امریکا کو بھی نتائج بھگتنا ہوں گے امریکا کو بھی نتائج بھگتنا ہوں گے

جائنٹ کمپرہنسو پلان آف ایکشن جیسے عرف عام میں ایرانی نیوکلیئر ڈیل کہا جاتا ہے، اسے منسوخ کرنے کی امریکی کوشش عالمی قانون کے مروجہ روایات سے انحراف ہے۔ ایک کثیر فریقی معاہدے میںشامل ہر فریق کایہ فطری حق ہے کہ اگر وہ سمجھے کہ معاہدہ اس کے قومی مفادات کیخلاف ہے تو وہ اس سے علیحدگی اختیار کر لے؛ مگر یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ دیگر فریقین کو ایسا کرنے پر مجبور کرے۔ جائنٹ کمپرہنسو پلان آف ایکشن پر ایران اور سکیورٹی کونسل کی پانچ مستقل ارکان( امریکا ، روس، چین، فرانس ، برطانیہ) کے علاوہ جرمنی اور یورپی یونین کے مابین20 ماہ کے طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد اتفاق ہوا تھا ۔ تمام فریقین اس معاہدے کی شقوں سے مکمل طو رپر مطمئن نہ تھے، تاہم ان تمام آٹھ فریقین نے ایک سمجھوتے پر اتفاق کیا تھا۔
معاہدے میں شامل دیگر ریاستوں نے امریکا کے اس سے نکلنے کے فیصلے کی پیروی مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ معاہدہ کی پاسداری جاری رکھیں گے۔ یورپی یونین نے اپنی کمپنیوں پر پابندیاں کالعدم قرار دینے کا اعلان کیا ۔ یورپی کمیشن کے صدر جین کلائیڈ نے 17مئی کو کہا کہ یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ یورپین انوسٹمنٹ بینک یورپ کی کمپنیوں کو ایران میں سرمایہ کاری کی سہولتیں فراہم کرے گا اور کمیشن تہران کیساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔جائنٹ کمپرہنسو پلان آف ایکشن کی منسوخی میں کامیابی نہ ملنے پر امریکا نے ایران پر یکطرفہ پابندیاں لگا دیں، ایران کیساتھ کاروبارکرنیوالی غیر ملکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں متعارف کرادیں۔ امریکا نئی قسم کی ان پابندیوں پر عمل درآمد ڈالر وں میں ہونیوالے تجارتی سودے بلاک کرکے کرے گا۔
بطور زرمبادلہ ڈالر کا استعمال ہمیشہ سے ان ملکوں کیلئے عدم اطمینان کا باعث رہا ہے جوکہ عالمی تجارت کیلئے ڈالر استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے امریکی حکومت کرنسی پر مالکانہ حق جتاتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈالروں کی گردش کافائدہ واشنگٹن اٹھاتا ہے، اس گردش کی حقیقی وجہ بننے والے فریقین کو بدلے میں کچھ نہیں ملتا۔ ڈالر بین الاقوامی تعلقات پر اثرانداز ہونے کیلئے واشنگٹن کا موثر ترین ہتھیار بھی ہے، جبکہ  ایک سپرپاور ہونے کی وجہ سے سیاسی غلبہ اس کے علاوہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ’’امریکا سب سے پہلے ‘‘ پالیسی سے ڈالر پر اعتماد بڑی حد تک متزلزل ہوا ہے؛ جس کا روس اور چین اشارہ دے چکے ہیں، دیگر ممالک ان کے ہم خیال بن سکتے ہیں۔
ایک دوسرا کیس ترکی ہے۔ امریکا نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر عائد یکطرفہ پابندیوں کی پاسداری کرے؛ مگر انقرہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ایران ترکی کا اہم تجارتی پارٹنر ہے۔ ترکی سالانہ 10ارب کیوبک میٹر گیس پائپ لائن کے راستے ایران سے درآمد کرتا ہے، جوکہ گزشتہ 18سال سے آپریشنل ہے۔ترکش حصے میں بچھی پائپ لائن پر 60کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے، اگر ترکی ایران سے گیس کی درآمد معطل کرتا ہے تو یہ سرمایہ کاری بیکار ہو جائیگی۔مزید براں، ترکی ایران تعلقات ایک عرصہ گزر جانے کے باعث روایت کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں انقرہ کبھی دراڑ پیدا نہیں کریگا، یہی امریکا کو انکار کی بڑی وجہ ہے۔سوچی اورآستانہ امن عمل کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ترکی اور ایران شامی بحران پر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ شام کے بحران کے کئی معاملات پر دونوں کے مفادات میں ٹکراؤ ہے؛ تاہم صدیوں پرمحیط قریبی روابط کی وجہ سے دونوں کسی نہ کسی طریقہ کار پر اتفاق کی اہلیت رکھتے ہیں۔
پادری اینڈریو برنسن کا معاملہ امریکا ترکی تعلقات کو بدترین سطح پر لانے کی ایک وجہ بن گیا ہے، مگر حقیقت میں بگڑتے تعلقات کی وجوہات کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ترکی کا روسی ایس 400ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنا؛امریکا کا جدید ایف 35فائٹر طیاروں کی ترکی کو فراہمی پرپابندی لگانا؛ اور ٹرمپ انتظامیہ کا ترکی کے بارے میں تکلیف دہ رویہ واشنگٹن انقرہ اختلافات کی چند وجوہات ہیں۔ پادری برنسن کا کیس اس لئے زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ اس کا تعلق امریکا کی داخلی سیاست سے ہے۔ دوطرفہ بحران میں ترکی کا کردار کے عوامل میں انقرہ کا پنسلوانیا میں مقیم  ترکش مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ اور شامی کردوں کی تنظیم پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے جنگجوئوں کو حاصل امریکی معاونت کی سخت  مخالفت ہے۔ امریکی مطالبہ کہ ترکی بھی ایران پر عائد پابندیوں کا حصہ بنے ، اب ایک متنازعہ معاملہ بن چکا ہے کیونکہ امریکا کی جانب سے نئی دھمکیوں کے بعد دوطرفہ موقف میں بہت سختی آ چکی ہے۔
پادری برنسن کا معاملہ نہ ہوتا ، تب بھی ترکی نے واشنگٹن کا مطالبہ مسترد کر دینا تھا۔اب دو طرفہ تعلقات بد سے بدتر کی جانب بڑھ رہے ہیں؛ امریکی پابندیوں پر عمل نہ کرنے کی انقرہ کے پاس کئی وجوہات ہیں۔ ترکی کی معاشی حالت مزید بگڑنے پر انقرہ کو ایران کے تعاون کی مزید ضرورت پڑے گی۔ دراصل امریکہ دھمکیاں دیکر ترکی کو ایران کے مزید قریب دھکیل رہا ہے۔صدر طیب اردوان امریکا کو خبردار کر چکے ہیں  کہ اس نے منفی اور یکطرفہ رویئے تبدیل نہ کئے تو ترکی نئے دوستوں اور اتحادیوں کی جانب دیکھنا شروع کر سکتا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ ترک صدر کن متبادل ملکوں کی بات کر رہے تھے، اوریہ کہ اس میں ایران شامل ہے یا نہیں۔ فی الوقت صدر اردوان کے ذہن میں اگر ایران کا نام نہیں ، تو امریکاکو ہراساں کرنے کیلئے شامل کر سکتے ہیں۔ خرابی کو سنگین حد تک طول دینے والوں کو اپنے اعمال کے نتائج برداشت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔بشکریہ ڈیلی عرب نیوز)