25 ستمبر 2018
تازہ ترین

اللہ! ہمیں معاف کر دے اللہ! ہمیں معاف کر دے

یہ بے بسی ہے، بے حسی ہے، بے غیرتی ہے یا پھر مسلم حکمرانوں کی اجتماعی بے چارگی کہ جس غلیظ مکروہ اور شیطانی عقائد کے حامل شخص کا جی چاہے آئے روز مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر شان رسالت مآب ؐ میں گستاخی کا علانیہ مظاہرہ کرتا ہے اور سوائے پاکستان کے دنیا کے کسی مسلم ملک کے عوام یا حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔  آزادی اظہار کے نام پر اپنی ذہنی غلاظت کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے الفاظ تحریر اور تصویر کا روپ دینے والے یہ انسانی بھیڑیے بنیادی انسانی اخلاقیات سے بھی عاری ہو چکے ہیں۔ یہ بے حیا اور بے رحم ذہنی مریض اپنی اس ذہنی غلاظت کو آزادی اظہار کا نام دے کر انسانیت کا منہ چڑاتے ہیں اور حیرت ہے ساری دنیا میں انسانیت کے ٹھیکے داروں کی این جی اوز جو کتوں بلیوں کے حقوق کے لیے مرنے مارنے پر تل جاتی ہیں۔ دنیا کے سب سے عظیم مذہب کے پیروکار دنیا کی دوسری بڑی آبادی کے جذبات کا احترام بھی انہیں نہیں آتا۔ شاید اس نوعیت کی درندگی کے حامل جانتے ہیں مسلمان آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر تو مرمٹنے کو تیار رہتے ہیں، لیکن وہ دیگر انبیائے کرام کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ اور اسلام دشمن سیاستدان ملعون گیرٹ ولڈرز کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منعقد کرانے پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔ اس ملعون نے پہلے بھی اسلام مخالف ’’فتنہ‘‘ فلم بنائی تھی۔ اب اس نے بارہ جون کو اعلان کیا کہ ڈچ پارلیمنٹ میں واقع اس کے دفتر میں رواں برس کے آخر میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منعقد کیا جائے گا۔ جس میں دنیا بھر کے گستاخوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ گیرٹ ولڈرز کے بقول اسے دو سو خاکے آن لائن موصول ہو چکے ہیں۔
گزشتہ جمعہ کو ملک بھر میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس ناپاک جسارت کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا اور اسلام آباد میں ہالینڈ کے سفارت خانے کی جانب مارچ کر کے اسے بند کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس سے قبل حکومت پاکستان نے ڈچ نائب سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا تھا۔ ہالینڈ کے ذرائع ابلاغ نے ان خبروں کو بھرپور کوریج دی تو وہاں کی حکومت کے رویے میں بھی تبدیلی کے آثار ظاہر ہو گئے۔ پہلے ڈچ حکومت نے ملعون گیرٹ ولڈرز کو گستاخانہ خاکوں کی اجازت کے ساتھ سکیورٹی دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب اس کی پشت پناہی سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ڈچ وزیر خارجہ اسٹف بلوک کا کہنا ہے کہ گستاخانہ خاکوںکے خلاف احتجاج میں شدت آ رہی ہے اور یہ دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ کابینہ میں رکھ کر جلد کوئی لائحہ عمل طے کریں گے۔ آزادی اظہارکے نام نہاد حق کو آڑ بنا کر مقدس شخصیات کی توہین کرنا مغرب کا مشغلہ بنا ہوا ہے۔ انہیں اپنی اس ناپاک جسارت سے دنیا کے اربوں انسانوں کو پہنچنے والے صدمے کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں۔ اس ملعون نے جب 2008ء میں اسلام مخالف فلم بنائی تو اس کے خلاف سخت احتجاج ہوا تھا۔ مگر ڈچ حکومت نے اسی اظہاررائے کی آزادی کے بہانے اسے کھلی چھوٹ اور مکمل تحفظ فراہم کیا۔ احتجاج کے پیش نظر صرف بیرون ممالک میں اپنے سفیروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی تھی۔ اس لیے اگر مسلم حکمران خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور سخت ردعمل کا اظہار نہ کیا تو عوامی احتجاج کا ہالینڈ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مسلم ممالک کی حکومتوں کو اس حوالے سے متحد ہونا چاہیے۔ چند روز قبل سعودی عرب نے کینیڈین حکومت کے ایک بیان پر وہاں سے اپنا سفیر واپس بلا کر اس سے سفارتی تعلقات معطل کر دیے تھے لیکن اس مسئلے پر ہر طرف خاموشی طاری ہے۔
حضور نبی کریم ؐ کی شان اقدس میں گستاخی کا مسئلہ مسلمان کے لیے سب سے حساس نوعیت رکھتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ڈچ نائب سفیر کو طلب کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی ترجمانی کی ہے۔ قومی اسمبلی میں اس پر متفقہ قرار داد بھی منظور ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے نئے پاکستان کے لیے ریاست مدینہ کو رول ماڈل قرار دیا ہے تو امید ہے کہ وہ والئی مدینہؐ کے تقدس ، حرمت کی حفاظت کے لیے تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم میں جمع کرنے کی کوشش کریں گے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان اس حوالے سے قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم کچھ روز میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہاں بھی وہ اس مسئلے کو اٹھائیں۔ انشاء اللہ ان کا یہ عمل پاکستان کے لیے انتہائی بابرکت ہو گا اللہ کو اپنے پیارے نبی ؐ سے بہت محبت ہے۔ دیکھ لیجئے میرے آقا و مولا کی توہین پر اللہ نے ابولہب پر کیسی گرفت کی اور قیامت تک اس پر لعنت برستی رہے گی۔ میں کمزور اور ناکس مسلمان ہوں میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کاش کچھ میرے اختیار میں ہوتا۔ یا اللہ! تو دلوں کا حال جانتا ہے۔ ہم تو بے بس ہیں لیکن ہمارے مسلم ممالک کے بادشاہ بے بس نہیں تو انہیں غیرت اسلامی سے نواز۔ اللہ! ان ہاتھوں پر کوڑھ ڈال دے۔ زبانوں سے قوت گویائی چھین لے جو تیرے پیارے نبیؐ کی شان میں گستاخی کریں اور ہمیں معاف کر دے۔ ہم سب کچھ سن اور دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ نہیں کر پاتے۔ یا اللہ! ہم تیرے غضب کو بھی جانتے ہیں اور اپنی بداعمالیوں سے بھی باخبر ہیں۔ اللہ! ہم بزدل ہیں اپنے آقا و مولا کی شان اقدس میں ہونے والی گستاخی پر ڈھنگ سے احتجاج بھی نہیں کر سکتے لیکن تو دلوں کا حال جاننے والا رب ہے۔ ہمیں معاف کر دینا۔ روز محشر ساقی کوثرؐکے سامنے رسوا ہونے سے بچا لینا… یا اللہ ہم تیرے رحم کے طلب گار ہیں۔