23 ستمبر 2018
تازہ ترین

 اداروں سے تصادم جمہوریت ہے؟  اداروں سے تصادم جمہوریت ہے؟

 موجودہ سیاسی منظر نامے میں انگریزی کے محاورے politicisation of crimes and criminalization of politics کیمطابق پاناما کیس کی انکوائری کے دوران جوڈیشنل اکیڈمی کے قرب و جوار میں حکمرانوں کے سیاسی حاشیہ نشین سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی انکوائری ٹیم کے خلاف انتہائی غیر اخلاقی زبان استعمال کرتے ہوئے سیاست کو ہی جرائم سے آلودہ کرنے میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ بظاہر اُن کا مقصد سپریم کورٹ بالخصوص جے آئی ٹی کے خلاف دھمکیوں کی زبان استعمال کرتے ہوئے ان سرکاری ملازمین کو دبا کر مبینہ طور پر اپنے حق میں فیصلہ کرانے کی کوششوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اِسی تناظر میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ موجودہ قیادت نے جے آئی ٹی کے بننے پر مٹھائیاں تقسیم کیں اور خوشیاں منائیں تھیں لیکن اب اِسی حکومت کے علمبردار نعرے لگاتے ہوئے جمِ غفیر کیساتھ جے آئی ٹی تک جاتے ہیں چنانچہ یہ وہ حکمران ہیں جو روزانہ اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں اور حکومت کیساتھ کاروبار کرتے ہیںجبکہ پورے پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ دریں اثنا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت فوری طور پر سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے ممبران کے گھروں اور اُن کے خاندانوں کی زندگی کی سلامتی کیلئے حفاظت کا مناسب بندوبست کرے تاکہ آزادانہ انکوائری ممکن ہو سکے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ اِس سے قبل 1997 میں سپریم کورٹ کے بنچ جس کی صدارت سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ مرحوم کر رہے تھے پر منظم حملہ کیا گیا تھا جس میں نواز شریف کی جماعت ملوث پائی گئی تھی۔ اُنہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے حمایتی بشمول وزرا، اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے جے آئی ٹی کے خلاف تُند و تیز بیانات دیے ہیں جس میں مبینہ طور پر جے آئی ٹی کو قصائی کی دکان اور جیمز بانڈ کی سنسنی خیز فلموں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اپوزیشن کے ایک اور معروف قانون دان اعتزاز احسن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکمران موجودہ احتجاجی مہم کے ذریعے دباؤ کا حربہ استعمال کر کے جے آئی ٹی سے اپنی حمایت میں فیصلہ کرانا چاہتی ہے جبکہ جے آئی ٹی پر دباؤ بڑھانے کیلئے سپریم کورٹ اور جوڈیشل اکیڈمی پر منظم احتجاج کیلئے سیکڑوں مسلم لیگی وکلا کے گروپوں کو دھاوا بولنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً حیران کن صورتحال ہے جس کا وزارت داخلہ کو فوری تدارک کرنا چاہیے۔ درج بالا تناظر میں برّصغیر میں سیاسی جماعتوں کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے مارچ 1948ئ میں سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے تلقین کی تھی کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کا آلۂ کار بننے کے بجائے موجودہ آئین یا مستقبل میں فریم ہونے والے آئین کے تحت اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرتے رہیں۔ اُنہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے مزید فرمایا: The government in power for the time being must also realize and understand their responsibilities that you (government servants) are not to be used for this party or that . I know we are saddled with old legacy, old mentality, old psychology and it haunts our foot steps, but it is up to you now to act as true servants of the people even at risk of any Minister or Ministry trying to interfere with you in the discharge of your duties as civil servants. ۔ البتہ قائد کی وفات کے بعد سیاسی جماعتوں اور دیگر حکمرانوں نے جناح کے ویعن کو خیر باد کہہ دیا جس کے نتیجے میں بتدریج ریاستی انتظامیہ مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت میں سیاسی طبقاتی رنگ اختیار کرتی چلی گئی۔ اِس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا بھر کے ریاستی ڈھانچوں کی طرح پاکستان کی انتظامی مشینری کی بنیاد بھی بالخصوص 1956 اور 1973 کے آئین میں قانون کی حکمرانی، معاشرتی عدل و انصاف و تعلیم کی فراہمی، صحت عامہ، تمام شہریوں سے برابری کا سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے مسلمہ آئینی و قانونی اصولوں پر ہی کی گئی تھی۔ البتہ اقتدار کی غلام گردشوں میں بے خوفی سے پلتی ہوئی دانشورانہ، انتظامی و مالیاتی کرپشن کے زور پر سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور وڈیروں کے ایک طاقتور طبقے نے بتدریج اِن پالیسی اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے جس بیدردی سے بدعنوانی، اقربا پروری و کرپشن کا بازار گرم کیا اور لوٹی ہوئی دولت کو ملک سے باہر منتقل کرنا شروع کیا اُس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔ اندریں حالات، پاکستان کے موجودہ انتظامی، سیاسی اور معاشرتی بحران کی ایک وجہ قومی فکر و جذبے سے ہٹ کر سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی تفاوت بھی ہے جسے سنجیدگی سے پاٹنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ فوج دہشت گردی اور اندرونی خلفشار کا خاتمہ کرنے کیلئے عوامی حمایت سے آپریشن ردّالفساد جاری رکھے ہوئے ہے، مغربی اور مشرقی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ کشمیر کنٹرول لائن پر بھارتی خلاف ورزیوں کا مؤثر جواب دینے کیلئے ہر دم تیار ہے اور پاکستان کی سلامتی کیلئے فوجی اہلکار، پولیس اور عوام جانوں کی بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ حکمران دشمن ممالک کی قیادت کیساتھ ذاتی دوستیاں نبھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ عوام حیران پریشان ہیں کہ اداروں کو مفلوج کرنے کی منظم کوششیں کیوں کی جا رہی ہے احتساب کا عمل محض مذاق بن کر رہ گیا ہے، عوام یونہی اپنے حقوق سلب ہوتے دیکھتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب ملک میں لٹیروں اور مفاد پرست اشرافیہ کے ایک طبقے کا گٹھ جوڑ ملک کے اقتدار اعلیٰ کو چلانے کیلئے دشمن ممالک سے ہدایت لینے سے بھی گریز نہیں کریگا۔ موجودہ منظر نامے میں عوام الناس بظاہر یہی محسوس کر رہے ہیں کہ حکمرانوں نے سیاسی ایوانوں کو تجارت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ آج کے حکمران محض دولت اور اقتدار کی غلام گردشوں میں اپنے حاشیہ نشینوں کی قانون سے ماورا بھر پور حمایت سے عوام کی رائے کو بھی ظلم و جبر، دھونس و دھاندلی اور کرپشن سے کمائی ہوئی دولت سے خریدنے کیلئے تو متحرک ہیں لیکن عوام کو اقتدار میں شریک کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ عام انتخابات میں متوسط طبقے جس کا شمار کسی بھی جمہوریت میں ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ہوتا ہے عملاً سیاسی منظر نامے سے غائب ہو چکا ہے اور اِس جمہوری کور کی جگہ سرمایہ داروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور اُن کے مسلح ایجنٹوں نے بخوبی لے لی ہے چنانچہ پارلیمنٹ عوامی مفاد کے قوانین بنانے سے بہت حد تک محروم ہو چکی ہے۔ حیرت ہے کہ حکمران پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کی موجودگی میں قومی اُمنگوں کیمطابق قومی یکجہتی کیلئے کام کرنے کے بجائے عوام الناس کو مختلف طبقوں میں تقسیم کرنے اور اداروں سے تصادم کی پالیسی پر بدستور قائم نظر آتے ہیں۔ ماضی میں وفاق اور صوبوں میں وزارت اطلاعات و نشریات قومی پالیسیوں اور بجٹ کی تشہیر کیلئے حکومتی خبریں عوام تک پہنچانے کیلئے پریس میڈیا سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے لیکن اب یہ کام اربوں روپے خرچ کر کے بیش قیمت اشتہاروں سے لیا جا رہا ہے جبکہ عوامی فلاح و بہبود بشمول صحت عامہ اور تعلیم عدم توجہی کا شکار نظر آتے اور حیران کن طور پر اِن وزارتوں کو عوام کی ڈِس انفارمیشن کیلئے حکمرانوں کی ذاتی تشہیر کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ پاناما کیس گو کہ حکمران فیملی کا ذاتی کیس ہے لیکن وزرا اور مشیران وغیرہ کی فوج ظفر موج سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے میں دن رات مصروف نظر آتے ہیں۔ اِس کی ایک حالیہ مثال جے آئی ٹی میں حسین نواز شریف کی پیشی کے موقع پر ایمبولینس کی جوڈیشل اکیڈمی آمد کے موقع ہوئی جب گزشتہ ایک ہفتے تک اِسے حکمران خاندان کی تذلیل کے معنوں میں استعمال کیا گیا جبکہ ایک صحافی کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ ایمبولینس تو ایک وفاقی وزیر کی جانب سے حفظِ ما تقدم کے طور پر بھیجی گئی تھی۔ اِسی طرح جوڈیشل اکیڈمی میں حسین نواز کی ایک تصویر کی اشاعت کو قضیہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ موجودہ حالات میں بقول شاعر یہی کہا جا سکتا ہے جو چاہو سو آپ کرو ہو ہم کو عبث بدنام کیا۔