21 ستمبر 2018
تازہ ترین

اطمینان رکھیں! اطمینان رکھیں!

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہی زیادہ تر پائے جاتے ہیں۔ اچھے اور برے۔ گو کہ اچھے اور برے کی ’’تفصیلات‘‘ مختلف ہو سکتی ہیں ممکن ہے جو امریکہ میں ’’اچھے‘‘ کی تعریف پر پورا اترتا ہو وہ ہمارے نزدیک ’’برا‘‘ اور اسی طرح ’’برا‘‘ ہمارے نزدیک اچھا ہو لیکن پاکستانی سیاست میں گزشتہ 50سال میں ایک تیسرا عنصر خصوصاً سیاستدانوں کی شکل میں مسلط ہوا ہے۔ جن کا مخصوص ’’مائنڈ سیٹ‘‘ ہے یہ لوگ اچھائی اسے کہتے ہیں جو ان کے ’’معیار‘‘ اور ’’مفاد‘‘ کے مطابق اور ’’برائی‘‘ اسے جو ان کے معیار اور مفادات کے برعکس ہو۔ جب سے ٹی وی چینلز پر مباحث کا آغاز ہوا ہے میں نے کسی سیاستدان کے منہ سے یہ بات نہیں سنی کہ اس کے لیڈر نے جو فلاں کام کیا ہے وہ غلط ہے۔ اگر علماء کرام مجھے معافی دیں تو عرض گزار ہوں کہ تمام پارٹیوں کی لیڈر شپ خود کو زمین پر خدا کے فرستادہ حکمرانوں سے کچھ کم بھی سمجھنے پر تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی کے پاس ہر سوال کے جواب میں ایک دو فقرے ہوتے ہیں۔
-1ہم نے جمہوریت کے لیے قربانیوںکی تاریخ رقم کی ہے۔ جس کے بعد وہ بھٹو سے بے نظیر تک اور مختلف سیاسی سانحات میں ہونے والی اموات کا ریکارڈ گننا شروع کر دیتے ہیں۔
-2گیارہ سال زرداری جیلوں میں رہے آپ نے کیا نکلوا لیا یہ گویا ان کی طرف سے پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی غلطی ہے کہ زرداری صاحب گیارہ سال جیل میں رہے۔ اللہ کے بندو وہ کوئی دشمن کے جنگی قیدی نہیں رہے، کسی ملکی خدمت پر انہیں سزا نہیں ملی۔ گیارہ سال تک وہی شخص جیل میں بطور ’’حوالاتی‘‘ رہے گا جس پر کم از کم گیارہ کیس ناقابل ضمانت ہوں گے۔ خدا جانے ان کا کیا مسئلہ تھا؟ ہم پر تو اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
المیہ یہ ہے کہ ان دو باتوں کو جواز بنا کر پیپلز پارٹی والے ہر غلط بات کو صحیح بنانے پر تلے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم کے ساتھ بھی ظلم ہوا، شرجیل میمن کے ساتھ بھی ظلم ہوا اب جو ’’پانامہ‘‘ سے بڑا اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کا سکینڈل پکڑا گیا ہے وہ بھی ظلم عظیم اور انتقامی کارروائی ہے۔ شراب کی بوتلیں شہد میں بدل دینے والی سندھ پولیس جو عملاً آپ کے ذاتی ملازم ہیں سوائے سی ایس پی افسران کے (ان میں بھی حصہ دار موجود ہیں) ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ شرجیل میمن ڈاکٹر عاصم یا ایسی ہی دیگر قابل عزت شخصیات کے خلاف ثبوت فراہم کریں گے۔ کسی دیوانے کا خواب تو ہو سکتا ہے۔ عملاً ایسا ممکن نہیں۔ اب ڈی آئی جی اور دیگر اعلیٰ افسران مچلہ بھرنے یا ’’قلندرے‘‘ بنانے کی ڈیوٹی تو دیتے نہیں یہ کار خیر تو آپ کے مزارعے اور منشی ہی انجام دیتے ہیں۔ ہمیں تو آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ آپ گیارہ سال جیل رہے کس چکر میں؟ شاید اس لیے کہ زیادہ عرصہ ’’پنجابی جیلوں‘‘ میں گزرا اور تب تک ’’میثاق جمہوریت‘‘ نہیں ہوا تھا۔ جب ہوا تو یکے بعد دیگرے آپ کے مقدمات کی فائلوں کو آگ لگنا شروع ہوئی۔ ریکارڈ غائب ہوا اور آپ باعزت بری۔
یہاں پنجاب میں بھی اللہ کے فضل سے گلبرگ میں میاں شہباز شریف کے داماد کے پلازے میں آگ لگی ہے، پانی مینجمنٹ کمپنیوں کا ریکارڈ جل گیا ہے۔ اس سے پہلے ریلوے کا جلا تھا اور اس سے پہلے ایل ڈی اے کا۔ یہ سب جمہوریت بلکہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی برکات ہیں جو آپ اپنی آنے والی نسلوں کو ’’کالے علم‘‘ کی طرح منتقل کیے بغیر جانے والے نہیں ہیں۔آپ لوگوں کا کمال یہ ہے کہ آپ نے اپنے اردگرد جو بچے جمورے جمع کیے ہوئے ہیں انہیں بڑی ہوشیاری سے اپنا ’’سٹیک ہولڈر‘‘ بنا لیا ہے۔ میڈیا کا ستعمال اور ’’ پیسہ پھینک ثماشا دیکھ‘‘ کے آپ ماسٹر ہیں۔ آپ پر کوئی الزام کہاں ثابت ہو گا؟ آپ کی مہربانیوں کی وجہ سے اور بالخصوص آپ کی جمہوریت پرستی کے سبب پاکستان کی معیشت عملاً کینسر زدہ ہو گئی ہے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور روپے کی قیمت تشویشناک حد تک گر چکی ہے لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں کہ جب حکومت ماہانہ درآمدی اخراجات ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے گی۔ ماہرین کی رائے کے مطابق پاکستان کی معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے کس قدر دب چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاک، چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے لیے ہم چین سے 62ارب ڈالر قرض لے چکے ہیں۔ 
اس صورتحال کے پیش نظر حکومت کواس وقت بیرونی امداد کی اشد ضرورت ہے اور اس ضمن میں اس کے پاس صرف دو انتخاب ہیں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) یا بیجنگ۔ لیکن یہ دونوں ذرائع بھی پاکستان کی تباہ حال معیشت کو زیادہ دیر سہارا نہیں دے سکتے۔ پاکستان پہلے ہی IMF کے اکیس قرض پروگرامز میں شامل ہے۔ جس میں سے ایک پروگرام دو سال پہلے ہی ختم ہوا ہے۔ لہٰذا اگر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان دس ارب ڈالر کا ایک اور قرضہ لیتے ہیں تو ملک آئی ایم ایف کی سخت شرائط میں جکڑ جائے گا جس سے ملک کی ترقی متاثر ہو گی۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض دیئے جانے کی مخالفت کر چکا ہے، اس کا موقع ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے فنڈز حاصل کرکے چینی قرضوں کی ادائیگی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کو چینی قرضوں کی ادائیگی کے لیے پاکستان کی نئی حکومت کو قرض نہیں دینا چاہیے۔ اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض سے چینی قرضوں کی ادائیگی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ نے عمران خان کے لیے راستے تو
 سارے اپنی دانست میں بند کر دیے تھے لیکن انسانی تدابیر، چالاکی، ہوشیاری، مکاری اسے کوئی بھی نام دے لیں بھی کبھی کبھی ’’اخلاص اور کمٹ منٹ‘‘ کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں۔ جب کسی قوم میں باوقار زندگی جینے کی خواہش جنم لیتی ہے تو پھر آئی IMFاور دیگر بلائیں اس کے راستے کی دیوار نہیں بنتیں۔ 
ہمارے محترم میاں صاحبان کے جانثاروں کی طرف سے عمران خان کو ’’بکاری‘‘ بنانے کی سوشل میڈیا مہم اپنے نقطہ عروج کو دو دن میں ہی چھونے لگی ہے۔ منہ سے جھاگ اڑاتی روایتی جاگیردارانہ اور غلامانہ سیاست کے بھونپوگلہ پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے ہیں کہ کوئی عمران خان کی اپیل پر کان نہ دھرے اور یہ بھی صد فی صد پکی ٹھکی بات ہے کہ آپ ملکی اور غیر ملکی اپنے حلقہ اثر میں پورا زور لگا کر اس ’’خیراتی مہم‘‘ کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے کیونکہ ابھی تک ملک کا انڈسٹریل سرمایہ دار طبقہ آپ کے کنٹرول میں ہے آپ نے انہیں الو بنایا ہوا ہے کہ امریکہ کے ذریعے عمران خان کا دھڑن تختہ کر کے ان کی ’’لپٹ‘‘ نکلوا دیں گے لیکن انتہائی قابل احترام دوستو یہ شاید اب ممکن نہیں رہا۔ اب تو خود کہتے ہیں کہ عمران خان کو ’’مانگنے‘‘ کا فن آتا ہے مانگ تانگ کر اس نے 2کینسر ہسپتال، نمل یونیورسٹی بنائی ہے۔ مطمئن رہیں مانگ تانگ کر وہ ڈیم بھی بنا لے گا اگر آستین کے کسی سانپ نے ڈنک نہ مار دیا…!!!
بقیہ: نقارخانہ