے جنہیں ساؤتھ ایشیا میں اس بات پر داد دی گئی کہ انہیں مسلسل نوٹس مل رہے تھے مگر انہوں نے اپنا سورس نہیں بتایا تھا۔ میں نے کہا کہ سلامت علی بنو یا لیٹ جاؤ، کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔ یوں روزنامہ جنگ سے عظیم چودھری کو فارغ کر دیا گیا یعنی مالکان نے اس کی قربانی دے دی۔ عظیم چودھری کو حکومت کی جانب سے گالیاں دی گئیں، ازاں بعد پتا چلا کہ عظیم چودھری کا سورس گوجرانوالہ کے ایم این اے غلام دستگیر خان تھے۔ اس خبر کی اشاعت کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ضیاء الحق نے ریفرنڈم کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان پر روزنامہ جنگ نے سرخی جمائی، جنگ بازی لے گیا اور قارئین کو یہ بتایا گیا کہ روزنامہ جنگ نے اتنا عرصہ پہلے یہ خبر دی تھی کہ اب ملک میں الیکشن نہیں، ریفرنڈم ہو گا۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ خبر کا سارا کریڈٹ خود لے لیا گیا اور جس رپورٹر نے یہ خبر دی تھی، اسے فائر کر دیا گیا۔
متذکرہ واقعہ کے بیان سے جہاں کارکن صحافیوں سے روا رکھے جانے والے رویہ کا اظہار ہوتا ہے وہاں یہ بھی منکشف ہوتا ہے کہ قوت کا سرچشمہ، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان ملک میں ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کر چکا تھا مگر حکومت کا ترجمان وزیر اطلاعات اس سے قطعاً بے خبر تھا اور ریفرنڈم کی خبر دینے والے رپورٹر کو حکومتی عتاب کا نشانہ بناتے ہوئے روزگار سے بھی محروم کر چکا تھا۔
کسی بھی قلمکار کی لکھی ہوئی یادداشتیں ہوں یا خود نوشت، یہ دراصل اس کی اپنی شخصیت کا آئینہ اور عکس ہوتی ہے۔ زیر نظر کتاب، سسکتی مسکراتی زندگی بھی اسی تناظر میں ڈاکٹر مغیث کی زندگی کا عکس اور ایک دستاویز ہے جس میں جہاں وہ بہت اعلیٰ اقدار کا اظہارکرتے ہوئے ملتے ہیں، وہیں انہوں نے اپنی شخصی اور بشری کمزوریوں اور کوتاہیوں کا بھی برملا اعتراف کیا ہے، جو دراصل اخلاقی اعتبار سے ان کے بڑے پن اور بے پناہ اعلیٰ ظرفی کا اظہار ہے جس کا اصل مزہ تو آپ کو براہ راست کتاب کے مطالعہ سے ہی مل سکتا ہے۔ مگر میں یہاں کتاب سے کچھ ایسے واقعات کا تذکرہ لازماً کرنا چاہوں گا جو گئے دنوں کی عمدہ اخلاقی اقدار اور اعلیٰ ظرف لوگوں کے کردار کی قابل تقلید روایات ہیں۔ شیخ امتیاز علی ستر کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے تھے۔ وہ ایک بہت ہی نفیس، شستہ اور شائستہ، باکمال استاد اور ماہر تعلیم تھے۔ ان کے حوالے اور اس عہد کی اخلاقیات کے حوالے سے ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ میں ڈاکٹر مغیث یوں رقم طراز ہیں ’’جب انہیں وزیر تعلیم بنایا گیا تو وہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل تھے۔ انہوں نے وزارت اس شرط پر قبول کی تھی کہ وہ پرنسپل لاء کالج کے عہدہ پر برقرار رہیں گے۔ اس ضمن میں ان کی دلیل یہ تھی کہ وہ اول و آخر ایک استاد ہیں اور لاء کالج ان کا قلعہ ہے جبکہ وزارت آنی جانی شے ہے۔ درحقیقت انہیں بطور مشیر تعلیم رکھا گیا تھا جس کا درجہ وزارت کے برابر ہی ہوتا تھا۔ وہ مارشل لاء کا زمانہ تھا اور ڈاکٹر خیرات ابن رسا پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ ان سے قبل شیخ امتیاز خود بھی وائس چانسلر رہ چکے تھے۔ جب انہیں وزارت تعلیم کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے کہا وہ وزارت نہیں لیں گے انہیں مشیر کا عہدہ دے دیا جائے، وہ لاء کالج نہیں چھوڑنا چاہتے۔ چنانچہ وہ لاء کالج جاتے، پرنسپل کے طور پر فرائض انجام دیتے، کلاسیں پڑھاتے اور کالج چلاتے۔ وائس چانسلر خیرات ابن رسا بحیثیت وائس چانسلر جب میٹنگ بلاتے تو شیخ امتیاز بحیثیت پرنسپل اس میٹنگ میں شریک ہوتے، وہ وزیر ہونے کے باوجود وائس چانسلر کا احترام کرتے۔دراصل وہ چیئر کا احترام کرتے تھے اور جب بحیثیت وزیر تعلیم شیخ امتیاز میٹنگ بلاتے تو وائس چانسلر خیرات ابن رسا اس میٹنگ میں جاتے اور چیئر کا احترام کرتے تھے۔ یہ وہ روایات تھیں، جن کا اس زمانے میں خیال رکھا جاتا تھا۔
ڈاکٹر مغیث پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے، اس دوران کا وہ ایک قصہ یوں لکھتے ہیں، سینئر صحافی نصراللہ غلزئی (مرحوم) نے پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ وہ میرٹ میں کہیں آگے تھے، انہوں نے بھی پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار شپ کیلئے اپلائی کیا تھا لیکن میں نے اس وقت پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹ یونین کے صدر لیاقت بلوچ جو سینڈیکیٹ کے ممبر بھی تھے اور ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا، سے کہا کہ میں چاہتا ہوں مجاہد منصوری اس سیٹ پر پنجاب یونیورسٹی آئیں۔ (واضح رہے کہ مجاہد منصوری تب روزنامہ نوائے وقت میں رپورٹر اور میرٹ میں نصراللہ غلزئی سے کہیں پیچھے تھے) یوں مجاہد منصوری کی شعبہ صحافت میں بطور لیکچرار تقرری ہو گئی اور نصراللہ غلزئی میرٹ پر ہونے کے باوجود اس ملازمت سے محروم رہے، جس کا منطقی نتیجہ تھا کہ وہ تاحیات مجھ سے ناراض رہے۔
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی یہ کتاب سسکتی مسکراتی زندگی قابل مطالعہ(worth reading) کتابوں میں ایک بہت عمدہ اضافہ ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ زندگی کی حقیقت تو صرف چند لفظوں میں بیان ہو سکتی ہے، پھر اس زندگی کی تفہیم کیلئے اتنی ڈھیر ساری کتابیں کیوں؟ ڈاکٹر مغیث کی یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے اس سوال کا جواب بھی میسر آ گیا کہ بہت سی کتابیں زندگی کی زیادہ بہتر تفہیم کرتی اور آگہی دیتی ہیں، اور ڈاکٹر مغیث کی یہ کتاب ایسی کتابوں میں ہی شمار ہوتی ہے۔