26 ستمبر 2018
تازہ ترین

استقامت کی روشن مثال استقامت کی روشن مثال


نواز شریف کی نااہلی کے ہنگاموں میں وہ بہت یاد آئے، مسلم لیگ کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خدا جانے اُن کا ردِ عمل کیا ہوتا؟ آج ہم صرف اُس باکمال آدمی کو یاد کرتے ہیں جو صحافتی تاریخ کا ایک باوقار ایڈیٹر تھا، تاریخ میں مجید نظامی ایسے بے مثال، منفرد اور نجیب آدمی اَمر ہوتے ہیں۔ وہ صرف تاریخ کا حصہ ہی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا ہاتھ بھی بٹاتے ہیں۔ قومیں ایسے بطلِ جلیل پر بجا طور پر فخر کر سکتی ہیں۔ مجید نظامی صحافت کے اکلوتے فخر، نجیب اور نفیس آدمی تھے۔ نظریہ پاکستان کے فلسفے کی جان، قائد کے افکار کے امین، جمہوری پاکستان کے خوابوں کی تلاش کا شوق اور قوم کو دکھوں اور مصائب سے چھٹکارے کا ذوق رکھتے تھے، اپنے عہد کے ایک زندہ جاگتے انسان جنہوں نے کہنہ سالی میں بھی صحافت کی آبرو بچانے کا عزمِ جواں دل میں پال رکھا تھا۔ مجید نظامی صرف ایک صحافی، ایک دانشور اور تحریک پاکستان کے رکن ہی نہیں وہ جہانِ دانش کی ساری جہتوں کو اپنے ذہن وفکر میں سجائے ہوئے تھے۔ بلاشبہ وہ ایک قومی اَثاثہ اور ہمارا تہذیبی ورثہ تھے۔ آمریتوں کے گھٹن زدہ اور پُرہول ماحول میں اُنہوں نے ہمیشہ اُمید کا چراغ جلائے رکھا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کے چشمۂ فیض سے اپنی پیاس بجھائی۔ مجید نظامی پانچ عشروں سے مدیر کی حیثیت سے جوت جگائے ہوئے تھے، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پرچم تلے آبروئے صحافت حمید نظامی مرحوم کی پُرجوش اور ولولہ انگیز قیادت میں تحریک پاکستان کیلئے کام کیا۔ بانیٔ پاکستان نے ایسے ہی حریت پسندوں کیلئے کہا تھا ’’یہ نوجوان اگر میرے شانہ بشانہ نہ ہوتے تو پاکستان کی تکمیل ناممکن تھی‘‘۔ مجیدنظامی نے ویسے تو زمانہ طالب علمی ہی میں کالم نویسی کا آغاز کر دیا تھا۔ انہیں صرف ایک صحافی کی حیثیت سے دیکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ وہ پاکستانیت کی عملی تصویر اور نظریہ پاکستان کی تفسیر تھے۔ 1962ء میں نوائے وقت کے مدیر کے سانحہ ارتحال کے بعد مشکل حالات میں نوائے وقت کی قیادت اور ادارت سنبھالی۔ جس شمع کو حمید نظامی نے اپنے خونِ جگر سے روشن کیا تھا برسوں تک مجید نظامی اُس کی لو تیز تر کرتے رہے۔ زندگی کے کٹھن سے کٹھن موڑ پر بھی مصلحت اور مصالحت کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ جرأت واستقامت سے پاکستانیت کا مقدمہ لڑتے رہے۔ پاکستان کے خلاف جب کسی سمت سے بھی ہرزہ سرائی ہوتی تھی اُس وقت پوری قوم مجید نظامی اور نوائے وقت کی طرف دیکھتی تھی۔ ہر پاکستانی جانتا تھا کہ مجید نظامی سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن پاکستان کے خلاف بات برداشت کرنا ان کیلئے ممکن ہی تھا۔ اس لئے آج اپنے اور پرائے ان کا نام عقیدت سے لیتے ہیں۔ صحافت کی کونسی ایسی مجلس ہے جہاں ان کی تحسین نہ کی جاتی تھی۔ نوائے وقت کی پیشانی پر ایک حدیث مبارکہ لکھی ہے ’’بہترین جہاد جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے‘‘۔ ایوبی آمریت ہو یا پھر یحییٰ کا گھناؤنا دور، ضیائی مارشل لاء ہو یا پھر مشرف کا خودکاشتہ سیاسی نظام، مجید نظامی نے ایک لمحے کیلئے بھی آمروں کو گوارا نہیں کیا۔ ہر ظالم، جابر آمر کو للکارا، مالی نقصان برداشت کئے۔ ذہنی صدمے سہے لیکن اپنے مؤقفِ صادق میں ذرہ برابر لچک نہیں دکھائی تھی۔ درحقیقت مجید نظامی کی زندگی ایک مجاہد کی زندگی تھی۔ مجید نظامی نے اپنے افکار وخیالات کے ذریعے نئی نسل کا اسلام، جمہوریت، عدل اور علامہ اقبالؒ سے رشتہ مضبوط کیا، اگر وہ اقبال کا پیغام اور اس کی تفہیم کا ادراک لوگوں میں بیدار نہ کرتے آج صورتحال بہت مختلف ہوتی۔ اس لئے نوائے وقت نے مسلم قومیت کے تصور کو ذہنوں میں نقش کر دیا، قوم کیلئے مجید نظامی کا یہ سبق تھا کہ آج نظریہ پاکستان کی پسپائی کا نہیں نظریاتی اُٹھان کا دور ہے۔ جو طبقہ  اس عہد کو نظریاتی پسپائی کا دور بنانا چاہتا ہے وہ غلطی پر ہے۔ کشمیر مجید نظامی کی زندگی کا ایک جذباتی پہلو تھا وہ اُسے ہر قیمت پر پاکستان کے نقشے میں دیکھنا چاہتے تھے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان کو اَدھورا تصور کرتے تھے۔ جب بھی فوجی آمروں نے نظامِ سیاست اور جمہوریت پر کاری ضرب لگائی مجید نظامی نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ وہ فوج کو دستور کا پابند بنانا چاہتے تھے۔ فوجی جرنیلوں نے ترغیب اور تحریص کے تمام حربے استعمال کئے لیکن ان کے پایۂ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔ مجید نظامی کے حق اور سچ کی بدولت آمروں کے علاوہ بعض جمہوری حکومتوں نے بھی نوائے وقت کے اشتہارات بند کرنے کی جسارت کی لیکن بڑے سے بڑے نقصان پر بھی انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اُن کی ثابت قدمی آج کے صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ وہ نامساعد حالات میں بھی پہاڑوں کی طرح اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ جس شخص کو اپنے نظریے، اپنی قوم، اپنے ملک اور بانیٔ پاکستان پر ایمان کی حد تک یقین ہو، بھلا اسے کون جھکا سکتا تھا۔ مجید نظامی نے جھکنا سیکھا ہی نہیں تھا وہ صرف اپنے رب کے سامنے جھکتے تھے۔ ان کی بات کا وزن تھا۔ اُن پر سیاست کار اور عشاقانِ پاکستان اعتماد کرتے تھے۔ کیونکہ مجید نظامی نے ہمیشہ پاکستان اور قائداعظم کی جماعت کو مقدم رکھا، جب وہ ہندوستان سے دوستی کی باتیں سنتے تو کڑھتے تھے وہ ہندوکے ذہن اور سوچ سے واقف تھے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر کام کیا تھا اس لیے وہ اس تحریک کے نفسیاتی پہلوؤں کو جانتے تھے۔ ہمارے ملک میں بہت کم ایسے مدیر ہیں جن میں مجید نظامی جیسی سیاسی بصیرت، یکسوئی اور نظریاتی تڑپ ہے۔ قوم پرستوں کے خلاف ہمیشہ مجید نظامی نے مورچہ لگایا۔ پاکستان کے وجود کے مخالفوں کو کبھی اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا۔ پاکستان ان کا پہلا اور آخری عشق تھا۔ وزارت، سفارت اور مفادات سے ان کا کبھی علاقہ نہیں رہا۔ مجید نظامی کا دورِ ادارت ہماری اُردو صحافت کا درخشاں اور سنہری دور تھا۔ اُنہوں نے تحریک پاکستان کی جنگ لڑی اور قومی وقار کو بلند کیا، مجید نظامی قائداعظمؒ کے  سپاہیوں کی ڈھال تھے۔ اُن کے بعد اَب کوئی دوسرا روشن ستارہ نظر نہیں آتا۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی جچتا ہی نہیں۔ سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو ہمیشہ انہیں قائد کہہ کر پکارتے تھے۔ مجید نظامی کسی ماہر جراح کی طرح بروقت سیاسی بیماریوں کا علاج کرتے رہتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد مجید نظامی اردو صحافت کے ظفر علی خان تھے۔ قائد کے قافلے کے بے لوث سپوت، وہ قوم سے محبت کرتے تھے اور قوم بھی اُن سے عقیدت رکھتی تھی۔ اس لئے نوائے وقت کی شناخت نظریہ پاکستان ہے۔ مجید نظامی ایک کردار اور رویے کا نام ہے۔ جو حُب الوطنی کی ٹکسال میں ڈھلا تھا۔ بعض کوتاہ اندیش حکمرانوں نے نوائے وقت کے اشتہار اس سوچ کے زیراثر بند کئے کہ اس طرح مجید نظامی کی سوچ بدلی جا سکے گی۔ مجید نظامی کی سوچ تو نہ بدلی جا سکی، وہ خود بدل گئے۔ اقتدار اُن سے روٹھ گیا، وہ دربدر ہو گئے۔ مجید نظامی پاکستانیت کی علامت تھے۔ افراتفری، حرص وہوس اور مفادات کے دور میں وہ مستقل مزاجی اور اصولوں پر ڈٹ جانے کی مثال تھے۔ اُنہیں خریدا نہیں جا سکتا تھا۔ مسلم لیگی جب کبھی بھٹکنے لگتے تھے تو اُن کی شخصیت رہنمائی کرتی تھی۔ مجیدنظامی ایک دبستان تھے عہد اور زمانہ تھے جو تعریفوں کے رسمی الفاظ سے بہت بلند ہوتا ہے۔ مجید نظامی کے دل کا پہلا آپریشن جنرل یحییٰ کے دور میں، دوسرا جنرل ضیاء الحق کے اور تیسرا جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا۔ ہر مارشل لاء ان کے دل کو زخم دے گیا۔ وفاداریاں بدلنے کے اس بے حس دور میں مجید نظامی استقامت کی روشن مثال تھے۔ زندہ اور باوقار قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔ اُن کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کرتی ہیں۔ ان کی زندگی سے فکری روشنی پاتی ہیں۔ اُن کی ہر ملاقات نے  میرے اندر ایک جذبہ بیدار کیا۔ پاکستان سے میرا رشتہ مضبوط اور گہرا ہوا، اللہ تعالیٰ اُن کی قبر کو روشن کرے، اُن کے افکار و نظریات ہمارے لیے مشعلِ راہ بنائے، موجودہ ملکی صورت حال میں وہ بہت یاد آتے ہیں۔ کاش کوئی اُن جیسا مردِ قلندر اُٹھے اور قومی سیاست کے خدو خال درست کرے۔