22 اکتوبر 2018
تازہ ترین

الیکشن کمیشن کی کمزوری اور مضمرات الیکشن کمیشن کی کمزوری اور مضمرات

دنیا بھر میں سائنسی ایجادات اپنا رنگ دکھلا رہی ہیں، پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے، یہاں بھی انٹرنیٹ، سیل فون، جدید سائنسی ایجادات، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، سب کچھ ہی ہے۔اب تو الیکشن کمیشن کو بھی ایک خودکار نظام سے جسے انگریزی میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (RTS) یا الیکشن کے نتائج کو پولنگ اسٹیشن سے ریٹرننگ آفیسر اور وہاں سے الیکشن کمیشن ہیڈ کوارٹر تک پہنچانے کا اہتمام کردیا گیا تھا، پھر ایسا کیا ہوا کہ نتائج کے بارے میں ملک کے ایک کونے سے دوسرے تک چیخ و پکار مچ گئی۔ الزام یہ لگا کہ پولنگ ایجنٹوں کو نتائج کی تکمیل کے وقت پولنگ بوتھ سے باہر نکال دیا گیا اور انہیں فارم 45جو پہلے فارم 14کہلاتا تھا، دینے سے انکار کردیا گیا، ایسی کون سی خفیہ مخلوق تھی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا، نتیجتاً اپوزیشن سراپا احتجاج تھی، تو خود جیتنے والی تحریک انصاف جو کہ پہلی بار اقتدار کا مزا چکھنے کی منتظر تھی، اس نے بھی اس کے خلاف بیان دے ڈالا کہ آخر نتائج کیوں روکے گئے، یا ان میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔
 بات تو صحیح ہے، اگر کہیں غلطی ہوئی ہے، صریحاً اور بلاواسطہ طور پر تو اس کی تحقیقات تو ہونی چاہیے، سینیٹ کی ہائوس کمیٹی نے ایک ایسی انکوائری آرڈر کی جس کی رپورٹ کا شدت سے انتظار رہے گا۔ ایک محفل میں ملک کے تین بڑے دانشور مشہور و معروف اور انتہائی تجربہ کار صحافی جوکہ Nation کے ایڈیٹر اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں، انہیں بھی تعجب تھا کہ آخر یہ کیسے اور کیوں ہوا، الیکشن کمیشن کو 2013ء کے 5 ارب روپے کے مقابلے میں اس بار 21ارب چارگنا سے بھی زائد رقم فراہم کی گئی، پھر یہ فتنہ کیوں کھڑا ہوا، نادرا جو ہر پاکستانی کے بارے میں مکمل کوائف رکھتا ہے، اس کا یہ سسٹم (جو الیکشن کے نتائج پولنگ بوتھ سے ریٹرننگ آفیسر اورالیکشن کمیشن کو فوری طور پر پہنچانے کے لیے بنایا گیا تھا، دورِجدید کے تقاضوں کے عین مطابق تھا) فیل کیوں ہوا، نادرا نے صاف طور پر کہہ دیا کہ سسٹم ہر زاویے سے ٹیسٹ کرکے الیکشن کمیشن کو دیا گیا، انہیں بھی اس پر بھرپور یقین تھا، تو پھر آخر رات کے 11بجے یہ اچانک کیسے بیٹھ گیا، یا بٹھادیا گیا، کیا کوئی خلائی مخلوق کار فرما تھی، جس نے یہ عجوبہ دکھلایا یا واقعی کچھ خرابی ہوئی تھی۔
 برطانیہ جیسے ملک میں جب ہائوس آف کامنز (house of commons)  وہاں کا ایوان زیریں تحلیل ہوتا ہے، تو 18روز کے اندر انتخابات مکمل ہوجاتے ہیں اور ملکہ برطانیہ کی اجازت سے نئے وزیراعظم حکومت بنا لیتے ہیں، کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ امریکا اور جرمنی میں بھی بغیر کسی تنازع کے سارا عمل پلک جھپکتے ہی تکمیل تک تمام مراحل طے کرلیتا ہے، قوم اپنے کام میں پھر سے مشغول ہوجاتی ہے، لیکن ہم لوگ عجیب ہی مخلوق ہیں، شور و غوغا مچانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، سوائے عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (جو پہلی مرتبہ اقتدار کے مزے چکھنے کے قابل ہوئی تھی) تمام اپوزیشن پارٹیوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیا، نعرے لگائے اور اب سب سے آگے آگے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جو 13سال تک کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے، سرکاری رہائش گا ہ میں آرام فرماتے رہے، تمام مراعات حاصل کیں اور اب جا کے ان سے چھٹکارا ملا تو ظاہر ہے کہ وہ تو بہت بے چین ہوں گے کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔ انہوں نے نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا، لیکن عجب تو یہی ہے کہ 4بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہ شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز (جو پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کے خواب دیکھ رہے تھے) عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی اور جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق، پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو سرے سے غائب تھے، موسم کی خرابی سے اگر شہباز شریف لاہور سے اسلام آباد نہیں پہنچے تو دوسروں کو کون سی مشکلات پیش آ گئیں ، ان کی راہ میں کیا رکاوٹ آگئی تھی، ظاہر ہے کہ اپوزیشن کی صفوں میں دراڑیں صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
 پیپلز پارٹی تو شروع سے ہی اسمبلی کے بائیکاٹ کے خلاف تھی، اس کے سابق وزیر اطلاعات نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پی پی پی اپوزیشن میں بیٹھے گی، بلاول نے پہل کی تو دوسرے بھی تقلید پر مجبور ہوئے، اچھی بات تھی جس بحث میں عارف نظامی جیسی بااثر شخصیت موجود ہوں اور الیکشن نتائج کی دیر پر حیر ت زدہ ہوں، وہیں (ن) لیگ کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی یہ کہتے سنے گئے کہ احتجاج اچھا ہوا لیکن الیکشن کمیشن کے خلاف تھا، عمران کے خلاف نہیں، (ن) لیگ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی اپنا پانچ سالہ دورِ اقتدار پورا کرے۔ پنجاب کے سابق وزیر چوہدری غلام سرور جنہوں نے برطانوی شہریت چھوڑ کر (ن) لیگ میں پنجاب کی گورنری قبول کی لیکن بعد میں 
دل برداشتہ ہوکر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور آج منتخب ہوئے، انہوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور صرف اتنا کہا کہ الیکشن کمیشن اگر نتائج کا پوری طرح اعلان نہیں کرتا تو حکومت سازی میں مشکلات پیش آئیںگی۔ بات تو صحیح ہے، خود پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے بھی تنہا آکر چیف جسٹس سے مداخلت کرنے کی اپیل کی کہ اگر پورے ملک سے 40نشستوں کے انتخاب کے نتائج روک لیے جائیں گے،تو حکومت کب بنے گی، 40حلقوں میں 11 قومی اسمبلی کے تھے، 7 کے پی کے کے، 3 ،3 صوبہ بلوچستان اور سندھ کے اور باقی پنجاب کے جو اصل میدان جنگ ہے، اگر وہاں تعداد میں فرق پڑا تو انتقال اقتدار کیسے ہوگا؟ 
یہ سوال بہت اہم ہے، اللہ کا شکر ہے، کہ عمران خان کے حلقے NA131  میں تیسری بار گنتی کے بعد ان کے ماتھے پر جیت کا جھومر سجادیا گیا لیکن کراچی میں تو شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا کے خلاف ایسا ہی نوٹس دیا ہے، اسے بھی دیکھنا پڑے گا، کئی ایک حلقوں میں توریٹرننگ آفیسر نے دوسری اور تیسری گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کردیا ورنہ معاملات بگڑ جاتے۔ اب دیکھیں غلطی کس کی ہے، کسے سزا ملتی ہے اور کب تک اس کا اعلان سامنے آتا ہے۔؟
بقیہ: حد نظر