22 فروری 2019
تازہ ترین

امریکا طالبان امن مذاکرات اور پاکستان امریکا طالبان امن مذاکرات اور پاکستان

نائن الیون کے بعد امریکا، طالبان کشیدگی کے نتیجے میں افغانستان پر امریکا نیٹو اتحاد کے قبضے کے بعد واشنگٹن نے افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے بھارت کو شمالی اتحاد کی قیادت کے ہمراہ سیاسی و سماجی امور میں حتمی فیصلے کرنے کا اختیار دے کر جو سیاسی و سفارتی غلطی کی تھی بہرحال اُس کا ازالہ قطر میں طالبان قیادت سے ہونے والے مذاکرات میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اِس ڈائیلاگ کے نتیجے میں افغان نژاد امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے طالبان کیساتھ معاملات طے کرنے میں حائل کچھ دشواریوں کے باوجود اُمید ظاہر کی ہے کہ طالبان سے اِسی سال افغان صدارتی انتخابات سے قبل جولائی تک امن معاہدہ ہو جائیگا۔ یہ درست ہے کہ افغان امن ڈائیلاگ میں پاکستان کی شمولیت کے بعد صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔ اس کا اندازہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے بھی ہوتا ہے جس میں اُنہوں نے اُمید ظاہر کی ہے کہ افغان مذاکرات کے نتیجے میں امریکا کی طویل ترین جنگ ختم ہو جائیگی، جس میں تقریباً سات ہزار سے زیادہ امریکا نیٹو اتحاد کے فوجی بھی اپنی جان سے گئے ہیں۔ درحقیقت صدر ٹرمپ کے پیش نظر امریکی معیشت کی موجودہ بدحالی کی کیفیت بھی ہے جس کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ جنگی اخراجات کو کم کر کے ملکی معاشی مسائل حل کیے جائیں۔ البتہ افغان نژاد امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے جن دشواریوں کا ذکر کیا ہے اُن کا تعلق بظاہر افغان شمالی اتحاد اور بھارت کے تحفظات سے منسلک نظر آتا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی امریکا طالبان مذاکرات کے حوالے سے یہ اَمر اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانستان کے صدارتی انتخابات میں طالبان اُمیدوار کے مقابلے میں اُنکی کامیابی بہرحال مشکوک نظر آتی ہے جبکہ افغانستان کے اقتدار کی منزلوں میں طالبان کا سیاسی 
ارتقا خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کیلئے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سے ممکنہ بے دخلی سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے بھارتی ایجنسیوں کے ایما پر اقوام متحدہ کے چارٹر کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے ایک حالیہ ٹویٹ میں سابق فاٹا اور بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر سے پشتونستان کے مردے گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ حیرت ہے کہ اشرف غنی کی بھارت شمالی اتحاد حمایت یافتہ اِس منطق، جسے ماضی میں کانگریس حمایت یافتہ سابق باچا خان کی پختونستان تحریک سے یاد کیا جاتا ہے، کی حمایت میں پشتون تحفظ تحریک کی قیادت کا بیان یہی ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اور شمالی اتحاد طالبان امریکا مذاکرات میں روڑے اٹکانے میں پیش پیش ہیں۔ پشتون تحفظ تحریک کی قیادت بھی ماضی کے شیخ مجیب الرحمٰن کی طرح افغانستان میں بھارتی ایجنسیوں کے تابع نظر آتی ہے۔ پشتون تحفظ تحریک اپنے تحفظات پاکستانی آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے دور کرنا چاہتی ہے تو اِسے بیرونی ایجنسیوں اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت سے ہٹ کر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان کی نئی نسل کسی بھی قوت کو آئین کے منافی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ماضی کی حقیقتوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے ہمیشہ ہی افغانستان کیساتھ دوستانہ مراسم کو اہمیت دی ہے جس کی ابتد تو قائداعظم محمد علی جناح کے زمانے میں ہی افغان نمائندے کی کراچی آمد کے موقع پر بخوبی کی گئی تھی۔
اِس اَمر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ فی الحقیقت پاکستان کی مغربی سرحدیں برٹش ہندوستان کے زمانے سے سنکیانگ /  واخان کوریڈور سے لیکر پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) زاہدان تک ایران سے جڑی ہوئی ہے۔ نائن الیون سے قبل پاکستان کی مغربی سرحدیں امن و آتشی اور دوستی کا گہوارہ سمجھی جاتی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد صوبہ سرحد میں بھارت، افغانستان حمایت یافتہ پختونستان مہم جوئی کی موجودگی کے باوجود پاکستان بھارت جنگوں کے موقع پر بھی مغربی سرحدوں پر کبھی پاکستانی فوجیں تعینات کرنے کا مسئلہ درپیش نہیں آیا لیکن نائن الیون کے واقعات کے بعد افغانستان میں امریکا کے ساتھ غیر معمولی تعاون کرنے کے باوجود چند سال کے اندر ہی حکومت اور قبائلی عوام کے درمیان وسیع تر سیاسی خلیج حائل ہو گئی ہے، چنانچہ پاکستان مغربی سرحدوں کے حوالے سے پہلی مرتبہ ایسی گنجلک اُلجھنوں کا شکار ہو گیا جس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اندریں حالات، صورتحال کی بہتری اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان فوج کی جانب سے اہم کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد دہشت گردوں کا پاکستان میں داخلہ روکنے کیلئے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ بھی خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ چنانچہ اِس امر کا تعین بھی کیا جانا چاہیے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے عوام کو آئین و قانون کے تحت ماضی کے برطانوی حکومت ہند کے سیاہ 
قوانین سے نجات دلانے اور فاٹا کو خیبر پختون خوا میں شامل کیے جانے کے بعد آخر پُرامن سیاسی ماحول میں خلفشار پیدا کرنے کیلئے ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ضرورت محسوس ہو تو پاکستان کے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ وقت کو صورت حال کی اصلاحِ احوال کیلئے سنجیدہ اقدامات لینے پر بھی غور و فکر کرنا چاہیے؟ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے بھارتی ایجنسیاں اور کچھ بیرونی تھنک ٹینکس افغانستان میں طالبان امریکا مفاہمت کو دوغلی فارن پالیسی کے مسائل سے تعبیر کر کے اِس پیش رفت کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔
درج بالا تناطر میں قومی دانشوروں کو ہر دو صورتوں میں خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال کا تجزیاتی جائزہ لیتے ہوئے کسی طور بھی جلال آباد، قندھار اور ایرانی سرحد سے ملحقہ خطوں میں متحرک بھارتی انٹیلی جنس RAW کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو پاکستان میں اندرونی خلفشار بالخصوص وزیرستان اور بلوچستان میں تخریب کاری کو نا صرف ہوا دے رہی ہے بلکہ قرائن یہی کہتے ہیں کہ خطے میں بھارتی مفادات کی خاطر RAW  پاکستان کی اُلجھنوں میں اضافہ کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان میں صوبائی تعصبات کو ہوا دیکر قوم کو مزید مسائل میں اُلجھانا چاہتی ہیں۔ اِس امر پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ کیا اغیار پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کر کے ملکی لیڈرشپ کو اقتدارِ اعلیٰ کے اصولوں پر کمپرومائز کرنے پر مجبور تو نہیں کرنا چاہتے۔ اس کا انتظامی پروسس مسلم لیگ(ن) کے دورِ حکومت میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور نواز شریف کی ناقابل فہم دوستی کے نام پر پہلے ہی شروع کیا جا چکا تھا جس کی مثال حسین حقانی میمو گیٹ اور ڈان گیٹ پروپیگنڈہ مہم جوئی کے دوران محسوس کی جا سکتی ہے۔ اب یہی کیفیت افغان صدر اشرف غنی کی حمایت میں پشتون تحفظ تحریک کی قیادت کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ اس امر کی بھی وضاحت کی جانی چاہیے کہ افغانستان میں پشتون اکثریت کے حقوق کو محسوس کرتے ہوئے طالبان امریکا کے درمیان امن کی کامیابی کیلئے گفتگو کی جا رہی ہے تو یہ صریحاً پشتون حقوق کے حوالے سے افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے، اس امر سے توجہ ہٹانے کیلئے بیرونی طاقتیں وزیرستان اور بلوچستان میں مداخلت کرنے پر کیوں تُلی ہوئی ہیں؟
بقیہ: آتش گل