20 ستمبر 2019
تازہ ترین

امریکا بھارت گٹھ جوڑ امریکا بھارت گٹھ جوڑ

(آخری حصہ)
بھارت اسی شہ پر اپنی سازشوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں مہم جوئی میں مصروف ہے۔ امریکا بھارت کی انتہا پسندی کو مسلسل نظرانداز کر کے اسے خطے کا ’’بدمعاش‘‘ بنانا چاہتا ہے، لیکن بھارت کے باقاعدہ عملی عسکری کردار ادا کرنے سے مودی سرکار کے ’’فرار‘‘ اور ’سازشی کردار‘ بڑھانے پر اکتفا سے ٹرمپ انتظامیہ کو پہلا دھچکا لگا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع جب افغانستان پہنچے تو ابھی بھارت مشن کی خفت مٹی بھی نہ تھی کہ افغان مزاحمت کاروں نے راکٹوں کے حملے سے استقبال کر کے امریکا کو پوری دنیا میں مزید شرمندہ کر دیا کہ افغان دارالحکومت کا بین الاقوامی ہوائی اڈا اور امریکی اعلیٰ وفد کی سیکیورٹی بھی انتہائی غیر محفوظ ہے۔ افغان مزاحمت کار، جہاں چاہیں، جس طرح چاہیں کابل حکومت اور امریکا و نیٹو کو ’زچ‘ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ 
پاکستان کا دورہ اس شیڈول میں شامل نہیں تھا۔ ویسے بھی یہ امریکی پالیسی ہوتی ہے کہ وہ جس ملک میں جاتے ہیں، اپنے میزبان کو خوش کرنے والے بیانات دیتے ہیں، جیسے بھارت میں رہ کر مودی کی بولی بولنا اور پھر افغانستان پہنچ کر اشرف غنی کے گیت گانا۔ تاہم اس بات کو اَب دوبارہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ افغان امن میں پاکستان کے کردار و مدد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی سرحدیں افغانستان سے جڑیں ہوئی ہیں۔ پاکستان، افغانستان کے تمام معاملات سے گزشتہ چالیس برسوں سے براہ راست متاثر ہے جب کہ بھارت کا اس خطے میں کبھی کوئی کردار نہیں رہا اور نہ ہی 1978 کے ’انقلاب ثور‘ کے بعد بھارت کسی بھی حوالے سے متاثر ہوا ہے، بلکہ ماضی کے مقابلے میں اس کے اثرونفوذ میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
 بھارت کو افغانستان کی بدامنی سے مسلسل فائدہ پہنچ رہا ہے جب کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک میں جاری جنگ میں امریکی حلیف بننے کے ’’جرم‘‘ میں کردہ، ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے۔ پہلی بار پاکستان نے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے امریکا اور اقوام عالم سے افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت امریکا گٹھ جوڑ خطے میں امن لانے کی خاطر نہیں بلکہ پاکستان کو ون بیلٹ ون روڈٖ کا کلیدی کردار ادا کرنے کی وجہ سے سزا دینے کے لیے بنا ہے۔ بھارت امریکا گٹھ جوڑ پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں کرنا چاہتا۔ چین کے ساتھ شراکت کے نئے معاشی انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سازشیں کل بھوشن یادیو نیٹ ورک، احسان اللہ احسان، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور عزیر بلوچ نیٹ ورک کی شکل میں سامنے آ چکی ہیں۔
بھارت کی جانب سے مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں نہتے پاکستانی و کشمیری عوام کو نشانہ بنا کر پاکستان کو مشتعل کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ بالخصوص کراچی میں انتہا پسندی، فرقہ واریت، نسل پرستی اور لسانیت کے نام پر مختلف گروپوں کی پشت پناہی بھارت امریکا گٹھ جوڑ کا مرکزی ایجنڈا ہے۔ کمزور پاکستان بھارت امریکا گٹھ جوڑ کے منشور کا حصہ ہے جب کہ اس اتحاد کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے عوام کو ترقی کے بجائے پس ماندگی کی جانب دھکیلنے کی سازش رچانا ہے۔ بھارت امریکا گٹھ جوڑ افغانستان کو نسلی بنیادوں پر منقسم کرنے کی خواہشات کا مظہر ہے۔ یہ دراصل پاک افغان عوام کے درمیان نفرتوں کی فصیل کھڑی رکھنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے مضمرات سے جہاں خطے میں امن مفقود ہو گا وہیں یہ مسلم امّہ کے مسائل میں مزید اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ پاکستان کو کمزور رکھ کر اقوام مسلم کی قیادت سے روکنے اور اسے تنہا کرنے کی سازش کا نام بھارت امریکا گٹھ جوڑ ہے۔ اس موقع پر پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور حکومتی وزرا سمیت تمام اداروں کو مبہم اور غیر واضح پالیسی کے بجائے معتدل رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ متنازع و غیر سنجیدہ بیانات سے احتیاط کی ضرورت ہے۔ بھارت امریکا گٹھ جوڑ کو عوام و اداروں کو ساتھ مل کر ناکام کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام میں انتشار پیدا کرکے اس گٹھ جوڑ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔