16 نومبر 2018

امریکی پابندیاں صرف ایران کو متاثر نہیں کر رہیں! امریکی پابندیاں صرف ایران کو متاثر نہیں کر رہیں!

گزشتہ ماہ دوبارہ سے پابندیاں عائد کرکے ایران کو امریکا نے اپنا زور دکھانا شروع کر دیا ہے، جن کے ایرانی معیشت پر اثرات نظر آ رہے ہیں مگر عراق ایران کی نسبت کہیں زیادہ اس پابندیوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ تہران اور واشنگٹن دونوں ہی بغداد کے سٹریٹجک پارٹنر ہیں، دونوں کے درمیان کشیدگی عراق کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایران کی معاشی صورتحال اس وقت وینزویلا جیسی ہے، جسے جنوبی امریکا کے ملکوں میں بدترین بحران کا شکار ملک قرا ردیا جا سکتا ہے۔ ایران میں افراط زر کی شرح بڑھ رہی ہے، مقامی کرنسی کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔
بلیک مارکیٹ میں ایرانی کرنسی کی قدر سرکاری ریٹ سے کہیں زیادہ کم ہے، جوکہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران کے عوام اپنی کرنسی پر اعتماد مسلسل گر رہا ہے۔معیشت کی بگڑتی صورتحال پر قابوپانے کیلئے ایرانی حکومت سفارتی ذرائع بروئے کار لانے کے بجائے مقابلے کی فضا پیدا کر رہی ہے، جس کا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ایران اپنے زیر اثر ملکوں عراق، شام، یمن کے علاوہ حزب اللہ کے ذریعے لبنان میں مسائل پیدا کرکے مشرق وسطیٰ کو مزید مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے؛ علاوہ ازیں ، وہ آبنائے ہرمز بلاک کرنے کی دھمکیاں دے سکتا ہے جوکہ خلیجی ملکوں کیلئے دنیا سے تجارت کی اہم ترین گزر گاہ ہے۔ ادھر امریکی فوج واضح کر چکی ہے کہ ایسی کسی بھی کارروائی کیساتھ سختی سے نمٹا جائیگا۔
ایرانی نیوکلیئر ڈیل سے امریکا کے نکلنے اور بحران شروع ہونے کے بعد سے ایران کی بھرپور کوشش ہے کہ عراق میں امریکی اثرورسوخ محدود ترین سطح پر لے آئے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تہران نے عراق میں اپنے شیعہ پراکسیوں کو بیلسٹک میزائل فراہم کئے ہیں، وہ ان کی حربی صلاحیت میں بھی اضافہ کر رہا ہے تاکہ ہمسایہ ملکوں کیساتھ عراق کی روابط کو نقصان پہنچا سکے۔ تہران نے سختی سے اس رپورٹ کی تردید کی ہے۔دوسری جانب عراق کو نئی حکومت بنانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں کہ عراق کے 16 سیاسی گروپوں نے پارلیمنٹ میں ایک بڑا سیاسی بلاک تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا ہے ، جوکہ نئی حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔ تاہم کئی چیلنجز ایسے ہیں جس پر ابھی تک توجہ نہیں دی گئی۔ جیسے کہ نئی متوقع حکومت علاقائی اور عالمی حوالے سے کس قسم کی پالیسیاں تشکیل دے گی ؛ امریکا اور ایران کیساتھ تعلقات میں توازن کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی؟ وغیرہ ، وغیرہ۔
امریکا ایران کشیدگی کے درمیان عراق بری طرح پھنساہوا ہے؛ کہ دونوں ملکوں کیساتھ اچھے تعلقات رکھنا اس کی ضرورت ہے۔ ایک طرف داعش کے خلاف جنگ میں امریکا عراق کا اہم ترین اتحادی ہے؛ دوسری جانب اپنی درآمدات اور مذہبی سیاحت کی وجہ سے عراق کا انحصار ایران پر ہے۔ عراق ایرانی مصنوعات کا دوسرا سب سے بڑا خریدار ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت کا حجم سالانہ 12ارب ڈالر سے زائد ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی سیاحت عراق کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ سالانہ تیس لاکھ سے زائد ایرانی زائرین نجف اور کربلا کی زیارت کیلئے عراق کا رخ کرتے ہیں ، جوکہ شیعہ مسلمانوں کیلئے مقدس ترین مقامات ہیں۔
عراق کی معیشت اور معاشرے کو ایک اور مشکل صورتحال کا بھی سامنا ہے جوکہ ایران، ترکی اور شام میں نت نئے ڈیموں کی تعمیر کی وجہ پیدا ہوئی ہے۔ عراق کو اس وقت پانی کی سنگین کمی کے مسئلے کا سامنا ہے جس نے عراق کی زراعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پانی کی اس کمی کے باعث د یہی آبادی کیلئے فصلیں اگانا ممکن نہیں رہا، اور روزگار کیلئے وہ شہروں کا رخ کر رہے ہیں جس سے عراقی شہروں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آبپاشی کیلئے عراق میں پانی کی کمی کی اصل وجہ دریائے فرات ، دجلہ اور دونوں کے معاون دریائوں پر ڈیموں کی تعمیر ہے، شام ، ایران اور ترکی میں درجنوں نئے ڈیموں کی تعمیر سے عراق میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے جس کا مظاہرہ موجودہ موسم گرما کے دوران دیکھنے میں آیا۔عراق کے کئی شہروں میں پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے بدترین مظاہرے ہوئے، بصرہ میں یہ مظاہرے سنگین صورتحال اختیار کر گئے، جہاں ایرانی قونصلیٹ تک کو نذر آتش کر دیا گیا۔ عراق اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے، کوئی بھی سیاسی غلطی اسے نئی خانہ جنگی کے دھانے پر لے جا سکتی ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: خلیج ٹائمز)