20 ستمبر 2019
تازہ ترین

افغان امن آشا۔ تاریخی تناظر میں افغان امن آشا۔ تاریخی تناظر میں

افغانسان میں امن سب کی ضرورت ہے۔ مگر اس امن کا حصول اس وقت تک مشکل بلکہ ناممکن ہے جب تک بدامنی کے اسباب کا حقیقت پسندانہ ادراک اور تدارک نہ کیا جائے۔ قائد اعظمؒ کا فرمان ہے ’’اگر تم امن چاہتے ہو تو جنگ کے لیے تیار رہو‘‘۔
افغانستان دو صدیوں سے عالمی سازش اور سیاست کا مرکز رہا ہے۔ افغانسان کی سٹرٹیجک اہمیت کے پیش نظر ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال ؒ نے کابل اور پاک افغان قبائلی علاقوں کو ’’کلید ایشیا‘‘ قرار دیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے عالمی اور علاقائی طاقتوں اور ادراوں کو افغانستان پر حملوں اور قبضوں کی ترغیب دے رکھی ہے۔ علاوہ ازیں کابل اور دہلی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مسلمانوں سے قبل دہلی کے تمام حکمران مثلاً ہُن، کُشان، راجپوت اور برہمن دہلی سے کابل پہنچے جبکہ دہلی کے تمام مسلمان حکمران غزنوی، غوری، ابدالی یعنی سلاطین اور مغل کابل سے دہلی آئے۔ یاد رہے کہ پاک وہند کے تمام اولیاء اور صوفیاء بھی افغانستان سے آئے۔ انہی کابل اور قبائلی عوام کی ہندی مسلمانوں کے لیے ہمہ وقت کمک (امداد) نے ہندوستان (جنوبی ایشیا) میں مسلمانوں کی حکومت اور سلطنت کے قیام اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے وقت فرمایا تھا پاکستان مسلمانوں کے شاندار ماضی کے احیا کا ذریعہ ہے یعنی پاکستان اسلام کی عظمت رفتہ کی باز گشت ہے۔
افغانستان برطانوی اور روسی استعمار کے دوران نیم خود مختار بفر ریاست تھی۔ تقسیم ہند اور دلی سے برطانوی فوجی، سیاسی اور انتظامی انخلا کے بعد اشتراکی استعماری روس نے دہلی کی ہندو بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر افغانستان اور پاکستان کا آزاد اسلامی تشخص ختم کر کے روس اور بھارت کی ذیلی اور طفیلی ریاست یا ریاستیں بنانا چاہا جسے خوش قسمتی سے پاکستان کی غیور ضیاء الحق انتظامیہ نے ناکام بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان اور پاک افغان قبائلی عوام آزادی کے متوالے ہیں۔
برطانوی راج کے دوران افغان حکمران نادر شاہ نے افغان قوم کی آزادی، ترقی، خوشی اور خوشحالی کی حکمت عملی کے لیے ہمارے قومی شاعر علامہ اقبالؒ، سید سلیمان ندویؒ اور سر راس مسعود کو مدعو کیا۔ بعد ازاں علامہ اقبالؒ نے وطن واپسی پر میڈیا کو بتایا کہ اگر نادر شاہ کو 10سال کام کرنے کے لیے میسر آ گئے تو افغانستان اسلام کی عظمت رفتہ کی شاندار احیائی مثال ہو گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ کے دورۂ افغانستان کے 10دن بعد برطانیہ اور روس یعنی عالمی طاقتوں نے نادر شاہ کی حکومت ختم کر دی۔ جب پاکستان بنا تو گاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی کیفیت نظریاتی اعتبار سے ایک دل دو جان کی ہے۔ لہٰذا آزاد بھارت کی اکھنڈ پالیسی کے بنیادی رہنما اصول ایسے بنائے جائیں کہ افغان سرکار پاکستان مخالف رہے اور ممکن ہو تو بھارت افغانستان اور عالمی طاقتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر تقسیم ہند کا غلط نظریہ نابود کرے اور افغانستان کا اسلامی تشخص بھی معدوم کر دیا جائے۔ بھارت کی رسوائے زمانہ انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کے رہنما اصول مذکورہ بالا ہیں۔ جن کو تحریک پاکستان کے دوران کانگریسی اور لاہوری لیڈر لالہ ہردیال نے ’’میرے وچار‘‘ میں بایں الفاظ بیان کیا ہے۔ خطے میں ہندو نسلوں کی بقا کیلئے ہندو سنگٹھن (اتحاد) اور رام راج ضروری ہے۔ مسلمانوں کی ’’شدھی‘‘ (دوبارہ ہندو بنانا) اور افغانستان اور سرحدی ’’KPK‘‘ فاٹا (پاک افغان قبائلی) علاقوں کو از سر نو فتح کر کے ہندو بنایا جائے۔ یہی وہ پالیسی تھی جس کے تحت کانگرس اور ہندو سیٹھوں نے ہندو مت کی تبلیغ اور تحفظ کے نام پر پاک افغان مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی خریدو فروخت کا بازار تا حال گرم کر رکھا ہے۔
اشتراکی روس امریکا سے کئی گنا زیادہ طاقتور تھا اور بھارت روس کا نظریاتی اور دفاعی حلیف تھا۔ افغانستان میں روسی یلغار (27 دسمبر 1979) کے وقت بھارت اور روس نے پاکستان کو سینڈوچ بنا کر مارنا تھا مگر پاکستان کی ضیاء الحق انتظامیہ نے روس اور بھارت گٹھ جوڑ کا دانشمندی اور دور اندیشی سے تدارک کیا۔ ضیاء الحق انتظامیہ کی پالیسی سہ نکاتی تھی۔ پہلا نکتہ افغان قوم اور عوام کی دیرینہ آزادی کی تمنا کو عملی شکل دینا جس نے غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف سیسہ پلائی منظم مزاحمتی تحریک کو جنم دیا۔ دوسرا نکتہ بھارت کو (اس کے اندر سو سے زائد علیحدگی پسند تحریکوں میں الجھائے رکھنا، اس طرح بھارت کو اپنی پڑ گئی) مذکراتی محاذ میں الجھا کر اپنی ڈال دینا تا کہ بھارت روسی اشیر باد کے باوجود پاکستان کے ساتھ کھلی سرحدی جنگ یا اندرون پاکستان تخریبی اور دہشت گردی کی سرگرمیاں کرنے سے قاصر رہا۔ گو ایم کیو ایم اور فرقہ وارانہ فسادات ’’بھارتی را کاری‘‘ کا نتیجہ تھے اور ہیں۔ تیسرے نکتے کے تین پہلو ہیں۔ پہلا پہلو ہتھیار سازی (ایٹم بم، بہترین میزائل اور سٹیلایٹ سسٹم)، دوسرا پہلو پاکستان کے ناراض عناصر، احباب اور احزاب کی دل جوئی اور کڑی نگرانی، تیسرا پہلو پاکستانی معاشرے کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے فکرو عمل کی روشنی میں نظریاتی اور اسلامی بنانا تھا۔ جس وقت روس اور بھارت پاکستان کی ضیاء الحق انتظامی پالیسی کے سامنے بے بس ہو گئے تو انہوں نے امریکا، اسرائیل، ایران اور یورپ کے ساتھ مل کر اسلام اور
پاک افغان مسلمانوں کے خلاف مشترکہ منصوبہ بندی کی اور اس منصوبہ بندی کو ہیلسنکی معاہدہ کا نام دیا۔ جس کے مطابق روس، امریکا سرد جنگ ختم ہو گئی اور عالم اسلام کو امریکی بالا دستی کے ذریعے نرمی اور سختی کے ساتھ دامے درمے سخنے سرنگوں رکھنے کی پالیسی اپنائی۔ اس پالیسی کا مرکزی محاذ پاکستان ہے۔ کیونکہ پاکستان افغانستان کا گیٹ بھی ہے۔ یہاں امریکا نواز مقتدر افراد اور احزاب کی کھیپ تیار کی گئی جن کو امریکی نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے ڈرایا، دھمکایا اور للچایا گیا اس پالیسی کے تحت امریکا اینڈ کمپنی نے عالم اسلام کے ممکنہ امریکا مخالف حکمران سے ’’نجات‘‘ حاصل کی اور امریکا نواز حکمرانوں کو خوب نوازا گیا۔ نیو ورلڈ آرڈر کا دوسرا پہلو نائن الیون کا ڈرامہ تھا جس کی آڑ میں دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کو جنم دیا گیا اور اس طرح عالم اسلام کے امریکا نواز حکمران طبقے کو اپنے ہی عوام کے خلاف تیار کر دیا جو بآلاخر خانہ جنگی کا منظر نامہ بن گیا۔ یہی وہ امریکی نیو ورلڈ پالیسی ہے جس کے ذریعے امریکا نے دھونس دھاندلی اور سازش کے تحت بھارت کو موجودہ افغانستان کا مربی اور سرپرست بنا دیا ہے۔ امریکا اور بھارت کی موجودہ افغان پالیسی اہل دل اور اہل نظر کے لیے غیر متوقع نہیں۔
ٹرمپ کی افغان امن آشا دوآتشہ ہے۔ امریکا قیام امن کیلئے افغانستان میں مزید فوجی کمک بھیج رہا ہے۔ افغان امن، ترقی اور تعمیر نو میں بھارت کو کلیدی کردار دیا گیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ قیام امن کے لیے مزید فوج بھیجنا چہ معنی دارد؟ نیز پاکستان افغانستان میں ’’بھارتی امن آشا‘‘ کے کردار کو تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ بھارت بذریعہ افغانستان پاکستان کے اندر بدامنی، علیحدگی پسندی، تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث ہے۔ کل بھوشن اور دیگر چشم کشا ثبوت امریکا اور اقوام متحدہ کو فراہم کر دیے گئے ہیں اور اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹنس اور نیٹو سیکرٹری جنرل جیمز سٹولنبرگ نے بھارت اور افغانستان کے دورے کے دوران پاکستان کو نظر انداز کیا اور واشگٹن واپس جا کر کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے (حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید وغیرہ) مزید کام کرے۔ اور بھارت کا مذکورہ افغان کردار امریکی پالیسی کا اٹل فیصلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے امریکا چھتری تلے پاکستان کو گھیر لیا ہے۔ افغان مزاحمتی قوتوں نے پہلے روس کی بالا دستی قبول نہیں اور اب 16سال سے جاری امریکی اور بھارتی بالا دستی کے سامنے بھی سر نگوں نہیں ہوئے۔ افغانستان کے اکثریتی عوام امریکا اور بھارت کے خلاف ہیں۔ افغان حکمران طبقہ خوف کے باعث افغان حفاظتی گارڈ بھی نہیں رکھتا۔ ان کے حفاظتی دستے بھی غیر ملکی یعنی بھارتی اور امریکی ہیں جبکہ افغانستان کا بیشتر رقبہ مزاحمتی، جہادی طالبان کے زیر اثر ہے۔ دریں صورت پاکستان کو سخت، کڑے اور کٹھن فیصلے کرنا ہیں۔ اللہ پاکستان کے متقدر طبقے کو درست اور استقامت کے ساتھ فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔ علامہ اقبالؒ نے ضرب کلیم میں فرمایا ہے کہ
تیری حریف ہے یا رب سیاست افرنگ!
مگر ہیں اس کے پچاری فقط امیر و رئیس!
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تو نے!
بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس!