20 ستمبر 2019
تازہ ترین

انتہا پسندی اور ہمارا بیانیہ انتہا پسندی اور ہمارا بیانیہ

آج ہم جس ماحول میں جی رہے ہیں اِسے مادیت کے ناگ نے ڈسا ہوا ہے۔ ہم بحیثیت قوم دینی اَقدار اور اسلامی تہذیب وتمدن سے روز بروز دور ہوتے جا رہے ہیں۔ دین سمٹ کر مسجدوں، مدرسوں اور خانقاہوں تک رہ گیا ہے۔ اَب ہمارے ہاں کوئی ایسی اصلاحی تحریک نہیں جو مسالک کی اَسیری سے آزاد ہو، لوگوں کی اَخلاقی تربیت کرے اور معاشرے کی شیرازہ بندی پر لوگوں کو مائل کرے۔ جو لوگ دین کی دعوت دے رہے ہیں اِن میں سے اکثر وبیشتر اپنے مسلک اور فقہ کی طرف بلاتے ہیں۔ اچھے، نیک، صالح اور مخلص لوگوں کی کاوشوں سے انکار نہیں، میری مراد اُس اکثریت سے ہے جو تاریک راہوں پر چل پڑی ہے۔
جو شخص یہاں جو کچھ سوچتا ہے اور جس کی فہم اُسے صحیح گردانتی ہے وہ اُسے دوسروں پر بھی مسلط کرنا چاہتا ہے، یوں اختلاف رائے کی گنجائش کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ نفرت کا سیلاب بڑھتا ہے۔ آپ انٹرنیٹ پر بالخصوص یوٹیوب پر ایسے زہریلے لیکچر، خطبات اور بیانات سن سکتے ہیں جن کے نتائج انتہا پسندی پر منتج ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو خالص دین کی طرف لوگوں کو بلا رہے ہیں اور اُس راستے میں جانی ومالی اور اپنے اوقات کی قربانی دے رہے ہیں حقیقت میں وہی جوہر قابل ہیں، اللہ اِن کے اخلاص میں برکت عطا فرمائے۔ بدقسمتی سے معاشرے کی تنظیمی ترتیب یوں تشکیل پا چکی ہے کہ ہمارے دل خیر سے کم متاثر ہوتے ہیں، یہی ہماری سنگدلی ہمیں پتھریلے راستوں پر دھکیل رہی ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف جب یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے معاملات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے یعنی ہم پہلے اپنے گھر کی صفائی کریں، تو یہ بات جزوی طور پر تو صحیح ہے۔ اس کا پس منظر اور پیش منظر دونوں واضح ہیں، کسی کو بھی اس میں شک و شبے کی ضرورت نہیں۔ لیکن جب وہ حافظ سعید کی طرف اُنگلی اٹھاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ تاریخی شعور سے ناآشنا ہیں۔ حافظ صاحب کی جدوجہد کا محور ومرکز کشمیر ہے، اُن کے خلاف جس قدر واویلا اور شوروغل ہے وہ ہندوستان سپانسرڈ ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ حافظ سعید صاحب کی قیمت پر ملک برباد کرا لیا جائے، انہیں بھی اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو محدود کر دیں اور ایسے خیالات اور بیانات سے گریز کریں جس سے عالمی سطح پر ہمیں دشواریاں پیش آتی ہیں۔ 
ہمیں حکمت وتدبر کی ضرورت ہے، دنیا میں ہمارے خلاف ایک خاص بیانیہ تشکیل پا رہا ہے، ہمیں حالات کی نزاکت کو سمجھنا ہو گا۔ اگر ہم ملک میں حقیقی طور پر دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ملک کو تعمیر وترقی کی راہوں پر ڈالنے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننا ہے۔ بیانیہ ریاست طے کرے گی لیکن اِس کے اجزائے ترکیبی اور تشکیل پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے تاکہ کارِ مملکت کے تمام فریق یکسو ہو سکیں۔ ہم ماضی کی بھیانک غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر روشن مستقبل کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں اِس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ وہ عناصر جو شب وروز نفرت وتکفیر کی اشاعت کر رہے ہیں انہیں کیسے روکا جائے؟ ان کے سامنے کیسے بند باندھا جائے، ان کی سوچ اور فکر میں جو کجی ہے اُسے کیسے صراط مستقیم پر ڈالا جائے؟
 ہمارے ہاں اَب تو یونیورسٹیوں کے طلبا بھی انتہا پسندی کی راہوں پر چل نکلے ہیں اور بعض جگہوں پر پڑھی لکھی خواتین بھی اِن کے شانہ بشانہ ہیں، یہ بڑی دکھ اور تشویش کی بات ہے۔ اِنہی حالات کو تجزیوں کی کٹھالی میں ڈال کرہم مستقبل کا نقشہ بنا سکتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے اِن نوجوانوں کی زندگی مقصدیت سے خالی ہے۔ ہم اِنہیں جو تعلیم دے رہے ہیں وہ اُنہیں سوال اُٹھانے اور تحقیق کی طرف مائل ہی نہیں کرتی۔ تعلیم بھی ایسی فرسودہ ہے جو عصر حاضر سے ہم آہنگ نہیں، یہی بے مقصدیت پھر کسی منفی مقصد کا راستہ کھولتی ہے۔ خواجہ آصف کے بیان کی تحریک انصاف اور عمران خان نے سخت مخالفت کی۔ دراصل حقائق سے منہ چھپانے والی بات ہے کل تک خود عمران خان انتہا پسندوں کے بارے میں کہتے رہے ہیں کہ یہ ہمارا اثاثہ ہیں، ان کے خلاف آپریشن نہیں ہونا چاہیے، اِنہیں ہماری اسٹبلشمنٹ نے پروان چڑھایا۔ یعنی وہ متضاد قسم کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ حقیقت میں اِن کی بھی وہی سوچ ہے جو خواجہ آصف کی ہے لیکن ضد اور عناد میں صحیح مؤقف کی حمایت کرنے کو تیار نہیں۔ اس لئے کہ سچ بولنے والا مخالف جماعت سے ہے ہمیں اَب تفریق اور  تقسیم سے نکلنا ہو گا، ورنہ ہمارا مستقبل بہت ہولناک ہو گا، دنیا میں ہمارے خیر خواہ کم ہوتے جا رہے ہیں، سرحدوں کی صورتحال اشتعال انگیز ہے۔
عرب ممالک باہمی تقسیم کا شکار ہیں، دنیا میں جہاں جہاں آگ لگی ہوئی ہے وہ سب مسلمان علاقے ہیں۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے، یہ اَسی کی دہائی نہیں یہ ڈیجیٹل دور ہے۔ اگر ہم دنیا میں آبرومندی سے رہنا چاہتے ہیں اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کا کچھ خیال اور پاس ہے تو ہمیں خود ہی منفی رویے ترک کر دینے چاہئیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کرنا چاہیے جو نفرت کے بیوپاری ہیں، نفرت انگیز تحریروں کو لکھ اور پھیلا رہے ہیں۔ ہم مزید خونریزی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ ذمے داری صرف حکومت اور فوج کی نہیں ہے، معاشرے کے تمام طبقات اپنی ذمے داریوں کا احساس کریں، بالادست طبقات کی دولت اور اولادیں تو ملک سے باہر ہیں، اِن کا کچھ نہیں جائے گا وقت پڑنے پر پہلی فلائٹ سے یہ ملک سے نکل جائیں گے، سارے عذاب ہمیں بھگتنا ہیں، سارے بنجر خواب ہمیں دیکھنا ہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے ہمارے بڑوں نے اسے اپنے خون سے سینچا تھا ہمیں یہاں رہنا ہے اور ہمیں ہی بارود بھری پگڈنڈیوں کو عافیت کے راستوں میں بدلنا ہے۔ جہاں ریاست مناسب سمجھے کہ یہاں مکالمے کی ضرورت ہے وہاں ضرور مکالمہ کیا جائے اور جہاں ریاست محسوس کرے سختی کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، وہاں سخت گیری کو اور سخت کیا جائے۔ اگر ہم بحیثیت قوم کسی روشن مستقبل کا اِحساس رکھتے ہیں تو ہمیں یہ بات جان لینی چاہئے کہ ہمیں اپنے ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کو ختم کرنا ہو گا۔ دہشت گردی نہ مذہبی ہوتی ہے اور نہ غیر مذہبی، نہ سیکولر ہوتی ہے اور نہ ہی روشن خیال، بس دہشت گردی ہوتی ہے، اِسے اِسی کیفیت میں دیکھا جائے اور اِسی تناظر میں اِس سے نمٹاجائے۔ ہمیں اپنی نصاب سازی پر غور وفکر کرنے کی بھی ضرورت ہے، درسگاہوں کو تعلیم فروخت کرنے کے آؤٹ لٹ  بنانے کے بجائے کردار سازی کے مراکز بنانا چاہئے۔
ایک نقطہ غور طلب یہ بھی ہے کہ کیا فوج اور حکومت کے ایک صفحے پر آ جانے سے مسائل ختم ہو جائیں گے؟ کیا تکفیری لٹریچر کے خاتمے سے امن وسکون نصیب ہو گا؟ کیا انتہا پسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی؟ میرا احساس یہ ہے کہ نہیں۔۔۔ جب تک ہم اپنے نظام سیاست کو درست نہیں کرتے، بدعنوانوں کو لگام نہیں ڈالتے، چوروں اور لٹیروں کا گھیرا تنگ نہیں کرتے، اُس وقت تک حقیقی مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ایک ہی وقت میں ہمہ جہت تبدیلی اور تعمیر کی ضرورت ہے۔ اِس انسان کُش نظام کے ہوتے ہوئے اِصلاح اور ترقی محض ایک خواب رہے گی۔ عام لوگوں کو یقین ہونا چاہیے کہ ہماری عدالتوں میں حقیقی اِنصاف ہوتا ہے یہ تیقن مجرموں پر برق بن کے گرتا ہے۔