25 مئی 2019
تازہ ترین

اسرائیلی عزائم اورخاندانی نظام برباد کرنے کی سازش اسرائیلی عزائم اورخاندانی نظام برباد کرنے کی سازش

اسرائیل کی ریاست اپنے ہدف گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے ہر جائز وناجائز ہتھکنڈا استعمال کررہی ہے۔آپ کو علم ہوگا کہ ان کے اہداف میں سب سے پہلے مسجد اقصیٰ کا انہدام اور اس کے بعد گریٹر اسرائیل کا قیام ہے۔مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے اس کی جگہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا ہے ۔
گریٹر اسرائیل میں صرف موجودہ اسرائیل ہی نہیں بلکہ اس میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے ۔۔ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے علاقے میں ان کی حکومت رہی ہے اور انہیں ان علاقوں پر مشتمل گریٹر اسرائیل قائم کرنا ہے۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بہت پہلے اسرائیل عزائم کی نشاندہی کردی تھی ۔وہ اپنے ان اہداف کے لیے آل آئوٹ جانے کے لیے تیار ہیں۔وہ اب تک مناسب حالات کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے وہاں کے فلسطینی مسلمانوں کوکس قدر بے دخل کردیا ہے ۔ان کے لیے وہاں رہنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔آج کی سپر پاور امریکا ان کے عزائم کی تکمیل میں پیش پیش ہے۔
4مارچ 2019ء کو امریکا نے اسرائیل کے فلسطینی مشن کو اپنے سفارت خانے میں ضم کر دیا ہے۔اب امریکا اور اسرائیل دو قالب نہیں رہے بلکہ یکجان ہوچکے ہیں۔امریکا کا اصل ہدف اسرائیل کے ناپاک عزائم کی تکمیل میں اسے پوری طرح سپورٹ کرنا ہے۔اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے۔دو ریاستی نظریے کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا گیا ہے۔پہلے یہاں فلسطینیوں اور اسرائیل کے اس علاقے میں حق تسلیم کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے بہت سارے انبیاء و رسل یہاں پر دفن ہیں وغیرہ۔ اب وہ فلسطینیوں پر جس طرح ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ، یہ بہت ہی خوفناک معاملہ ہے۔دو نظریے کی ابتدا اسرائیل کی فلسطین پر قبضے کے بعد ہوئی تھی۔ شروع میں فلسطین میںیہودی آبادکاروں کی جائے پناہ کے حوالے سے مذاکرات ہوتے رہے۔ اسرائیل کی 1967ء کی جنگ میں فتح کے بعد بیانیہ کچھ یوں بدلا کہ محکوم فلسطینیوں کو اسرائیل کی ناجائز ریاست میں پناہ دی جائے گی۔
قائد اعظم  نے ایک بیان میں اسرائیل کو illegitimate child of west قرار دیا تھا۔ اسرائیلی ریاست تو جو کچھ کررہی ہے ،وہ تو کرہی رہی ہے ، افسوسناک امر یہ ہے کہ اسرائیل کے ہمسایہ عرب ریاستیں نا صرف یہ ایک ایک کرکے اس کی جھولی میں گر بلکہ فلسطینیوں سے اپنا تعلق منقطع کرتی چلی جا رہی ہیں۔اس طرح وہ اللہ کے بڑے عذاب کے مستحق بن رہے ہیں۔اسرائیل کو گریٹر اسرائیل کے حوالے سے اہل عرب سے کوئی خطرہ نہیں البتہ اس سے ہزاروں میل دور واقع پاکستان اس کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کوصرف ہوا دینے ہی نہیں بلکہ اس کی منصوبہ بندی پر عمل درآمد میں بھی اسرائیل کا واضح کردار سامنے آیا ہے۔ ہمیںاللہ کے حکم کے مطابق ہمیںایک طرف اپنی جنگی تیاری پوری رکھنی ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر ہماری اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں۔ہم اللہ کے ساتھ وفاداری کریں گے تو وہ لازماً ہماری مدد فرمائے گا۔تب امریکا کیا ، اس جیسے ہزاروں آ جائیں تو ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے۔ اللہ نے اس کا ایک اشارہ دکھایا بھی ہے کہ جو اللہ کے وفادار بنے انہیں امریکا سمیت ساری دنیا مل کر بھی نہتے ہونے کاباوجود زیر نہیں کرسکی۔لیکن ہماری آنکھیں اب بھی نہیں کھلتیں۔ اللہ نے یہ بھی دکھادیا پھر بھی ہم اللہ کے ساتھ وفاداری کی طرف نہیں آ رہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ کی مدد پر بھروسہ ہی نہیں۔
دوسری جانب خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جس طرح یہ دن منایا جارہا ہے ، ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری قوم کس طرف جارہی ہے۔ہمارے ملک کی عاقبت نا اندیش این جی اوز ہمارے معاشرتی نظام کو ختم کرنے پر آنکھیں بند کرکے عمل پیرا ہیں۔ایسی ہی ایک این جی او عورت فائونڈیشن نامی ہے جوپاکستان کے کئی بڑے شہروں میں عورت کی مادر پدر آزادی کے نام پر تقاریب منعقد کررہی ہے۔ یہ بھی ابلیس کا ایک بڑا ہتھکنڈہ ہے ۔ان تقاریب میں پدر شاہی یعنی مردکی قوامیت کا جنازہ نکالا جائے گا۔قرآن میں اللہ نے مرد کو جو مقام دیا ہے ، اس کے خلاف یہ سارا اقدام کیا جارہا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں سارے ملک میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ہمارا مطالبہ حکومت سے یہ ہے کہ وہ ایسی غیر اسلامی کارروائیوں کو بند کراکر پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ کا نمونہ بنائے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔