17 نومبر 2018
تازہ ترین

اصلی و نقلی ادب اصلی و نقلی ادب

معزز قارئین! دوسرے تمام مشاغلِ حیات کی طرح مشغلۂ ادب میں بھی تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں؛ اوّل ’’وہبی‘‘، دوئم ’’اکتسابی‘‘ اور سوئم ’’نقال‘‘۔ یعنی اوّل وہ جنہیں یہ ذوق فطرت سے ملتا ہے۔ ان فطری میلان والوں کی مثال اس پیراک سے دی جا سکتی ہے۔ جو بہاؤ کے ساتھ تیر رہا ہے کہ دو ہاتھ مارتا ہے تو گزوں آگے چلا جاتا ہے۔ یہ وہ اہل قلم ہیں جو اگر تحصیل علم و فن کر لیں۔ زبان پر عبور حاصل ہو جائے، مشاہدات و تجربات کے مواقع پا جائیں اور کسبِ معاش کے بکھیڑوں سے بے نیاز ہو کر اپنی تخلیقات کی نوک پلک سنوارنے کی فرصت میسر آ جائے تو ایسا ادب تخلیق کر جائیں جس پر ان کی موت بھی غلبہ نہ پا سکے۔ لیکن اتنی بہت سی شرائط پوری ہونا کون سا آسان ہے جو ہر ’’وہبی‘‘ اہل قلم کا فطری جوہر اپنی صحیح قدر وقیمت تسلیم کرا سکے۔ چنانچہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ حصول علم و فن میں کسر رہ گئی۔ یا زبان کا پہلو کمزور رہ گیا، یا دنیا کو دیکھنے برتنے کا موقع نہیں ملا یا چکی کی مشقت نے ذہن کو پچی کر دیا اور ان Handicaps سے بچ رہے تو Biological تخلیقات نے اتنی توجہ لے ڈالی کہ معنوی اولاد پر ضروری محنت کا وقت نہیں ملا۔ چنانچہ ان میں سے اکثر کے ہاں کسی نہ کسی رُخ سے ایک آنچ کی کسر ہمیشہ رہ جاتی ہے۔
اکتسابی اہل قلم میں وہ لوگ ہیں جن کی افتاد طبع تو کچھ اور تھی لیکن ادب کے دوسرے لوازم میں پورے اُترتے تھے اس لیے انہوں نے اس شوق کو اپنا لیا۔ اور ذہانت کے بل پر گاڑی چلاتے رہے۔ ان کی تخلیقات میں علم و فن زبان و بیان، مشاہدات و تجربات کی پختگی اور نوک پلک کی درستگی، سبھی کچھ ملتا ہے بس وہ جذبہ نہیں نظر آتا جو ’’وہبی‘‘ اہل قلم کا طُرّۂ امتیاز ہے۔ یہ لوگ پیشہ کے طور پر کوئی اور کام کرتے ہیں اور فارغ اوقات میں ادب سے دل بہلاتے ہیں۔ آدمی ذہین اور موقع شناس ہوتے ہیں۔ اس لیے وقت کے تقاضے اور منڈی کی مانگ پر نگاہ رکھتے ہیں۔ انہیں پیشہ اگر ایسا مل جائے جس سے ذہنی ہم آہنگی ہو تو ’’ہِپ ٹُلا‘‘ قسم کی تخلیق بھی دے جاتے ہیں۔ اور صفِ اوّل کے قلم کار مان لیے جاتے ہیں۔ اب یہ بات اور ہے کہ یہ مقبولیت زیادہ پیداوار کا مطالبہ کرتی ہے جس کا وقت اُن کے پاس نہیں ہوتا۔ اور انکار اُن کے بس کی بات نہیں اس لیے ’’جبری تخلیقات‘‘ وجود میں لانا پڑتی ہیں جو:ع 
’’ہر کہ از دست میر سد نیکو ست‘‘
کے مصداق قبول کر لی جاتی ہیں۔ مگر اس طرح تخلیق شدہ ادب اُن کی وفات کے ساتھ بلکہ اکثر اُن کی زندگی ہی میں وفات پا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک قلم کار کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ شہرت کی بلندیوں پر براجمان تھے تو ایک اخباری نامہ نگار نے اُن کی سوانح حیات شائع کرنے کے لیے ان سے انٹرویو لیا۔ انہوںنے اس نامہ نگار کو بتایا کہ لکھنا شروع کرنے کے دس سال بعد انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ تخلیق ادب کے لوازمات ان میں نہیںہیں۔ اس پر نامہ نگار نے حیرت سے پوچھا آپ نے لکھنا کیوں نہ چھوڑ دیا تو آں موصوف نے سادگی سے جواب دیا ’’اس وقت تک دنیائے ادب میں میری مانگ اتنی بڑھ چکی تھی کہ لکھنا ترک کر دینا میرے لیے ناممکن ہو گیا تھا۔‘‘
صاحبو! یہاں ایک اہم بات گوش گزار کرتا چلوں کہ عام طور پر ادب سے معقول کمائی حاصل کرنا کوئی معقول بات نہیں۔ پھر بھی اگر اہل قلم بھی اگر دنیائے ادب سے ریاضت کرتا رہے تو حسب توفیق کچھ نہ کچھ کماتا ہی رہتا ہے۔ اور قسمت سے وہ اگر معروف ہو جائے تو پھر کیا کہنے ہیں۔ وہ باقاعدہ پیشہ ور بن کر ورائٹی پروگرام کے اربابِ نشاط کی طرح معاوضہ کا نرخ مقرر کر سکتا ہے۔ جیسے ایک نامور ترین شاعر نے کہا کہ ’’آپ نے فریدہ خانم کو بلایا تھا تو اتنی رقم دی تھی۔ مجھے کم از کم ان کے برابر تو سمجھ لیجئے۔‘‘
مقبولیت کے بعد پیشہ ور بن جانے کے سلسلہ میں یہ المیہ بھی قابل ذکر ہے کہ کوئی قلم کار گوشۂ گمنامی سے نکل کر منظر عام پر آتا ہی تب ہے جب وہ کوئی چونکا دینے والی تخلیق پیش کرے، یہ اس لیے کہ عام ڈگر کی تخلیقات پیش کرنے والوں میں تو ایک سے ایک کہنہ مشق، ماہر فن، جغادری اہل قلم پہلے ہی منڈی پر قابض ہوتا ہے۔ جس کی موجودگی میں تازہ واردان بساطِ ہوائے دل کی دال گلنی مشکل ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر نیا قلم کار مجبور ہوتا ہے کہ تخلیق سے کام لے کر نئی بات کہے یا پرانی بات کو نئے انداز میں کہے۔ چنانچہ وہ پے بہ در پے چونکا دینے والی تخلیقات پیش کر کے قاری و سامعین سے متعارف ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دن کوئی ایسی تخلیق اس سے سرزد ہو جاتی ہے جسے قبول عام حاصل ہو جاتا ہے۔ اس چونکا دینے والی تحریر سے قلم کار کو دائمی شہرت مل جاتی ہے۔ کون انکار کر سکتا ہے کہ:
حفیظؔ کی مقبولیت میں ’’ابھی تو میں جوان ہوں۔‘‘
فیضؔ کی شہرت میں ’’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘‘
اقبال کا ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘
مجازؔ کی مقبولیت میں ’’اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں‘‘
جذبیؔ کی شہرت میں ’’اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے‘‘
احمد فرازؔ کی مقبولیت میں ’’رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لیے آ‘‘
حمایت علی شاعرؔ کی شہرت میں ’’دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ‘‘
محسن بھوپالیؔ کی مقبولیت ’’منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے‘‘
ضمیر جعفری ؔکی شہرت ’’پرانی موٹر کار‘‘
دلاور فگارؔ کی شہرت میں ’’لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا‘‘
انور مسعودؔ کی شہرت ’’بنیئن’’ سے  اور سرفراز شاہدؔ کی ’’جہاں سلطانہ پڑھتی تھی‘‘ کے دم سے ہے۔ اسی طرح سب لوگ یہ بھی تسلیم کریں گے کہ نثری دنیا میں بھی:
احمد ندیم قاسمیؔ کی شہرت ’’ہیروشیما سے پہلے ہیرو شیما کے بعد‘‘
کرشن چندرؔ کی مقبولیت ’’دو فرلانگ لمبی سڑک‘‘ 
منٹوؔ کی مقبولیت ’’نیا قانون‘‘
عصمت چغتائیؔ کی شہرت ’’لحاف‘‘ 
ابوالفضل صدیقیؔ کی مقبولیت ’’دفینہ‘‘
ہاجرہ مسرورؔ کی شہرت ’’تیسری منزل‘‘ 
خدیجہ مستورؔ کی مقبولیت ’’لعنتی‘‘
سید انورؔ کی شہرت ’’کلیوپیٹرا‘‘ 
اور میرزا ادیبؔ کی مقبولیت ’’صحرا نورد کے خطوط‘‘ سے وابستہ ہے۔
بہرحال شہرت یا قبول عام جس طرح بھی حاصل ہو اہل قلم کے صحیح خدو خال واضح اسی کے بعد میں نمایاں ہوتے ہیں۔ اصلی شاعر یا ادیب اس کامیابی سے مطمئن ہو کر بیٹھا نہیں رہتا۔ بلکہ بدستور ذہن پر زور ڈال کر فکر کی منزلیں طے کرنے میں لگا رہتا ہے۔ جب کہ نقلی اہل قلم راہوارِ فکر کو روایت کے اصطبل میں بند کر کے الفاظ کی شعبدہ گری کے کمالات دکھانے لگتاہے۔ گویا یہ دوکاندار وہ ہے جو اعلیٰ نمونہ دکھا کر گاہک کو ہموار کرتا ہے اور گھٹیا مال پر ٹرخا دیتا ہے۔ یعنی جن چونکا دینے والی تخلیقات کے باعث وہ پیشہ ور بنا تھا ان کا راستہ ترک کر کے عام ڈگر کی تخلیقات بیچنے لگتا ہے یعنی : ع
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے