19 دسمبر 2018
تازہ ترین

اللہ کی بہتر جانتا ہے اللہ کی بہتر جانتا ہے

وزیراعظم کا کرپشن کیخلاف عزم قابل تحسین ہے، وہ آئے بھی اسی عزم کے ساتھ تھے یا انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہی اسی لیے گئی تھی۔ اپوزیشن کا واویلا اپنی جگہ، شہباز شریف کی گرفتاری کیخلاف ہونے والے احتجاج کو انہوں نے ڈرامہ بھی قرار دیا ہے اور اس طرح کے مزید پچاس افرادکیخلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ وہ خود کو جنگجو کپتان بھی ثابت کر رہے ہیں۔
لیکن وہ جو واقفان حال ہیں وہ وفاقی وزیر اطلاعات کے اس دعوے یا انتباہ کو نظرانداز بھی نہیں کر رہے کہ ’’فوج اور عدلیہ ہمار ے پیچھے ہے‘‘۔۔۔ اور کچھ لوگ ہیں جو اس تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کو بھی دیکھ رہے ہیں، جس میں اس نے سعودی عرب کے حکمرانوں کو اِدھر اُدھر دیکھنے کی کوشش یا حکم عدولی پر انتباہ کیا ہے کہ سعودی عرب ہمارے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتا۔ یہ تو جملہ ہائے معترضہ ہیں مگر انتخابی نتائج کی بنا پر سیاسی حقائق کو دیکھیں تو مرکز کی حکومت ہو یا پنجاب کی سب ’’نظر کرم‘‘ تو ہے لیکن یہ ننگی تلواروں سے کم نہیں۔ ان پر محفوظ سفر آسان نہیں پاؤں کا زخم زخم ہونا لازم دکھائی دیتا ہے۔
مزید بدقسمتی کہ پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور کی سینیٹ کی چھوڑی نشست پر کامیابی تو حاصل ہو گئی ہے مگر انتخابی نتائج نے پریشانیوں میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ہمارے دوست کالو مکرانی کہتے ہیں کہ بازی گر کی رسی پر چلتی ہوئی حکومت کا اپنے ہدف سے پیچھے ہٹنا نظر کا منتشر ہونا یا توازن خراب ہونا کسی بھی بڑے حادثے کا باعث ہو سکتا ہے۔ 33 آزاد ارکان میں سے 26 حکومت یا پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، ان میں سے 13کو وزارتوں سے نوازنا پڑا ہے۔
یہ تو خوش قسمتی ہے کہ اپوزیشن ابھی فکری طور پر متحد نہیں، ویسے بھی وہ اتنی قلیل مدت میں حکومت کو گرانا نہیں چاہتی، شاید انہیں مابعد نتائج اور اثرات کا بخوبی ادراک ہے۔ ویسے بھی وہ جو چھانگا مانگا اور ہرن مینار آباد کرنے کی مہارت رکھتے ہیں، انہیں کل مشکل تھی نہ آج ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی جو چشم دید گواہ ہیں انہیں غیبی سرپرستی اور شفقت کا بھی علم تھا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے پنجاب کی طرف بڑھتے قدم روکنا مقصود تھا آج صورت حالات برعکس ہے۔ اب انہیں نکالنا ہی نہیں سیاست سے دور کرنا بھی مقصود تھا۔ چنانچہ عام انتخابات سے پہلے نوازشریف اور مریم نواز کو پس زنداں بھیجا گیا اور اب جبکہ 14 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہونے والے ہیں تو شہبازشریف کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اس کے باوجود کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مذکورہ انتخابات فیصلہ کن ہو سکتے ہیں، یہ انصاف کے ترازو کے پلڑوں میں توازن الٹ سکتے ہیں۔ لیکن ایک متبادل رائے یہ بھی ہے کہ جو مرضی کریں، جو مرضی ہو جائے ’’وہی ہو گا جو منظور خدا ہو گا‘‘۔
ہاں اگر معاملات بگڑ گئے، مہنگائی، بیروزگاری، بجلی، پانی گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسوں کی بھرمار کے خلاف بے بس اور مجبور عوام کی چیخیں صدائے احتجاج پر مجبور ہو گئیں تو پھر کسی نہ کسی کو تو آگے بڑھ کر عوام کے سروں پر دست شفقت رکھنا پڑے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ
’’مر جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے‘‘
 کے نعرے لگانے والے بھی میدان میں آ جاتے ہیں اور پھر انصاف کے تقاضے بھی پورے کرنا پڑتے ہیں۔ آخر جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہی نہیں قومی سلامتی اور داخلی امن و استحکام بھی فرائض میں شامل ہے۔
کیا ہو گا؟؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ حکومت کے اتحادی، وہ جو ایم کیو ایم والے ہیں وہ لندن پلان کی تصدیق بھی کر رہے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک جماعت پر ہر عہد میں نظر کرم ہوتی ہے۔ ہماری نشستیں چھین کر پی ٹی آئی کو دی گئیں۔ صرف ایک ماہ بعد ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ ہمارے خیال میں یہ دعویٰ آزادی سے مشروط ہے، بند ہاتھوں اور زنجیروں میں جکڑوں سے اس قسم کی باتیں مناسب نہیں ہوتیں۔ البتہ وہ جو سردار اختر مینگل کہتے ہیں اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ’’آخری سہارا‘‘ بن کر پی ٹی آئی کے ساتھ چھ نکاتی معاہدہ کیا تھا، وہ بھی ’’عملدرآمد‘‘ نہ ہونے کی صورت سیاسی راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
بہرحال معروض میں سب سے بڑی سچائی تو یہ ہے کہ حکومت میں کوئی ایسا سیاسی مشیر وزیر نہیں جو مفاہمت پر یقین رکھتا ہو، ہر کوئی لذت کام و دہن کو دو آتشہ کیے ہوئے ہے۔ شاید وہ مخصوص مشن پرکام کر رہے ہیں۔ بس ایک شاہ محمود قریشی ہیں جو مفاہمت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں لیکن مخالفین زیادہ طاقتور اور بالادست ہیں۔ ہمارے دوست علامہ فکر گنگولوی کہتے ہیں 1849ء کے بعد ’’جاٹوں‘‘ کی حکومت کے امکان بڑھ رہے ہیں، خان صاحب کی بنی گالہ میں روحانیت سے وابستگی مزید گہری ہو سکتی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔