20 نومبر 2018
تازہ ترین

ادھورا نظام…! ادھورا نظام…!

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھا کہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی، ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا، فوری اس کے پاس جاپہنچی۔ بڑی نرمی سے دریافت کیا، کیا بات ہے، کیوں رورہی ہو۔۔۔؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا، میرے فیس کے پیسے چوری ہو گئے ہیں، بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لیے۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا، کمرے کا دروازہ بند کردو، کوئی باہر نہ جائے، سب کی تلاشی ہوگی۔ ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی لینے کی ہدایت کردی۔ کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس گونج اٹھی۔ ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی، کیا بات ہے؟۔ تلاشی لینے والی طالبہ بولی۔۔۔ یہ اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ ٹیچر وہیں تڑک کر بولی، پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے۔ دوسری طالبہ تڑپ کر کہنے لگی، نہیں، نہیں مس میں چور نہیں ہوں۔ چور نہیں ہو تو پھر بیگ کی تلاشی لینے دو۔ نہیں۔ طالبہ نے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا، نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی۔ ٹیچر آگے بڑھی، اس نے طالبہ سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اسے غصہ آگیا ٹیچر نے طالبہ کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ وہ طالبہ زور زور سے رونے لگ گئی۔ ٹیچر پھر آگے بڑھی، ابھی اس نے طالبہ کو دوبارہ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی، رُک جاؤ، ٹیچر نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں، نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔ انہوں نے طالبہ اور ٹیچر کو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور لوٹ گئیں۔ 
اپنے آفس میں پرنسپل نے پوچھا، کیا معاملہ ہے۔ ٹیچر نے تمام ماجرا سنادیا۔ انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا، ’’تم نے پیسے چرائے؟ اس نے نفی میں سرہلادیا۔ طالبہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ بالفرض مان بھی لیا جائے۔ پرنسپل متانت سے بولیں، تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں، تم نے انکار کیوں کیا؟ طالبہ خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔ ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا، جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھاکر اسے روک دیا۔ پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا، پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔ اس میں کیا راز ہے؟ وہ سوچنے لگیں اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔ پرنسپل نے بڑی محبت سے طالبہ کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا۔ اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کردیا۔ پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔ مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔ طالبہ کو یوں لگا، جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو، طالبہ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان، کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں تھیں۔۔۔ سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آگیا۔ وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھیں، روتی ہوئی طالبہ کو گلے لگاکر خود بھی رونے لگ گئیں۔۔۔ 
طالبہ نے بتایا، میرا کوئی بڑا بھائی نہیں، دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں، والد صاحب ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے، گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے، پنشن سے گزارا نہیں ہوتا، بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا، ناشتے میں کچھ نہ تھا، کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔ میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گزری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ایک چکن پیس پڑا دیکھا، بے اختیار اٹھاکرکھالیا۔ قریبی نل سے پانی پی کر خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔ پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا۔ ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا، اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا، ندیدوںکی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا، پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی، وہ نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا۔ میںنے اسے اپنے حالات سچ سچ بتادیے، اسے بہت ترس آیا۔ اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا، برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال کر اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پر رکھ دیتا ہے، جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور واپسی میں گھر لے جاتی ہوں۔ میرے امی ابو کو علم ہے۔ میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں۔ بہن بھائی چھوٹے ہیں، انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں۔۔۔
یہ چھوٹی سی سچی کہانی کسی بھی دردِ دل رکھنے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ سکتی ہے۔ ہم غور کریں تو ہمارے اردگرد بہت سی ایسی کہی ان کہی کہانیوں کے کردار بکھرے پڑے ہیں۔ ان سفید پوشوں کے لیے کوئی بھی جمہوری حکومت کچھ نہیں کرتی۔ ایسے پسے، کچلے، سسکتے اور بلکتے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان میں کوئی ڈکٹیٹر راج کررہا ہے یا جمہوریت کا بول بالا ہے۔ نہ جانے کتنے لاکھوں اورکروڑوں عوام کا ایک ہی مسئلہ ہے، دو وقت کی روٹی جو بلک بلک کر تھک گئے ہیں۔
اے پاکستان کے حکمرانو… خدا کے واسطے رحم کرو، غریبوں سے ہمدردی کرو، ان کو حکومت یا شہرت نہیں دو وقت کی روٹی چاہیے۔ حکمران غربت کے خاتمے کے لیے اناج سستا کر دیں تو نہ جانے کتنے لوگ خودکشی کرنے سے بچ جائیں۔ یقیناً ہم میں سے کسی نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں اور کتنے لوگ بھوک، افلاس کے باعث دانے دانے کو محتاج ہیں۔ رزق کی حرمت اور بھوکے ہم وطنوں کا احساس کرنا ہو گا۔ حکمران کچھ نہیں کرتے، نہ کریں، ہم ایک دوسرے کا خیال کریں، ایک دوسرے کے دل میں احساس اجاگر کریں، یہی اخوت کا تقاضا ہے۔ اسی طریقے سے ہم ایک دوسرے میں خوشیاں بانٹ سکتے ہیں۔ ہم مسلمانوں میں اسلام کا دیا ہوا نظام موجود ہے، جسے فلاحی ریاست کا بلند ترین تصور سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ بات ہمیشہ ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ مسلمانوں کے اکثریتی ممالک فلاحی ریاست کے نظام کو نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک فلاحی ریاست کا تصور اسلام کا دیا ہوا ہے،  کچھ غیر مسلم ممالک میں  بے روزگاروں کے لیے ریاست کی جانب بے روزگاری فنڈز مقرر ہیں، کیوںکہ یہ مغربی ریاستیں سمجھتی ہیں کہ روزگار دینا ریاست کی ذمے داری ہے، لہٰذا جب تک اس کے شہری کو روزگار نہیں ملتا، اس وقت تک باقاعدگی سے بے روزگاروں کو، حتی المقدور اتنا معاوضہ دیا جاتا ہے کہ کچرا دان سے کسی کا جھوٹا کھانا کھانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
پاکستان کو اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن سطور بالا میں درج واقعے کو پڑھنے کے بعد اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ ضرور سوچئے گا کہ کیا ستر برسوں میں کوئی ایسا سربراہ مملکت گزرا، جس نے عوام کی حالت حقیقی معنوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ان حکمرانوں سمیت تمام مسلم ممالک کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ان کا کڑا احتساب ہو گا۔ حضرت عمر فاروقؓ کا فرمان تو سب کے علم میں ہے کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھوکا پایا گیا تو اس کی باز پرس بھی مجھ سے کی جائے گی۔ کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ عوام کو درپیش مسائل کا حل، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں نہیں ہے، بلکہ آئین ساز اداروں کو ایک ایسا آئین بنانے کی ضرورت ہے جو قرآن و سنتﷺ کے مطابق ہو۔ ایک بڑے سیاسی جلسے سے بڑے ہوجانے والے لیڈر بار بار خلافت راشدہؓ کی مثالیں دیتے ہیں، لیکن ان کا اپنا طرز عمل اور جلسے میں ان کے چاہنے والوں کے انداز دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خلافت راشدہؓ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اگر قوم و مملکت کو تبدیل کر کے فلاحی ریاست کا خواب پورا کرنا ہے تو پھر اس کے مطابق پہلے اپنی شخصیت کو ڈھال کر عملی نمونہ بھی دینا ہو گا۔ پاکستان ایک نعمت ہے، لیکن خدارا یہاں ادھورے نظام کو تو نافذ مت کرو، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو۔