17 نومبر 2018
تازہ ترین

افریقا میں اثرورسوخ کیلئے چین اور یورپ کی مسابقت افریقا میں اثرورسوخ کیلئے چین اور یورپ کی مسابقت

لگتا ہے کہ یورپی رہنما دوبارہ سے افریقا دریافت کر رہے ہیں۔ 2015ء کے پناہ گزین بحران کے باعث انگیلا مرکل کا دورہ افریقا مسائل کا شکار ہو گیا؛صدر میکرون عہدہ سنبھالنے کے بعد 11افریقی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں؛ تھریسامے کادورہ جنوبی افریقا، نائیجیریا اور کینیا جاری ہے جو گزشتہ پانچ سال کے دوران کسی برطانوی رہنما کا پہلا دورہ افریقا ہے۔ ان تمام یورپی رہنمائوں کے مجموعی افریقی دوروں کا چینی قیادت کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ چین کے صدر ، وزیراعظم اور وزیر خارجہ گزشتہ دس سال میں افریقا کے 79دورے کر چکے ہیں، جن میں وہ 43افریقی ملکوں میں گئے،ان کے 44دورے انتہائی غریب افریقی ملکوں کے تھے۔
دنیا کا کوئی رہنما قومی مفادات کے بغیر دوسرے ملک کا دورہ نہیں کرتا۔ میکرون ہجرت کے بحران اور قومی سلامتی کے مسائل کی وجہ سے گئے، یہی وجہ ہے کہ ان کے ایجنڈے میں مالی سرفہرست ہے، جہاں القاعدہ کی حامی تنظیمیں اور دیگر دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں۔ان گروپوں سے متعلق فرانس کی تشویش کا اندازہ پیرس میں دہشت گرد حملوں سے لگایا جا سکتا ہے، جن میں شمالی افریقا کے تارکین ملوث تھے۔ جرمنی کی  انگیلا مرکل کے مفادات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ان کی اتحادی جماعت سی ڈی یو کی سیاست کا محور پناہ گزین اور تارکین ہیں۔ ادھر یورپی یونین نے جون کے سربراہ اجلاس میں پناہ گزینوں کیلئے پروسیسنگ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا؛ مگر اسے شمالی افریقا میں خاص پذیرائی نہیں ملی۔ مصر کے وزیر خارجہ یہ تجویز سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔انہیں منانے کرنے کیلئے یورپی ملکوں نے امداد سمیت سرکاری اور نجی سطح پر معاشی تعاون کی پیشکش کی۔ اس میں جرمنی پیش پیش تھا، جس کی چار لاکھ کمپنیوں میں صرف ایک ہزار افریقا میں کام کر رہی ہیں۔
تھریسامے کے دورے کی نوعیت مختلف تھی۔ انہیں یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد نئے دوستوں اور تجارتی پارٹنرز کی تلاش ہے۔افریقا میں آبادی کا بڑاحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے؛ امکان ہے کہ 2050ء تک نائیجیریا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہو گا۔ افریقا کے کئی ملکوں متوسط طبقہ تیزی سے ابھر رہا ہے، جو یورپی مصنوعات کا صارف بن سکتا ہے۔ تھریسامے کا مقصد برطانیہ کو افریقا میں سب سے بڑا بیرونی سرمایہ کاری کرنیوالا ملک بنانا ہے۔افریقی لیگ کے اعداد و شمار کے مطابق 2003ء سے 2018ء کے دوران گرین فیلڈ منصوبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنیوالے ملکوں میں امریکا اور یو اے ای100ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کیساتھ سرفہرست تھے ؛ ان کے بعد برطانیہ اور چین کا نمبر رہا۔ اگر افریقی ملکوں میں ایکسپورٹس کی بات کی جائے تو اس میں چین پہلے نمبر پر ہے۔ افریقی ملکوں کی مجموعی درآمدات میں چین کا حصہ 16فیصد ہے، برطانیہ کا حصہ محض تین فیصد ہے۔ افریقا میں چینی سرمایہ کاری کی نوعیت میں ایک عشرے کے دوران واضح تبدیلی دیکھی گئی۔ شروع میں چین کا فوکس قدرتی وسائل تھے، مگر حالیہ کچھ برسوں میں وہ زیادہ تر انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، جن میں سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں، اور خشک گودیاں شامل ہیں۔ 
علاوہ ازیں ، ابتدائی طور پر چینی سرمایہ کار مقامی افریقی ورکرز کے بجائے اپنے کارکنوں کو ساتھ لانے کو ترجیح دیتے تھے، مگر اب چینی کمپنیاں مقامی افرادی قوت استعمال کر رہی ہیں۔اب تک چین 130ارب ڈالر افریقا میں امداد، سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کی صورت میں صرف کر چکا ہے۔ تجزیہ کار اسے چینی قرضوں کے جال کا نام دیتے ہوئے متعلقہ ملکوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔اسکی مثال سری لنکا کی مامبونٹوٹا بندرگاہ ہے جو قرضوں کے بدلے چین کے حوالے کرنا پڑی۔ یہی صورتحال جبوتی کو بھی پیش آ سکتی ہے۔اسلئے مبصرین نے چائنا افریقا تعاون کیلئے چینی صدر کے 60ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حالیہ اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ۔ ان میں 5 ارب ڈالر افریقا سے اشیا ء اور خدمات کی درآمدکیلئے مختص کیے گئے ہیں؛ 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری چینی نجی شعبہ کرے گا،باقی رقم قرضوں ، گرانٹس اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنانسنگ کی صورت میں دی جائیگی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر ژی کا فوکس زراعت اور اس کی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر ہے،جس کا مقامی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ چین کی فوڈ سکیورٹی سے بھی تعلق ہے۔ صدر ژی کے خطاب کا اہم پہلو افریقا کی سکیورٹی میں ان کا دلچسپی لینا ہے، اسی لیے انہوں نے امن فورس کی بات کی۔ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کی وجہ سے ایشیا میں چین اپنی فوجی موجودگی کو توسیع دے رہا ہے۔ پاکستان کے بعد جبوتی چین کا اگلا اہم مرکز ہو سکتا ہے۔  
چین اور یورپ کی افریقا میںبڑھتی دلچسپی کے برعکس سوال یہ ہے کہ افریقی اقوام کیا چاہتی ہیں؟افریقی حکمرانوں کی چینی سرمایہ کاری پیکیج میں دلچسپی کی وجہ بڑی سادہ ہے: چینی سرمایہ کاری ، گرانٹس وغیرہ شرائط سے پاک ہوتی ہیں، جبکہ مغربی ممالک مختلف شرائط عائد کرتے ہیں جن میں گڈ گورننس، جمہوری اقدار اور انسانی حقوق سرفہرست ہیں۔ افریقی ملکوں میں کرپشن عام ہے، انسانی حقوق ، جمہوریت ان کی ترجیح نہیں، اس لیے یورپ اور مغرب کے بجائے چین ان کیلئے زیادہ قابل قبول ہے۔ علاوہ ازیں، ہر افریقی ملک کوخود تعین کرنا ہے کہ ان کے طویل المدت مفاد میں کیا ہے۔ تاہم افریقی رہنماؤں کیلئے ضروری ہے کہ وہ چینی قرضوں کے جال سے جڑے خطرات سے بھی آگاہ رہیں۔ کثیر جہتی مفادات براعظم افریقا کے رہنمائوں کو مختلف چوائس دے رہی ہیں، مگر انہیں اپنے ملکوں اور عوام کے طویل المدت مفادات مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: عرب نیوز)