17 نومبر 2018
تازہ ترین

اسلامی قلعہ کے گرد حصار اسلامی قلعہ کے گرد حصار

ہمارے باریک بین اور نکتہ چین پالیسی سازوں کو جو ہر لمحہ خوش فہمیوں اور خوش گمانیوں کے اسیر رہتے ہیں۔ انہیں بدلتی ہوئی دنیا اور بدلتے ہوئے امریکا اور اس کی ترجیحات کا کیوں اندازہ نہیں ہوا۔ انہیں تاریخ کے تناظر میں یہ سمجھنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہوئی کہ عالمی سرمایہ داری، ایشیا خصوصاً چین، روس اور ایران کی اقتصادی ترقی نے جن خدشات سے دوچار کر دیا ہے طویل جنگ میں ٹریلین ڈالر خرچ کر کے افغانستان اور وسطی ایشیا کے وسائل پر جو قبضہ کیا تھا اور اس پر جو خوابوں کے تاج محل تعمیر کئے تھے ان میں ون بیلٹ ون روڈ بلکہ سی پیک کے تحت بننے والی اقتصادی راہداری نے دراڑیں ڈال دی ہیں۔ خصوصاً گوادر کی گہرے پانیوں کی قدرتی بندرگاہ پر چینی ترقی پروگرام نے خلیج فارس سے نہر سویز اور اس کے ارد گرد عرب ممالک میں موجود عالمی سرمایہ داری کے مفادات کو معاشی بلکہ دفاعی نقصانات کی وجوہات پیدا کر دی ہیں۔ امریکی اسلحہ فروش کمپنیاں دفاعی معاہدوں کے نام یا پھر حفاظتی سامان کی فراہمی اور اس کے اخراجات کی وصولی میں جو ہر سال اربوں کے منافع حاصل کرتی تھیں وہ بدترین خطرات کی زد میں آ گیا تھا۔ یاد رہے کہ ہمارے کچھ کاروباری افراد کے ذہن میں شاید یہ بات تھی کہ اسلامی فوجی اتحاد میں شمولیت اور اس کی قیادت ہمارے پاس آنے کے بعد ہماری کچھ معصوم اور نابالغ اسلحہ ساز فیکٹریوںکو بھی بیساکھیوں کا سہارا مل جائے گا لیکن۔۔۔ تاریخی پس منظر میں اس بات کا ادراک نہیں کیا گیا کہ امریکا کو یا پھر امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو دنیا میں کہیں بھی جنگ اور جارحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے اقتدار کی راہ ہموار کی جاتی ہے لیکن جب بظاہر نئی جنگ کی تیاری اور اس دوران میں ترقیاتی عمل کا فروغ ناگزیر قرار دیا دیا جاتا ہے تو امریکی آئل اور گیس کمپنیاں ڈیموکریٹک پارٹی کو قومی اور ملکی مفاد میں سپورٹ کرتیں اور اس کے اقتدار کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اب اس پس منظر میں آٹھ ماضی میں جھانکنا ضروری ہو تو اگلور کی انتخابی عمل سے علیحدگی اور اب ہیلری کلنٹن کی شکست کا تجزیہ غیر جانبداری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے دوست علامہ فکر گنگولوی امریکی ذہانت اور ذہنیت کے بارے اکثر ایک ہی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی تہذیب و ثقافت کی تاریخ میں دوستی، تعلق اور وفاداری نہیں ان کے ہاں صرف مفادات کو اولیت حاصل ہوتی ہے اور اسی کا غلبہ ہوتا ہے۔ کسی انسان کسی حکمران کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ شاہ ایران ہو یا جنرل ضیائ الحق، ایسے کچھ اور نام بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلحہ فروشوں کے سامنے انسان صرف گاجر مولیاں یا کتے بلیاں ہوتے ہیں صرف اور صرف مفادات اور ان کی ہر صورت تکمیل ہوتی ہے۔ انسان لاکھوں ہوں یا ایک کچھ فرق نہیں پڑتا۔ بہرحال ہم بھی دنیا کے کچھ خاص میڈیا ہاؤسز کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بیوقوف اور خوش قسمت تاجر سمجھتے ہوئے اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ہم جسے راستے پر حل رہے ہیں اس میں رکاوٹ نہیں ہو گی۔ ہم بھول گئے کہ اس کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اسلحہ ساز فیکٹریوںکے غلام اور مشیر بھی ہیں۔ اب اگر اس نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کیلئے عرب کانفرنس کے بہترین موقع پر سعودی بادشاہوں کے تحائف اور بہترین کھانوں سے اپنے خاندان کے ساتھ لطف حاصل کیا ہے اور 360 ارب ڈالر کے معاہدے بھی کئے ہیں اور پھر کچھ یقین دہانیوں کے ساتھ پہلی سیدھی پرواز لیکر اسرائیل گئے ہیں تو پھر بھی ذہانت اور فطانت کے دروازے نہ کھلیں یا پھر ہمارے وزیراعظم کو غیر ضروری سمجھا جائے۔ تقریر کی بھی اجازت نہ دی جائے حالانکہ ہم نے سعودی بادشاہوں کیلئے کیا کچھ قربان نہیںکیا۔ انہیں حرمین شریفین کا محافظ بھی قرار دیا قومی دفاع میں حفاظت کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ دور کی نہیں یہ تو ابھی کل کی بات ہے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھانے کیلئے سابق آرمی چیف کے ساتھ ہزاروں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں سے استفادہ کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔ یہ دعویٰ بھی تھا کہ امت مسلمہ کی اختلافات دور کرائے جائیں گے۔ پاکستان کسی بھی اسلامی ملک کیخلاف کسی کردار میں شامل نہیں ہو گا لیکن وائے افسوس کہ مذکوہ کانفرنس نے مشرق وسطیٰ کا تمام سیاسی نقشہ ہی بدل دیا۔ ایران کو واضح نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا اس پر دہشت گردی اور اس کے تحفظ کے الزامات عائد کئے گئے۔ شام اور یمن میں مداخلت کے اشرے بھی دیے گئے۔ بات ابھی یہیں پر تھی کہ سعودی بادشاہوں سے فوائد حاصل کرنے والے ممالک نے قطر کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا عندیہ دیا کہ وہ داعش اور دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے طالبان سے مذاکرات کی بات ہوئی تھی تو اس کیلئے بھی قطر کا تذکرہ ہوا تھا۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے مذہبی نظریاتی اختلافات ہیں حالانکہ دونوں کا نظریاتی مآخذ ایک ہے۔ گویا مشرق وسطیٰ میں سیاسی تقسیم و تفریق نے پاکستان کے دروازے پر دستک دی دے کر ہمارے پالیسی سازوں کی دور اندیشی اور باریک بینی کا بھرم بھی کھول دیا ہے اور انہیں ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے جہاں سے آگے بڑھنا ممکن ہے نہ پیچھے ہٹنا۔ ایک تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ایک زمانے میں اپنے جغرافیہ کو اسلام کے قلعے کا دروازہ کہتے تھے کہ ہم سے اسلامی دنیا کا آغاز ہوتا تھا۔ پھر ایک زمانہ وہ آیا کہ ہم کو لادینی قوتوں کیخلاف افغان بھائیوں کی مدد کرنا پڑی ہیں بتایا گیا کہ افغان باقی کوہسارے باقی۔ یہ الگ بات کہ آج افغانستان ہمارے احسانات کا بدلہ چکانے کے بجائے ہمارے جغرافیہ کا سب سے بڑا دشمن بنا ہوا ہے ہمیں اپنے جغرافیہ کی حفاظت نے پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ ایران، افغانستان اور بھارت کے ساتھ ہمارے تعلق اچھے نہیں۔ بھارت اور افغانستان تو واضح دشمنی کا اظہارکرتے ہیں مگر ایران کے جوش و جذبات میں بھی وہ پرانی برادرانہ گرمجوشی باقی نہیں، نہ خوشی ہے نہ غمی۔ صاحبو! یہ وہی جغرافیہ ہے جس پر ہم کو ناز تھا دنیا نے بھی اس پر نظر کرم کی اور ہم نے بھی اس کی قیمت وصول کی۔ سی پیک بھی اسی کا جوہر ہے لیکن وہ جو ارد گرد حصار بنتے جا رہے ہیں۔ ہم ایسے آزادی کے دعویداروں کو قلعہ بند کیا جا رہا ہے۔ ذرا اس پر بھی توجہ مرکوز کی جائے، کہیں ایسا نہ ہو ہمیں اسلام کے قلعہ کو بچانا مشکل ہو جائے۔ ہم نے تو ایک بار پہلے بھی کہا تھا کہ اس خطہ میں جس تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اس میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے وزیر خارجہ کی ضرورت ہے۔ صاحب علم اور صاحب بصیرت وزیرخارجہ اور سٹیٹس مین کی۔