25 مئی 2019
تازہ ترین

امریکی خاتون اوّل کا دورہ سکول امریکی خاتون اوّل کا دورہ سکول

امریکی خاتون اوّل میلینا ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اوکلا ہوما میں واقع ڈوؤ سکول آف ڈسکوری کا دورہ کیا۔ امریکی خاتون اوّل ایک پروگرام کی پروموشن کے میں مختلف ریاستوں کے دورے پر تھی، اس سلسلے میں وہ ڈوؤ سکول بھی گئیں۔ ان کے دورہ سکول میں بظاہر کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ماسوائے اس کے کہ اس سکول کی وابستگی گولن تحریک ہے ، جس کی قیادت ترکش مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کر رہے ہیں۔ وہ پنسلوانیا میں خود ساختہ جلا وطنی کے دن گزار رہے ہیں۔ان پر 2016ء کی فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام ہے، ترکش حکومت کئی سال سے ان کے سکول بند کرانے کیلئے لابنگ کر رہی ہے۔ترکش حکومت نے فتح اللہ گولن کی حوالگی کیلئے واشنگٹن کو 84دستاویزی ثبوت ارسال کیے تھے؛ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان دستاویزات کا امریکی قوانین کی روشنی میں جائزہ لے رہے ہیں۔ 
امریکا میں مارچ 2017ء سے سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جیمز وولسی کے اس انکشاف کی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن ترکش حکام سے معاملات طے کیے تھے ، جن کے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کے بدلے فتح اللہ گولن کو اغوا کرکے انقرہ کے حوالے کیا جانا تھا۔ ایک اور تحقیقات او کلا ہوماکے ریاستی آڈیٹر کی 2016کی رپورٹ پر ہو رہی ہے جس میں گولن فاؤنڈیشن پر مالی بے قاعدگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی خاتون اوّل کے گولن فاؤنڈیشن کے سکول کے دورہ کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ابھی تک یہی واضح نہیں ہو سکا کہ خاتون اوّل نے دانستہ اس سکول کا دورہ کیا ، یا پھر محض اتفاق تھا۔سکول میں ان کی آمد کا اعلان آخری وقت پر کیا گیا تھا۔ ممکن ہے کہ امریکی حکام نے سوچا ہو کہ پہلے اعلان کر دیا تو ترکش حکومت کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ دورے کے بعد خاتون اوّل نے نجی ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’’ڈوؤ سکول آف ڈسکوری تالسا کے اساتذہ ، انتظامیہ اور طلبہ کا استقبال کرنے پر شکریہ۔ سکول شاندار کام کر رہا ہے۔ تعلیم کا مطلب صرف علم دینا نہیں، بلکہ کردار اور اقدار کی آگاہی دینا بھی ہے‘‘۔ 
خاتون اوّل کی ترجمان نے اپنی ای میل میں لکھا کہ 2018ء میں سکول کا انتخاب شاندار تعلیمی معیار اور کردار سازی کی وجہ سے نیشنل ایوارڈ کیلئے کیا گیا تھا۔ سکول کے دورے کی سفارش مکمل جانچ پڑتال کے بعد کی گئی تھی۔ 28فروری کو وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں اس سکول کو ایوارڈ حاصل کرنیوالا ایلیمنٹری سکول قرار دیا جس نے کردار سازی کو نصاب کا حصہ بنا رکھا ہے۔ان تمام اسناد کے باوجودکوئی بھی یہ فرض کر سکتا ہے کہ گولن تحریک سے وابستہ اس سکول کا انتخاب ترکی کو پیغام دینے کے مقصد سے کیا گیا۔ مختلف پالیسی اختلافات کی وجہ سے امریکا اپنے نیٹو اتحادی ترکی کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہی میں ایک اختلاف روسی ساختہ ایس 400ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری پر ہے۔ اس ڈیل کی امریکا ہر فورم پر مخالفت کر چکا ہے۔ پنٹاگون کے ترجمان چارلس سومر نے اپنے بیان میں کہا کہ ترکی نے اگر ایس 400 سسٹم نصب کیا تو اسے ایف 35 طیارے اور پٹریاٹ میزائل نہیں ملیں گے۔ ایف 35 بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے ان پرزہ جات کی خریداری کے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جنہیں وہ ترکش کمپنیوں سے خرید رہی تھی۔
امریکی حکام خبردار کر چکے ہیںکہ ترکی پر کچھ پابندیاں لگ سکتی ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل سٹولٹن برگ نے اپنے اس بیان سے ترکی پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی کہ ہر خودمختار ملک کو کہیں سے بھی ہتھیار یا دفاعی نظام خریدنے کا حق حاصل ہے، مگر روس کا فضائی دفاع کا سسٹم نیٹو کے دفاعی ماحول سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ ادھر روس اورترکی شام میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون اور دو طرفہ معاشی روابط کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر اگر انقرہ ایس 400ایئر ڈیفنس سسٹم کی ڈیل سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے صرف ترکی کی ساکھ ہی متاثر نہیں ہو گی بلکہ دوطرفہ تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ 
ترکی پر بڑھتے دبائو کو صدر طیب اردوان 31مارچ میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات سے قبل ان کی پارٹی کی بدنام کرنے کی کوشش قرار دیں گے۔ وہ اس موقع کو امریکی رویہ کی سختی سے مذمت اور اپنی پارٹی کی حمایت میں اضافے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر اس طرح کی الزام تراشیوں سے نیٹو اتحاد میں ترکی کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ ممکن ہے کہ ماسکو یہی کچھ حاصل کرنا چاہتا ہو۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: عرب نیوز)